وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡکُمۡ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤۡتُوۡۤا اُولِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۪ۖ وَ لۡیَعۡفُوۡا وَ لۡیَصۡفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھا لیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
En
اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
En
تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیئے، بلکہ معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہیئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے؟ اللہ قصوروں کو معاف فرمانے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22) ➊ {وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ …: ” وَ لَا يَاْتَلِ “ ” أَلِيَّةٌ “} (بروزن {فَعِيْلَةٌ،} بمعنی قسم) میں سے باب افتعال {”اِئْتَلٰي يَأْتَلِيْ“} میں سے نہی غائب ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت (۲۲۶): «{ لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ }» میں {” يُؤْلُوْنَ “} باب افعال میں سے ہے۔ سورۂ نور کی آیت (۱۱) میں صحیح بخاری کی حدیث (۴۷۵۰) گزر چکی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان لگانے والوں میں مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے تھے (بعض نے انھیں خالہ زاد بھی کہا ہے)، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قرابت اور ان کے فقر کی وجہ سے ان کا وظیفہ مقرر کر رکھا تھا، جب مسطح نے یہ بات کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ وظیفہ بند کر دیا، لیکن جب یہ آیت اتری اور اس میں یہ الفاظ آئے: «{ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ }» ”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے؟“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا، کیونکہ نہیں، میں تو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔ چنانچہ انھوں نے وہ وظیفہ دوبارہ جاری کر دیا اور کہا، میں اس میں کبھی کمی نہیں کروں گا۔
➋ پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے تو اگر اہلِ افک اس گناہ میں مبتلا ہوئے ہیں اور تم اس سے محفوظ رہے ہو تو اس میں تمھارا کچھ کمال نہیں، یہ محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اس لیے جب بہتان لگانے والے تائب ہو چکے، انھیں اس کی سزا بھی مل چکی تو ان کی غلطی ہی پر نظر نہ رکھو، بلکہ ان سے حُسن سلوک کے اسباب پر بھی نگاہ رکھو، جن میں سے ہر سبب کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھیں برتری اور وسعت دی ہے اس میں سے انھیں بھی دیتے رہو۔ ان حُسن سلوک کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت دار ہونا ہے، دوسرا مسکین اور تیسرا مہاجر فی سبیل اللہ ہونا ہے۔ تینوں سبب جمع ہیں تو ان کا حق انھیں بالاولیٰ دینا چاہیے۔
➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرتد ہونے کے سوا دوسرے گناہوں سے کسی شخص کے اعمال صالحہ بالکل ختم نہیں ہو جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کے باوجود اہل افک میں سے مہاجرین کی ہجرت کی قدر افزائی فرمائی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔
➍ {وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا:” وَ لْيَعْفُوْا “ ”عَفَا يَعْفُوْ“} کا معنی مٹانا ہے، کہا جاتا ہے: {”عَفَتِ الرِّيْحُ الْأَثَرَ“} ”ہوا نے قدموں کا نشان مٹا دیا۔“ یعنی ان کی لغزش کا خیال دل سے مٹا دیں اور اس پر پردہ ڈال دیں۔ {” وَ لْيَصْفَحُوْا “} بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ {”صَفْحَةُ الْعُنُقِ“} (گردن کا کنارہ) سے مشتق ہے، یعنی ان کے برے سلوک سے اس طرح درگزر کرو جیسے تم نے ان سے گردن کا کنارا پھیر لیا ہے۔ عفو و درگزر کا یہ حکم سورۂ آل عمران (۱۳۴)، نساء (۱۴۹)، حجر (۸۵)، شوریٰ (۴۳) اور دیگر کئی آیات میں آیا ہے۔ (اضواء البیان)
