ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 80

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ وَ لَہُ اخۡتِلَافُ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے قبضہ میں رات اور دن کا بدلنا ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟ En
اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے، کیا تم سمجھتے نہیں
En
اور یہ وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اور رات دن کے ردوبدل کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ …:} اکٹھا کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے ساری کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا ذکر فرمایا۔ خصوصاً ان کاموں کا ذکر فرمایا جو ایک دوسرے کی ضد ہیں، تاکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی دلیل بن سکیں۔ چنانچہ فرمایا، اور وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلنا بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ یہ توحید کی بھی دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ موت و حیات اور اندھیرے و اجالے کو یکے بعد دیگرے لانے والے کے لیے تمھیں موت کے بعد زندگی عطا کرنا اور تمھیں قیامت کو زندہ کرکے حساب کے لیے سامنے لا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے؟ فرمایا: «كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۲۹] جس طرح اس نے تمھاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔
➋ { اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ:} ہمزہ استفہام اصل میں فاء کے بعد ہے، مگر چونکہ اس کا مقام کلام کی ابتدا ہے، اس لیے اسے فاء سے پہلے لایا گیا ہے، یعنی تو کیا تم اتنی واضح بات بھی نہیں سمجھتے؟ یا یوں کہہ لیجیے، تو کیا تم کوئی بات بھی نہیں سمجھتے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80-1یعنی رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا آنا، پھر رات اور دن کا چھوٹا بڑا ہونا۔ 80-2جس سے تم یہ سمجھ سکو کہ یہ سب کچھ اس ایک اللہ کی طرف سے ہے جو ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے سامنے ہر چیز جھکی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا [81] ہے اور رات اور دن کا باری باری آتے رہنا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کیا تم کچھ بھی نہیں سمجھتے؟
[81] گردش لیل و نہار:۔
یعنی وہ اس دنیا میں ہر آن مردہ سے زندہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اگر تم سوچو تو اپنی ذات اور اپنے گرد و پیش میں بیسیوں ایسی مثالیں مل سکتی ہیں۔ نیز وہ اندھیرے میں سے اجالا نکالتا ہے اور اجالے کو پھر اندھیرے میں گم کر دیتا ہے۔ دن رات کا باری باری آنا، دنوں کی مقدار میں کمی شروع ہونا اور راتوں کا بڑھنے لگنا اور اس کے برعکس راتوں کا گھٹنے لگنا اور دنوں کا بڑھنے لگنا پھر موسموں کا تغیر و تبدل یہ سب چیزیں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پھر تمہیں یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ جو ہستی اس قدر قدرتوں کی مالک ہے تمہیں اپنے پاس اکٹھا کر کے حاضر کر لینے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین کی دو قسم کی گردشیں ہیں ایک روزانہ یعنی 24 گھنٹے میں اپنے محور کے گرد اور دوسری سالانہ سورج کے گرد ساڑھے چھیاسٹھ ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے۔ اسی سے دن رات وجود میں آتے ہیں اور موسموں میں تغیر و تبدل ہوتا ہے۔ یہ تو محض نظریہ کا فرق ہے جہاں تک اللہ کی قدرت کا تعلق ہے اس کا بہرحال ہر ایک کو اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔ بلکہ موجودہ نظریہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جس نے ہماری زمین اور اس سے بھی بہت بڑے اجرام فلکی کو اس طرح مصروف گردش بنا رکھا ہے جس سے وہ سر مو نہ تجاوز کرتے ہیں نہ کر سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَهُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُـمِیْتُ وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَلَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ یعنی شب و روز کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے آرام و سکون کے لیے تمھیں رات واپس لا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی واپس لا دے؟ کیا تم دیکھتے نہیں؟ ﴿ وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ٘ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (القصص:28؍73) یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم آرام کر سکو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو اور شاید تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔
بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ کہ تم یہ پہچان سکو کہ وہ ہستی جس نے تمھیں سماعت و بصارت اور عقل جیسی نعمتیں عطا کیں، جس اکیلے نے تمھیں زمین پر پھیلایا، وہ ہستی جو اکیلی زندگی اور موت پر اختیار رکھتی ہے اور جو اکیلی رات اور دن پر تصرف کرتی ہے، یہ بات اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ تم خالص اسی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں اور ان تمام ہستیوں کی عبادت چھوڑ دو، جو کسی قسم کا کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کسی چیز میں تصرف کی مالک ہی ہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے عاجز ہیں اگر تم میں ذرہ بھر بھی عقل ہوتی تو تم کبھی بھی ان کی عبادت نہ کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهو}: تعالى وحدَه {الذي يُحيي ويُميتُ}؛ أي: المتصرِّف في الحياة والموت هو الله وحده. {وله اختلافُ الليل والنهار}؛ أي: تعاقُبُهما وتناوُبُهما؛ فلو شاء أنْ يجعلَ النهار سرمداً، مَن إلهٌ غيرُ الله يأتيكم بليل تسكنون فيه؟ ولو شاء أن يجعل الليل سرمداً من إلهٌ غيرُ الله يأتيكم بضياءٍ أفلا تُبْصِرونَ؟ ومن رحمتِهِ جَعَلَ لكُم الليلَ والنهار لِتَسْكُنوا فيه ولِتَبْتَغوا من فضلِهِ ولعلَّكم تشكُرون. ولهذا قال هنا: {أفلا تعقلون}؛ فتعرِفون أنَّ الذي وَهَبَ لكم من النِّعم السمعَ والأبصارَ والأفئدةَ، والذي نَشَرَكم في الأرض وحدَه، والذي يُحيي ويُميت وحدَه، والذي يتصرَّف بالليل والنهار وحدَه؛ إنَّ ذلك موجبٌ لكم أن تُخْلِصوا له العبادة وحدَه لا شريك له، وتترُكوا عبادةَ مَنْ لا ينفَعُ ولا يضرُّ ولا يتصرَّف بشيء، بل هو عاجزٌ من كلِّ وجهٍ؛ فلو كان لكم عقلٌ؛ لم تَفْعَلوا ذلك.