ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 28

فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِیۡہَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡہَا حَتّٰی یُؤۡذَنَ لَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ قِیۡلَ لَکُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ہُوَ اَزۡکٰی لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸﴾
پھر اگر تم ان میں کسی کو نہ پائو تو ان میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ تمھیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس چلے جائو تو واپس ہوجائو، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اسے خوب جاننے والا ہے۔ En
اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو۔ یہ تمہارے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے
En
اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزه ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ { فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا:} یعنی اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اس سے تمھارے لیے بغیر اجازت وہاں داخلہ جائز نہیں ہو جاتا۔ ہر آدمی جس طرح اپنی ذاتی حالتوں میں سے بعض حالتوں پر کسی کا مطلع ہونا پسند نہیں کرتا اسی طرح وہ اپنی بعض چیزوں پر بھی کسی کے مطلع ہونے کو پسند نہیں کرتا اور عین ممکن ہے کہ بلااجازت گھس جانے سے تم پر چوری یا خیانت کا الزام لگ جائے اور جھگڑا پیدا ہو جائے۔ ہاں، اگر اس نے اجازت دے رکھی ہو کہ میں گھر میں نہ ہوں تو تم آ جاؤ تو وہاں جانے میں کوئی حرج نہیں۔
➋ { وَ اِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا:} یعنی اگر تمھیں واپس جانے کے لیے کہا جائے تو واپس ہو جاؤ، نہ غصہ کرو، نہ کبر کی وجہ سے تنگی یا بے عزتی محسو س کرو، کیونکہ گھر والے نے تمھارا کوئی ایسا حق نہیں روکا جو اس پر واجب ہو، وہ اجازت کا اختیار رکھتا ہے، چاہے دے یا نہ دے، لوگوں کے اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں، کسی کو کیا خبر کہ کوئی کس حال میں ہے۔
➌ { هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ:} یعنی تمھارا واپس آ جانا تمھارے لیے زیادہ عزت اور پاکیزگی کا باعث ہے، کیونکہ اس طرح تم کسی کے دروازے پر کھڑے رہنے کی بے قدری سے بچ جاؤ گے، واپس چلے آنے سے صاحب خانہ کے دل میں تمھاری حیا ہو گی اور سب سے بڑھ کر اللہ کی طرف سے اجر ہے۔
➍ { وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ:} اس میں جاسوسی یا کسی بری نیت سے کسی گھر میں داخل ہونے پر وعید ہے۔
➎ طبری نے بعض مہاجرین سے نقل کیا ہے کہ میری ساری عمر یہ آرزو رہی ہے کہ میں کسی کے گھر جاؤں اور اندر سے مجھے یہ جواب ملے کہ واپس چلے جاؤ اور میں واپس چلا آؤں، تاکہ مجھے اس آیت پر کم از کم ایک مرتبہ تو عمل کرنے کی سعادت نصیب ہو جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ تو جب تک تمہیں اجازت [35] نہ ہے اس میں داخل نہ ہونا۔ اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آؤ [36]۔ یہ تمہارے لئے زیاد پاکیزہ طریقہ ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
[35] یعنی جب گھر والوں میں سے کوئی شخص بھی گھر میں موجود نہ ہو اس وقت ہرگز کسی دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس طرح ایک دوسرے کے متعلق کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں اور وہ الزام تراشی سے بڑھ کر معاملہ تنازعہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے اس سے استثناء کی صورت صرف یہ ہے کہ صاحب خانہ خود ہی کسی ملاقاتی کو اپنے کمرہ وغیرہ میں یہ کہہ کر بٹھا جائے کہ تھوڑی دیر انتظار کرو۔ میں ابھی واپس آتا ہوں۔ اور اس طرح کی اجازت کی بھی کئی صورتیں ممکن ہیں۔
[36] ایسی اجازت لینے کی حد تین بار ہے۔ ممکن ہے پہلی بار اور دوسری بار اجازت کی بات کو صاحب خانہ سن ہی نہ پائے۔ یا وہ اپنے کسی کام میں سخت مشغول ہو اور اتنی جلدی دروازہ تک آہی نہ سکتا ہو۔ لہٰذا تین بار اجازت کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اجازت تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد طلب کرنا چاہئے اور اگر تین بار اجازت طلب کرنے پر بھی اندر سے کوئی جواب نہ ملے تو ملاقات یا داخلہ کے لئے مزید اصرار نہ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
اگر تیسری بار بھی اذن نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہیے :۔
ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ ابو موسیٰ اشعری آئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دوڑے ہوئے اور گھبرائے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے: ”میں حضرت عمرؓ کے ہاں گیا تھا میں نے تین بار اذن مانگا مگر مجھے اذن نہیں ملا آخر میں لوٹ گیا۔“ پھر مجھے حضرت عمرؓ نے پوچھا: ”تم کھڑے کیوں نہ رہے؟“ (انتظار کیوں نہ کیا؟) ابو موسیٰ اشعری کہنے لگے: ”میں نے تین بار اذن مانگا اور مجھے اذن نہ ملا تو میں لوٹ آیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص تین بار اذن مانگنے پر اسے اذن نہ دیا جائے۔ تو لوٹ آئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ: اللہ کی قسم! تجھے اس حدیث پر کوئی گواہ لانا ہو گا“ اب بتلاؤ کیا تم سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے“ حضرت ابی بن کعب کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ وہ آدمی شہادت دے گا جو ہم سب میں جھوٹا ہو“ اور ان سب میں جھوٹا میں ہی تھا۔ چنانچہ میں ابو موسیٰ اشعری کے ساتھ گیا اور حضرت عمرؓ کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ایسا فرمایا ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ اس سے حضرت عمرؓ کا ارادہ محض حدیث کا توثیق تھا۔ یہ نہیں کہ وہ خبر راہ کو درست نہ سمجھتے تھے۔ [بخاری۔ کتاب الا ستیعان۔ باب التسلیم والاستیذان ثلثاً]
اور اگر صاحب خانہ دروازہ وغیرہ کھٹکھٹانے پر پوچھے کہ کون ہے؟ تو ایسے واضح الفاظ میں اپنا تعارف کرانا یا نام بتلانا چاہئے جس سے صاحب خانہ کو علم ہو جائے کہ فلاں شخص داخلہ کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں واضح ہے۔
اذن لینے کا طریقہ :۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قرضہ کے سلسلہ میں بات کرنے کے لئے حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازے پر کھٹکھٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر سے) پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا ”میں ہوں“ آپ نے فرمایا: ”میں تو میں بھی ہوں“ گویا آپ نے (نام بتانے کے بجائے) میں ہوں کہنے کو برا سمجھا۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
2۔ اور اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیرونی دروازہ کے بالکل سامنے نہ کھڑا ہو۔ جبکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ جب صاحب خانہ یا اس کا ملازم یا کوئی اور گھر کا فرد دروازہ کھولے تو اجازت ملنے سے پہلے ہی ملاقاتی کی نظر اندر تک نہ چلی جائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ: ”جب نگاہ اندر چلی گئی تو پھر اذن کا مقصد ہی فوت ہو گیا۔“ [ابوداؤد۔ کتاب الادب۔ باب فی الاستیذان]
3۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”نظر بازی کی وجہ سے ہی تو اذن کا حکم دیا گیا ہے۔“ [مسلم۔ کتاب الآداب۔ باب تحریم النظر فی بیت غیرہ]
4۔ اور نظر بازی یا کسی کے گھر میں جھانکنا بہت بڑا گناہ ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کوئی شخص تمہارے مکان میں جھانکے اور تم کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ [بخاری۔ کتاب الایات باب من اطلع فی بیت قوم فتؤاعینه]
یعنی اگر کوئی شخص ایسے بد نظر شخص کی آنکھ پھوڑ بھی دے تو اس کا قصاص وغیرہ کچھ نہ ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
{ میں نے تین بار اجازت چاہی جب جواب نہ آیا تو میں اس حدیث پر عمل کرکے واپس لوٹ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر کسی گواہ کو پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کر انصار کے ایک مجمع میں پہنچے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کسی نے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سنا ہو تو میرے ساتھ چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دے۔‏‏‏‏
انصار نے کہا یہ مسئلہ تو عام ہے بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہم سب نے سنا ہے ہم اپنے سب سے نوعمر لڑکے کو تیرے ساتھ کر دیتے ہیں، یہی گواہی دے آئیں گے۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت افسوس کرنے لگے کہ بازاروں کے لین دین نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2026]‏‏‏‏
