بَلۡ قَالُوۡا مِثۡلَ مَا قَالَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۸۱﴾
بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔
En
بات یہ ہے کہ جو بات اگلے (کافر) کہتے تھے اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں
En
بلکہ ان لوگوں نے بھی ویسی ہی بات کہی جو اگلے کہتے چلے آئے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 82،81) ➊ { بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ:} یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے انھیں مخاطب کرنا چھوڑ کر ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کرنا شروع کر دیا، گویا اتنی واضح دلیلوں کے بعد بھی انکار پر اڑے رہنے کی وجہ سے وہ اس قابل نہیں کہ انھیں مخاطب کیا جائے۔
➋ مرنے کے بعد زندگی کا انکار صرف قیامت کا انکار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے اور شرک ہی کا شاخسانہ ہے۔ جو شخص رب تعالیٰ کو ایک مانتا ہو اور اس کی قدرت و حکمت پر ایمان رکھتا ہو وہ کبھی قیامت کا انکار نہیں کر سکتا۔
➌ یعنی ان لوگوں کے پاس اپنے آباء کی تقلید کے سوا قیامت کے انکار اور دوسرے غلط عقائد و اعمال کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ہے۔
➍ {قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا …:} ”جب ہم مر جائیں گے“ ہی کافی تھا، مگر اس کے بعد ”اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے “ کے الفاظ کے ساتھ وہ اپنے خیال میں مرنے کے بعد زندگی کے عقل سے بعید ہونے کی بات بہت مدلل کر رہے ہیں اور {” ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ“} میں {”إِنَّ“} اور ”لام“ کے ساتھ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت کے عقیدے کو نہایت تاکید سے بیان کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ہمزہ استفہام کے ساتھ اس کا شدت سے انکار کر رہے ہیں کہ بھلا ایسا بھی کبھی ہو سکتا ہے؟
➋ مرنے کے بعد زندگی کا انکار صرف قیامت کا انکار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے اور شرک ہی کا شاخسانہ ہے۔ جو شخص رب تعالیٰ کو ایک مانتا ہو اور اس کی قدرت و حکمت پر ایمان رکھتا ہو وہ کبھی قیامت کا انکار نہیں کر سکتا۔
➌ یعنی ان لوگوں کے پاس اپنے آباء کی تقلید کے سوا قیامت کے انکار اور دوسرے غلط عقائد و اعمال کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ہے۔
➍ {قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا …:} ”جب ہم مر جائیں گے“ ہی کافی تھا، مگر اس کے بعد ”اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے “ کے الفاظ کے ساتھ وہ اپنے خیال میں مرنے کے بعد زندگی کے عقل سے بعید ہونے کی بات بہت مدلل کر رہے ہیں اور {” ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ“} میں {”إِنَّ“} اور ”لام“ کے ساتھ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت کے عقیدے کو نہایت تاکید سے بیان کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ہمزہ استفہام کے ساتھ اس کا شدت سے انکار کر رہے ہیں کہ بھلا ایسا بھی کبھی ہو سکتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ بلکہ انہوں نے بھی وہی کچھ کہہ دیا جو ان کے پیشرو کہے چکے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ بَلْ قَالُوْا مِثْ٘لَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ ﴾ ”بلکہ انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔“ یعنی یہ مکذبین بھی انھی راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے، زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہاکرتے تھے: ﴿ءَاِذَا مِتْنَا وَؔكُنَّا تُرَابً٘ا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُ٘وْنَ۠ ﴾ ”کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟“ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جا سکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔
﴿ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا هٰؔذَا مِنْ قَبْلُ ﴾ یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی، ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہم نے تو اسے نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ہی وہ آئے گی۔ ﴿ اِنْ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْ٘نَ ﴾ یہ تو محض قصے کہانیاں ہیں جو کھیل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
وہ جھوٹ کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا جو قیامت کے برپا ہونے سے بھی بڑی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَخَلْ٘قُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْ٘قِ النَّاسِ ﴾ (غافر:40؍57) ”آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقیناً انسان کی تخلیق سے زیادہ بڑا کام ہے۔“ اور فرمایا: ﴿ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَهِیَ رَمِیْمٌ﴾ (یٰسۗ:36؍78) ”وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو کر مٹی بن چکی ہوں گی۔“ اور فرمایا: ﴿ وَتَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَؔ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ﴾ (الحج:22؍5) ”تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی پڑی ہے،ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور پھول گئی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: بل سَلَكَ هؤلاء المكذِّبون مَسْلَكَ الأوَّلين من المكذِّبين بالبعث، واستَبْعَدوه غايةَ الاستبعاد، وقالوا: {أإذا مِتْنا وكُنَّا تراباً وعظاماً أإنا لَمَبْعوثونَ}؛ أي: هذا لا يُتَصَوَّرُ ولا يدخلُ العقل بزعمهم. {لقد وُعِدْنا نحنُ وآباؤُنا هذا من قبلُ}؛ أي: ما زلنا نوعد بأنَّ البعث كائنٌ نحن وآباؤنا، ولم نره، ولم يأت بعدُ. {إنْ هذا إلا أساطيرُ الأولينَ}؛ أي: قَصَصُهم وأسمارُهم التي يُتَحَدَّثُ بها وتُلهي، وإلاَّ؛ فليس لها حقيقةٌ، وكَذَبوا قبَّحهم الله؛ فإنَّ الله أراهم من آياتِهِ أكبرَ من البعث، ومثله: {لَخَلْقُ السمواتِ والأرضِ أكبرُ من خلق الناس}، {وضرب لنا مثلاً ونَسِيَ خَلْقَه قال مَن يُحيي العظام وهي رميمٌ ... } الآيات، {وترى الأرضَ هامدةً فإذا أنزلنا عليها الماء اهتزَّتْ ورَبَتْ ... } الآيات.