➎ { اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ:} اس کی شان نزول اوپر بیان ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ گار مسلم کو معاف کرنا اور اس سے درگزر کرنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ تم بخشو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بخشے گا، تم درگزر کر وگے تو اللہ تعالیٰ تم سے درگزر فرمائے گا، جیسا عمل کرو گے ویسی جزا پاؤ گے۔
➏ یہ آیت دلیل ہے کہ نیکی نہ کرنے کی قسم کھانا جائز نہیں، ایسی قسم کا کفارہ دے کر وہ نیکی کر لینی چاہیے۔ اسی طرح اگر قسم کا پورا نہ کرنا بہتر ہو تو اس کا بھی کفارہ دے کر بہتر کام کرنا چاہیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حَلَفَ عَلٰی يَمِيْنٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَّمِيْنِهِ وَلْيَفْعَلْ] [ترمذي، النذور والأیمان، باب ما جاء في الکفارۃ قبل الحنث: ۱۵۳۰، و قال الألباني صحیح]”جو شخص کسی کام پر قسم کھائے، پھر اس کے علاوہ کو بہتر سمجھے تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور (بہتر کام) کر لے۔“
➋ پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے تو اگر اہلِ افک اس گناہ میں مبتلا ہوئے ہیں اور تم اس سے محفوظ رہے ہو تو اس میں تمھارا کچھ کمال نہیں، یہ محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اس لیے جب بہتان لگانے والے تائب ہو چکے، انھیں اس کی سزا بھی مل چکی تو ان کی غلطی ہی پر نظر نہ رکھو، بلکہ ان سے حُسن سلوک کے اسباب پر بھی نگاہ رکھو، جن میں سے ہر سبب کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھیں برتری اور وسعت دی ہے اس میں سے انھیں بھی دیتے رہو۔ ان حُسن سلوک کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت دار ہونا ہے، دوسرا مسکین اور تیسرا مہاجر فی سبیل اللہ ہونا ہے۔ تینوں سبب جمع ہیں تو ان کا حق انھیں بالاولیٰ دینا چاہیے۔
➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرتد ہونے کے سوا دوسرے گناہوں سے کسی شخص کے اعمال صالحہ بالکل ختم نہیں ہو جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کے باوجود اہل افک میں سے مہاجرین کی ہجرت کی قدر افزائی فرمائی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔
➍ {وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا:” وَ لْيَعْفُوْا “ ”عَفَا يَعْفُوْ“} کا معنی مٹانا ہے، کہا جاتا ہے: {”عَفَتِ الرِّيْحُ الْأَثَرَ“} ”ہوا نے قدموں کا نشان مٹا دیا۔“ یعنی ان کی لغزش کا خیال دل سے مٹا دیں اور اس پر پردہ ڈال دیں۔ {” وَ لْيَصْفَحُوْا “} بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ {”صَفْحَةُ الْعُنُقِ“} (گردن کا کنارہ) سے مشتق ہے، یعنی ان کے برے سلوک سے اس طرح درگزر کرو جیسے تم نے ان سے گردن کا کنارا پھیر لیا ہے۔ عفو و درگزر کا یہ حکم سورۂ آل عمران (۱۳۴)، نساء (۱۴۹)، حجر (۸۵)، شوریٰ (۴۳) اور دیگر کئی آیات میں آیا ہے۔ (اضواء البیان)
➎ { اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ:} اس کی شان نزول اوپر بیان ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ گار مسلم کو معاف کرنا اور اس سے درگزر کرنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ تم بخشو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بخشے گا، تم درگزر کر وگے تو اللہ تعالیٰ تم سے درگزر فرمائے گا، جیسا عمل کرو گے ویسی جزا پاؤ گے۔
➏ یہ آیت دلیل ہے کہ نیکی نہ کرنے کی قسم کھانا جائز نہیں، ایسی قسم کا کفارہ دے کر وہ نیکی کر لینی چاہیے۔ اسی طرح اگر قسم کا پورا نہ کرنا بہتر ہو تو اس کا بھی کفارہ دے کر بہتر کام کرنا چاہیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حَلَفَ عَلٰی يَمِيْنٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَّمِيْنِهِ وَلْيَفْعَلْ] [ترمذي، النذور والأیمان، باب ما جاء في الکفارۃ قبل الحنث: ۱۵۳۰، و قال الألباني صحیح]”جو شخص کسی کام پر قسم کھائے، پھر اس کے علاوہ کو بہتر سمجھے تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور (بہتر کام) کر لے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22-1حضرت مسطح، جو واقعہ افک میں ملوث ہوگئے تھے، فقرائے مہاجرین میں سے تھے، رشتے میں حضرت ابوبکر صدیق کے خالہ زاد تھے، اسی لئے ابوبکر ان کے کفیل اور معاش کے ذمے دار تھے، جب یہ بھی حضرت عائشہ ' کے خلاف مہم میں شریک ہوگئے تو ابوبکر صدیق کو سخت صدمہ پہنچا، جو ایک فطری عمل تھا چناچہ نزول براءت کے بعد غصہ میں انہوں نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ ابوبکر صدیق کی یہ قسم، جو اگرچہ انسانی فطرت کے مطابق ہی تھی، تاہم مقام صدیق تم اس سے بلند تر کردار کا متقاضی تھا، اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی اور یہ آیت نازل فرمائی، جس میں بڑے پیار سے ان کی اس عاجلانہ بشری اقدام پر انھیں متنبہ فرمایا کہ تم سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیاں معاف فرماتا رہے۔ تو پھر تم بھی دوسروں کے ساتھ اسی طرح معافی اور درگزر کا معاملہ کیوں نہیں کرتے؟ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیاں معاف فرما دے؟ یہاں انداز بیان اتنا موثر تھا کہ اسے سنتے ہی ابوبکر صدیق بےساختہ پکار اٹھے ' کیوں نہیں اے ہمارے رب! ہم ضرور یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں معاف فرما دے ' اس کے بعد انہوں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر کے حسب سابق مسطح کی مالی سرپرستی شروع فرما دی (فتح القدیر)، ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ اور تم میں سے آسودہ حال لوگوں کو یہ قسم نہ کھانا چاہئے کہ وہ قرابت داروں، [27] مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ (صدقہ وغیرہ) نہ دیں گے۔ انھیں چاہئے کہ وہ ان کو معاف کر دیں اور ان سے درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔ [27۔1] اور اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
[27] سیدنا ابو بکر کا وظیفہ بند کرنے پر قسم کھانا:۔
حضرت عائشہؓ کے مفصل بیان والی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ مسطح بن اثاثہ ان سادہ لوح مسلمانوں میں سے تھے جو اس فتنہ کی رو میں بہہ گئے تھے۔ یہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور محتاج تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ انھیں گزر اوقات کے لئے کچھ ماہوار وظیفہ بھی دیا کرتے تھے۔ جب یہ بھی تہمت لگانے والوں میں شامل ہو گئے تو حضرت ابو بکر صدیقؓ کو ان سے رنج پہنچ جانا ایک فطری امر تھا۔ جس نے بھلائی کا بدلہ برائی سے دیا تھا۔ چنانچہ آپ نے قسم کھا لی کہ آئندہ ایسے احسان فراموش کی کبھی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس سے ایسے لوگوں سے بھی عفو و درگزر کی تلقین کی گئی۔ چنانچہ آپ نے فوراً اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور فرمایا: ”پروردگار! ہم ضرور چاہتے ہیں کہ تو ہمیں معاف کر دے۔“ چنانچہ آپ نے دوبارہ مدد کا سلسلہ جاری رکھنے کا عہد کیا بلکہ پہلے سے زیادہ مدد کرنے لگے۔
[27۔ 1]
[27۔ 1]
معاف اس لیے کرنا چاہیے کہ اللہ ہمیں معاف کرے:۔
گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ایک بڑا بلند اصول مد نظر رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے یعنی کسی کو معاف کرتے وقت انھیں یہ نہ سوچنا چاہئے کہ اس کا میرے ساتھ برتاؤ کیسا رہا ہے۔ بلکہ اس لئے معاف کرنا چاہئے کہ اللہ انھیں معاف فرمائے گا۔ اور یہ ایسی ضرورت ہے جس کی ہر شخص کو ہر حال میں ضرورت ہوتی ہے۔ دوری قابل ذکر بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے امداد تو جاری کر دی۔ مگر کیا قسم کا کفارہ بھی ادا کیا تھا؟ اس بات کا یہاں ذکر تک نہیں آیا۔ لہٰذا بعض علماء کا خیال ہے کہ اچھے کام کو اختیار کر لینا ہی قسم کا کفارہ ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کا خیال ہے اور سورۃ مائدہ میں قسموں کے کفارہ کا حکم نازل ہونے کے بعد قسم کا کفارہ ادا کرنا بھی ضروری ہے اور دلیل مزید کے طور پر درج ذیل حدیث پیش کرتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ: آپ نے فرمایا: ”میں تو اللہ کی قسم! جو اللہ چاہے جب کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں۔ پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو کام بہتر معلوم ہوتا ہے وہ کر لیتا ہوں۔“ [بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الاستثناء فی الایمان]