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی۔ فرمایا: { السلام علیکم ورحمۃ اللہ! } سعد رضی اللہ عنہ نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تو کہہ دیا لیکن ایسی آواز سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سنیں۔ چنانچہ تین بار یہی ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے، آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے لیکن اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنیں نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹ چلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لپکے ہوئے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تمام آوازیں میرے کانوں میں پہنچ رہی تھیں۔ میں نے ہر سلام کا جواب بھی دیا لیکن اس خیال سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بہت ساری لوں اور زیادہ برکت حاصل کروں کہ جواب اس طرح نہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلئے! تشریف رکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشمش لا کر رکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمائیں اور فارغ ہو کر فرمانے لگے { تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا۔ فرشتے تم پر رحمت بھیج رہے ہیں، تمہارے ہاں روزے داروں نے روزہ کھولا }۔ ۱؎ [مسند احمد:138/3:حسن]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ جواب دیا تو ان کے لڑکے سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت کیوں نہیں دیتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خاموش رہو دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سلام کہیں گے، ہمیں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ملے گی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی ایک چادر پیش کی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم مبارک پر لپیٹ لی، پھر ہاتھ اٹھا کر سعد رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی کہ { اے اللہ سعد بن عبادہ کی آل پر اپنے درود و رحمت نازل فرما }۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں کھانا تناول فرمایا جب واپس جانے کا ارادہ کیا تو سعد رضی اللہ عنہا اپنے گدھے پر پالان کس لائے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے پیش کیا اور اپنے لڑکے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ یہ ساتھ چلے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { قیس آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ }۔ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تو یہ نہ ہو سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دو باتوں میں سے ایک تمہیں ضرور کرنی ہوگی یا تو میرے ساتھ اس جانور پر سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ }، قیس رضی اللہ عنہ نے واپس جانا منظور کر لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5185،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
یہ یاد رہے کہ اجازت مانگنے والا گھر کے دروازے کے بالمقابل کھڑا نہ رہے بلکہ دائیں بائیں قدرے کھسک کے کھڑا رہے۔ کیونکہ ابوداؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے ہاں جاتے تو اس کے دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ ادھر یا ادھر قدرے دور ہو کر زور سے سلام کہتے اس وقت تک دروازوں پر پردے بھی نہیں ہوتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5186،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے دروازے کے سامنے ہی کھڑے ہو کر ایک شخص نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعلیم دی کہ { نظر نہ پڑے اسی لیے تو اجازت مقرر کی گئی ہے۔ پھر دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر آواز دینے کے کیا معنی؟ یا تو ذرا سا ادھر ہو جاؤ یا ادھر } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5174،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی تیرے گھر میں تیری اجازت کے بغیر جھانکنے لگے اور تو اسے کنکر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھے کوئی گناہ نہ ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6902]‏‏‏‏
{ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے والد مرحوم کے قرضے کی ادائیگی کے فکر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، دروازہ پر دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { کون صاحب ہیں؟ } جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں میں } گویا آپ نے ناپسند فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6250]‏‏‏‏
