تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ:} یعنی کیا ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کو انھوں نے سمجھا نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ وجہ نہیں، قرآن کوئی پہیلی نہیں، کسی ایسی زبان میں نہیں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو آدمی کی سمجھ سے بالا ہو، وہ اس کی ایک ایک بات کو سمجھتے ہیں۔ مخالفت اس لیے نہیں کر رہے کہ انھوں نے سمجھنے کی کوشش کی اور انھیں سمجھ نہیں آیا، بلکہ اس لیے مخالفت کر رہے ہیں کہ وہ ماننا نہیں چاہتے۔
➌ {اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ:} یعنی یا ان کے انکار کی یہ وجہ ہے کہ اس نے کوئی نرالی بات پیش کی ہے جو کبھی کسی کے سننے ہی میں نہیں آئی؟ ظاہر ہے یہ بات بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء ہمیشہ آتے رہے ہیں، یہ کوئی پہلا رسول نہیں۔ فرمایا: «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [الأحقاف: ۹] ”کہہ دیجیے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں۔“ ان کے گرد و پیش عراق، شام اور مصر میں کئی انبیاء آئے ہیں، ان کی اپنی سرزمین میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام آئے، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام آئے۔ یہ خود ان کو سچے رسول مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے، بلکہ توحید کی دعوت لے کر آئے تھے۔ غرض ان کے انکار کی وجہ یہ بھی نہیں کہ ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کوئی انوکھی بات ہے۔
تنبیہ: قرآن میں جہاں یہ ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کی طرف بھیجا گیا جن کے آباء کی طرف کوئی رسول نہیں آیا، وہاں مراد قریب زمانے میں رسول کا نہ آنا ہے اور یہاں مراد بعید زمانے میں رسول کا آنا ہے، جو ان کے بھی علم میں ہے، کیونکہ ابراہیم، اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام کو وہ لوگ بھی رسول مانتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7]
کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أفلم يَدَّبَّروا القولَ}؛ أي: أفلا يتفكَّرون في القرآن ويتأمَّلونه ويتدبَّرونه؛ أي: فإنَّهم لو تدبَّروه؛ لأوجبَ لهم الإيمانَ، ولَمَنَعَهم من الكفرِ، ولكن المصيبةَ التي أصابتهم بسبب إعراضهم عنه. ودل هذا على أنَّ تدبُّرَ القرآن يدعو إلى كلِّ خير ويعصِمُ من كلِّ شرٍّ، والذي منعهم من تدبُّرِهِ أنَّ على قلوبِهِم أقفالُها. {أم جاءهم ما لم يأتِ آباءَهُمُ الأوَّلينَ}؛ أي: أَوَ منعهم من الإيمان أنَّه جاءهم رسولٌ وكتابٌ ما جاء آباءَهم الأوَّلين، فرضوا بسلوك طريقِ آبائِهِم الضالِّين، وعارَضوا كلَّ ما خالفَ ذلك! ولهذا قالوا هم ومن أشبههم من الكفار ما أخبر الله عنهم: {وكذلك ما أرْسَلْنا من قبلِكَ في قريةٍ من نذيرٍ إلاَّ قال مُتْرَفوها إنَّا وَجَدْنا آباءَنا على أمَّةٍ وإنَّا على آثارِهِم مُقتدونَ}. فأجابهم بقوله: {قال أوَلَوْ جئتُكم بأهدى ممَّا وَجَدْتم عليه آباءَكم} فهل تَتَّبِعونِ: إنْ كان قصدُكم الحقَّ. فأجابوا بحقيقةِ أمرِهم: {قالوا إنا بما أرسِلْتم به كافرونَ}.