ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 67

مُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ٭ۖ بِہٖ سٰمِرًا تَہۡجُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
تکبر کرتے ہوئے، رات کو باتیں کرتے ہوئے اسی کے بارے میں بے ہودہ گوئی کرتے تھے۔ En
ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بیہودہ بکواس کرتے تھے
En
اکڑتے اینٹھتے افسانہ گوئی کرتے اسے چھوڑ دیتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) ➊ { مُسْتَكْبِرِيْنَ} یہ { تَنْكِصُوْنَ } کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ہماری آیات کی تلاوت کے وقت تمھارا الٹے پاؤں پھر جانا کسی خوف یا مصروفیت یا کسی اور وجہ سے نہیں تھا، بلکہ تم محض تکبر کرتے ہوئے سننے سے اجتناب کے لیے ایڑیوں پر پھر جاتے تھے۔
➋ { بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ: سَمَرَ يَسْمُرُ سَمْرًا وَ سُمُوْرًا فَهُوَ سَامِرٌ} (ن) رات کو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اور قصے کہانیاں سنانا۔ {هَجَرَ يَهْجُرُ هَجْرًا وَ هِجْرَةً} چھوڑنا اور {هُجْرًا} بے ہودہ، لغو اور فضول باتیں کرنا، بکواس کرنا۔ { بِهٖ } کی ضمیر قرآن کی طرف جاتی ہے، جو آیات کے ضمن میں مذکور ہے، یعنی رات کو باتیں کرتے ہوئے تم اس قرآن کے متعلق بے ہودہ گوئی اور بکواس کیا کرتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67-1یعنی انھیں اپنی تولیت خانہ کعبہ اور اس کا خادم و نگران ہونے کا جو غرور تھا، اس کی بنا پر آیات الٰہی کا انکار کیا اور بعض نے اس کا مرجع قرآن کو بنایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل میں کھلبلی پیدا ہوجاتی جو انھیں قرآن پر ایمان لانے سے روک دیتی۔ 67-2سَمَر کے معنی ہیں رات کی گفتگو یہاں اس کے معنی خاص طور پر ان باتوں کے ہیں جو قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ کرتے تھے اور اس کی بنا پر وہ حق کی بات سننے اور قبول کرنے سے انکار کردیتے۔ یعنی چھوڑ دیتے۔ اور بعض نے ہجر کے معنی فحش گوئی کے کئے ہیں۔ یعنی راتوں کی گفتگو میں تم قرآن کی شان میں بےہودہ اور فحش باتیں کرتے ہو، جن میں کوئی بھلائی نہیں (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ اپنے گھمنڈ میں میری آیتوں کو افسانے [67] سمجھتے اور بکواس کیا کرتے تھے۔
[67] سمر کا لغوی مفہوم:۔
سمر کے معنی رات کے وقت سونے سے پیشتر ایک دوسرے سے قصے کہانیاں بیان کرنا۔ تاکہ ان قصے کہانیوں میں محو ہو کر نیند آجائے۔ یہ قصے یا افسانے یا کہانیاں محض دفع الوقتی یا خوش وقتی کے لئے سنے سنائے جاتے ہیں۔ ان کا اور کچھ مقصد نہیں ہوتا۔ دیہاتوں میں آج بھی یہ دستور ہے کہ بڑے لوگ چھوٹوں کو کوئی بھوت پریت یا ایسی ہی دوسری کہانیاں سناتے ہیں اور مکہ میں بھی یہی دستور تھا۔ اور ھجر کے معنی بیماری، نیم بے ہوشی یا نیم خفگی کی حالت میں مہمل سی باتیں کرنا یا بڑبڑانا۔ گویا مترفین یا ان عیاش لوگوں کا جرم یہ تھا کہ اللہ کی آیات کو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے اور از راہ تکبر منہ موڑتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے۔ مزید برآں ایک دوسرے سے اگر آیات الٰہی کا ذکر کرتے بھی تو انتہائی بے نیازی اور لاپروائی سے جیسے کوئی مہمل سی باتیں یا قصے کہانیاں سنا رہا ہو۔ ان کے ان جرائم کی سزا یہی ہے کہ اب ان کے چھٹکارا کی سب راہیں بند کر دی جاتیں اور نہ ہی ان کی آہ و فغاں پر کچھ توجہ دی جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مُسْتَكْبِرِیْنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسْتَكْبِرِیْنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں۔ ﴿ سٰمِرًا یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ ﴿ تَهْجُرُوْنَ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَ٘سْمَعُوْا لِهٰؔذَا الْ٘قُ٘رْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ (حم السجدۃ:41؍26) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ اَفَ٘مِنْ هٰؔذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ۰۰وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَۙ۰۰وَاَنْتُمْ سٰؔمِدُوْنَ (النجم:53؍59-61) کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ اور فرمایا: ﴿ اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّ٘لَهٗ (الطور:52؍ 33)کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟
وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{مستكبِرينَ به سامراً تَهْجُرونَ}: قال المفسِّرون: معناه: مستكبرين به: الضمير يعود إلى البيت المعهود عند المخاطبين أو الحرم؛ أي: متكبِّرين على الناس بسببه، تقولون: نحنُ أهلُ الحرم؛ فنحنُ أفضلُ من غيرِنا وأعلا. {سامراً}؛ أي: جماعة يتحدثون بالليل حول البيت. {تَهْجُرونَ}؛ أي: تقولون الكلامَ الهُجْرَ الذي هو القبيح في هذا القرآن؛ فالمكذِّبون كانت طريقتُهم في القرآنِ الإعراضُ عنه، ويوصي بعضُهم بعضاً بذلك، {وقال الذين كَفَروا لا تَسْمَعوا لهذا القرآن والْغَوْا فيه لعلَّكم تغلِبونَ}، وقال الله عنهم: {أفَمِنْ هذا الحديثِ تَعْجَبونَ. وتَضْحَكونَ ولا تبكونَ. وأنتم سامِدون}، {أم يقولون تقوَّلَه} فلما كانوا جامعينَ لهذه الرذائل؛ لا جَرَمَ حقَّت عليهم العقوبةُ، ولَمَّا وقعوا فيها؛ لم يكن لهم ناصرٌ ينصُرُهم ولا مغيثٌ ينقِذُهم، ويوبَّخون عند ذلك بهذه الأعمال الساقطة.