کیونکہ میں کہنے سے یہ تو معلوم نہیں ہوسکتا کون ہے جب تک کے نام یا مشہور کنیت نہ بتائی جائے میں تو ہر شخص اپنے لیے کہہ سکتا ہے۔ پس اجازت طلبی کا اصلی مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ «الِاسْتِئْذَانُ» ، «الِاسْتِئْنَاسُ» ایک ہی بات ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے «تَسْتَأْنِسُوا» کاتبوں کی غلطی ہے۔ «تَسْتَأْذِنُوا» لکھنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہی قرأت تھی اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی بھی۔ لیکن یہ بہت غریب ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اپنے مصحف میں «حَتَّى تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا وَتَسْتَأْذِنُوا» ہے۔
صفوان بن امیہ جب مسلمان ہوگئے تو ایک مرتبہ کلدہ بن حنبل کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ آپ اس وقت وادی کے اونچے حصے میں تھے یہ سلام کئے بغیر اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوٹ جاؤ، اور کہو السلام علیکم کیا میں آؤں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5176،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا اور کہنے لگا میں اندر آ جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سے فرمایا: { جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ پہلے تو سلام کرے پھر دریافت کرے }۔ اس شخص نے یہ سن لیا اور اسی طرح سلام کر کے اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور وہ اندر گئے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5177،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25917:مرسل]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { کلام سے پہلے سلام ہونا چاہیئے }۔ یہ حدیث ضعیف ہے، ترمذی میں موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2699،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آ رہے تھے لیکن دھوپ کی تاب نہ لا سکے تو ایک قریشی کی جھونپڑی کے پاس پہنچ کر فرمایا السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں اس نے کہا سلامتی سے آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر یہی کہا اس نے پھر یہی جواب دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں جل رہے تھے کبھی اس قدم پر سہارا لیتے، کبھی اس قدم پر، فرمایا یوں کہو کہ آ جاؤ، اب آپ رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چار عورتیں گئیں، اجازت چاہی کہ کیا ہم آ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نہیں! تم میں جو اجازت کا طریقہ جانتی ہو اسے کہو کہ وہ اجازت لے۔‏‏‏‏ تو ایک عورت نے پہلے سلام کیا، پھر اجازت مانگی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی، پھر یہی آیت پڑھ کر سنائی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اپنی ماں اور بہنوں کے پاس بھی جانا ہو تو ضرور اجازت لے لیا کرو۔‏‏‏‏
{ انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بعض دفعہ گھر میں اس حالت میں ہوتی ہوں کہ اس وقت اگر میرے باپ بھی آجائیں یا میرا اپنا لڑکا بھی اس وقت آ جائے تو مجھے برا معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ اس وقت کسی کی بھی نگاہ مجھ پر پڑے تو میں ناخوش نہ ہوؤں۔ اور گھر والوں میں سے کوئی آہی جاتا ہے اس وقت یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25921:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین آیتیں ہیں کہ لوگوں نے ان پر عمل چھوڑ رکھا ہے ایک تو یہ کہ اللہ فرماتا ہے ’ تم میں سے سب سے زیادہ بزرگی والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھتا ہو ‘۔ اور لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سب سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ امیر ہو، اور ادب کی آیتیں بھی لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔‏‏‏‏ عطار حمۃ اللہ علیہ نے پوچھا۔ میرے گھر میں میری یتیم بہنیں ہیں جو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور میں ہی انہیں پالتا ہوں کیا ان کے پاس جانے کے لیے بھی مجھے اجازت کی ضرورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں ضرور اجازت طلب کیا کرو، میں نے دوبارہ یہی سوال کیا کہ شاید کوئی رخصت کا پہلو نکل آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم انہیں ننگا دیکھنا پسند کرو گے؟ میں نے کہا نہیں فرمایا پھر ضرور اجازت مانگا کرو۔‏‏‏‏ میں نے یہی سوال دوہرایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تو اللہ کا حکم مانے گا یا نہیں؟ میں نے کہا ہاں مانوں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر بغیر اطلاع ہرگز ان کے پاس بھی نہ جاؤ۔‏‏‏‏