لہٰذا بہتر صورت یہی ہے کہ ایسی قسم کا کفار بھی ادا کر دیا جائے۔
لہٰذا بہتر صورت یہی ہے کہ ایسی قسم کا کفار بھی ادا کر دیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دولت مند افراد سے خطاب ٭٭
تم میں سے جو کشادہ روزی والے، صاحب مقدرت ہیں، صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہیئے کہ وہ اپنے قرابت داروں، مسکینوں، مہاجروں کو کچھ دیں گے ہی نہیں۔
اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کر دینا چاہیئے۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کر لینا چاہیئے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم و کرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے ‘۔
اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کر دینا چاہیئے۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کر لینا چاہیئے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم و کرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے ‘۔
یہ آیت سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی قسم کا سلوک کرنے کی قسم کھا لی تھی کیونکہ بہتان سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں یہ بھی شامل تھے۔ جیسے کہ پہلے کی آیتوں کی تفسیر میں یہ واقعہ گزر چکا ہے تو جب حقیقت اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا بری ہو گئیں، مسلمانوں کے دل روشن ہوگئے، مومنوں کی توبہ قبول ہوگئی، تہمت رکھنے والوں میں سے بعض کو حد شرعی لگ چکی، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ فرمایا جو آپ رضی اللہ عنہ کی خالہ صاحبہ کے فرزند تھے اور مسکین شخص تھے۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ ہی ان کی پرورش کرتے رہتے تھے، یہ مہاجر تھے لیکن اس بارے میں اتفاقیہ زبان کھل گئی تھی۔ انہیں تہمت کی حد لگائی گئی تھی۔
سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت مشہور تھی، کیا اپنے کیا غیر سب کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کا حسن سلوک عام تھا۔ آیت کے یہ خصوصی الفاظ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے کان میں پڑے کہ ’ کیا تم بخشش الٰہی کے طالب نہیں ہو؟ ‘ آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ ”ہاں قسم ہے اللہ کی ہماری تو عین چاہت ہے کہ اللہ ہمیں بخشے“، اور اسی وقت سے سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کو جو کچھ دیا کرتے تھے، جاری کر دیا۔ گویا ان آیتوں میں ہمیں تلقین ہوئی کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقصیریں معاف ہو جائیں، ہمیں چاہیئے کہ دوسروں کی تقصیروں سے بھی درگزر کر لیا کریں۔
یہ بھی خیال میں رہے کہ جس طرح آپ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ واللہ میں اس کے ساتھ کبھی بھی سلوک نہ کروں گا۔ اب عہد کیا کہ واللہ میں اس سے کبھی بھی اس کا مقررہ روزینہ نہ روکوں گا۔ سچ ہے صدیق صدیق ہی تھے رضی اللہ عنہ۔
سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت مشہور تھی، کیا اپنے کیا غیر سب کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کا حسن سلوک عام تھا۔ آیت کے یہ خصوصی الفاظ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے کان میں پڑے کہ ’ کیا تم بخشش الٰہی کے طالب نہیں ہو؟ ‘ آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ ”ہاں قسم ہے اللہ کی ہماری تو عین چاہت ہے کہ اللہ ہمیں بخشے“، اور اسی وقت سے سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کو جو کچھ دیا کرتے تھے، جاری کر دیا۔ گویا ان آیتوں میں ہمیں تلقین ہوئی کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقصیریں معاف ہو جائیں، ہمیں چاہیئے کہ دوسروں کی تقصیروں سے بھی درگزر کر لیا کریں۔
یہ بھی خیال میں رہے کہ جس طرح آپ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ واللہ میں اس کے ساتھ کبھی بھی سلوک نہ کروں گا۔ اب عہد کیا کہ واللہ میں اس سے کبھی بھی اس کا مقررہ روزینہ نہ روکوں گا۔ سچ ہے صدیق صدیق ہی تھے رضی اللہ عنہ۔