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں محرمات ابدیہ پر ان کی عریانی کی حالت میں نظر پڑ جائے اس سے زیادہ برائی میرے نزدیک اور کوئی نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اپنی ماں کے پاس بھی گھر میں بغیر اطلاع کے نہ جاؤ۔ عطا رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیوی کے پاس بھی بغیر اجازت کے نہ جائے؟ فرمایا یہاں اجازت کی ضرورت نہیں۔‏‏‏‏ یہ قول بھی محمول ہے اس پر کہ اس سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں لیکن تاہم اطلاع ضرور ہونی چاہیئے ممکن ہے وہ اس وقت ایسی حالت میں ہو کہ وہ نہیں چاہتی کہ خاوند بھی اس حالت میں اسے دیکھے۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب میرے پاس گھر میں آتے تو کھنکار کر آتے۔ کبھی بلند آواز سے دروازے کے باہر کسی سے باتیں کرنے لگتے تاکہ گھر والوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہو جائے۔‏‏‏‏ چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ نے «تَسْتَأْنِسُوا» کے معنی بھی یہی کئے ہیں کہ کھنکار دے یا جوتیوں کی آہٹ سنا دے۔
ایک حدیث میں ہے کہ { سفر سے رات کے وقت بغیر اطلاع گھر آجانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ اس سے گویا گھر والوں کی خیانت کا پوشیدہ طور پر ٹٹولنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801]‏‏‏‏
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک سفر سے صبح کے وقت آئے تو حکم دیا کہ { بستی کے پاس لوگ اتریں تاکہ مدینے میں خبر مشہور ہو جائے، شام کو اپنے گھروں میں جانا، اس لیے کہ اس اثناء میں عورتیں اپنی صفائی ستھرائی کر لیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5245]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سلام تو ہم جانتے ہیں لیکن «اسْتِئْنَاسُ» کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «سُبْحَانَ اللَّهِ» ‏‏‏‏ یا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یا «اﷲ اَکْبَر» بلند آواز سے کہہ دینا یا کھنکار دینا جس سے گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں آ رہا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3707،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین بار کی اجازت اس لیے مقرر ہے کی ہے کہ پہلی دفعہ میں تو گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں ہے۔ دوسری دفعہ میں وہ سنبھل جائیں اور ہوشیار ہو جائیں۔ تیسری مرتبہ میں اگر وہ چاہیں اجازت دیں چاہیں منع کردیں۔ جب اجازت نہ ملے پھر دروازے پر ٹھہرا رہنا برا ہے، لوگوں کو اپنے کام اور اشغال ایسے ضروری ہوتے ہیں کہ وہ اس وقت اجازت نہیں دے سکتے۔‏‏‏‏
مقاتل میں حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں دستور نہ تھا، ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن سلام نہ کرتے تھے۔ کسی کے ہاں جاتے تھے تو اجازت نہیں لیتے تھے یونہی جا دھمکے پھر کہہ دیا کہ میں آ گیا ہوں۔ تو بسا اوقات یہ گھر والے پر گراں گزرتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر میں کبھی ایسے حال میں ہوتا ہے کہ اس میں اس کا آنا بہت برا لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام برے دستور اچھے آداب سکھا کر بدل دئیے۔
اسی لیے فرمایا کہ ’ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس میں مکان والے کو آنے والے کو دونوں کو راحت ہے۔ یہ چیزیں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کی ہیں۔ اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو بے اجازت اندر نہ جاؤ۔ کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف کرنا ہے جو ناجائز ہے۔ مالک مکان کو حق ہے اگر وہ چاہے اجازت دے، چاہے روک دے۔ اگر تمہیں کہا جائے، لوٹ جاؤ تو تمہیں واپس چلا جانا چاہے۔ اس میں برا ماننے کی بات نہیں بلکہ یہ تو بڑا ہی پیارا طریقہ ہے ‘۔
بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم اجمعین افسوس کیا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی پوری عمر میں اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقعہ نہیں ملا کہ کوئی ہم سے کہتا لوٹ جاؤ اور ہم اس آیت کے ماتحت وہاں سے واپس ہو جاتے، اجازت نہ ملنے پر دروازے پر ٹھہرے رہنا بھی منع فرما دیا۔ اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ یہ آیت اگلی آیت سے مخصوص ہے اس میں ان گھروں میں بلا اجازت جانے کی رخصت ہے جہاں کوئی نہ ہو اور وہاں اس کا کوئی سامان وغیرہ ہو۔ جیسے کہ مہمان خانہ وغیرہ۔ یہاں جب پہلی مربتہ اجازت مل گئی پھر ہربار کی اجازت ضروری نہیں۔ تو گویا یہ آیت پہلی آیت سے استثنا ہے۔ اسی طرح کی ایسے تاجروں کے گودام مسافر خانے وغیرہ۔ اور اول بات زیادہ ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ زید کہتے ہیں مراد اس سے بیت الشعر ہے۔