(آیت 67) ➊ {”مُسْتَكْبِرِيْنَ“} یہ {”تَنْكِصُوْنَ“} کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ہماری آیات کی تلاوت کے وقت تمھارا الٹے پاؤں پھر جانا کسی خوف یا مصروفیت یا کسی اور وجہ سے نہیں تھا، بلکہ تم محض تکبر کرتے ہوئے سننے سے اجتناب کے لیے ایڑیوں پر پھر جاتے تھے۔ ➋ { بِهٖسٰمِرًاتَهْجُرُوْنَ: ”سَمَرَيَسْمُرُسَمْرًاوَسُمُوْرًافَهُوَسَامِرٌ“} (ن) رات کو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اور قصے کہانیاں سنانا۔ {”هَجَرَيَهْجُرُهَجْرًاوَهِجْرَةً“} چھوڑنا اور {”هُجْرًا“} بے ہودہ، لغو اور فضول باتیں کرنا، بکواس کرنا۔ {”بِهٖ“} کی ضمیر قرآن کی طرف جاتی ہے، جو آیات کے ضمن میں مذکور ہے، یعنی رات کو باتیں کرتے ہوئے تم اس قرآن کے متعلق بے ہودہ گوئی اور بکواس کیا کرتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
67-1یعنی انھیں اپنی تولیت خانہ کعبہ اور اس کا خادم و نگران ہونے کا جو غرور تھا، اس کی بنا پر آیات الٰہی کا انکار کیا اور بعض نے اس کا مرجع قرآن کو بنایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل میں کھلبلی پیدا ہوجاتی جو انھیں قرآن پر ایمان لانے سے روک دیتی۔ 67-2سَمَر کے معنی ہیں رات کی گفتگو یہاں اس کے معنی خاص طور پر ان باتوں کے ہیں جو قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ کرتے تھے اور اس کی بنا پر وہ حق کی بات سننے اور قبول کرنے سے انکار کردیتے۔ یعنی چھوڑ دیتے۔ اور بعض نے ہجر کے معنی فحش گوئی کے کئے ہیں۔ یعنی راتوں کی گفتگو میں تم قرآن کی شان میں بےہودہ اور فحش باتیں کرتے ہو، جن میں کوئی بھلائی نہیں (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
67۔ اپنے گھمنڈ میں میری آیتوں کو افسانے [67] سمجھتے اور بکواس کیا کرتے تھے۔
[67] سمر کا لغوی مفہوم:۔
سمر کے معنی رات کے وقت سونے سے پیشتر ایک دوسرے سے قصے کہانیاں بیان کرنا۔ تاکہ ان قصے کہانیوں میں محو ہو کر نیند آجائے۔ یہ قصے یا افسانے یا کہانیاں محض دفع الوقتی یا خوش وقتی کے لئے سنے سنائے جاتے ہیں۔ ان کا اور کچھ مقصد نہیں ہوتا۔ دیہاتوں میں آج بھی یہ دستور ہے کہ بڑے لوگ چھوٹوں کو کوئی بھوت پریت یا ایسی ہی دوسری کہانیاں سناتے ہیں اور مکہ میں بھی یہی دستور تھا۔ اور ھجر کے معنی بیماری، نیم بے ہوشی یا نیم خفگی کی حالت میں مہمل سی باتیں کرنا یا بڑبڑانا۔ گویا مترفین یا ان عیاش لوگوں کا جرم یہ تھا کہ اللہ کی آیات کو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے اور از راہ تکبر منہ موڑتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے۔ مزید برآں ایک دوسرے سے اگر آیات الٰہی کا ذکر کرتے بھی تو انتہائی بے نیازی اور لاپروائی سے جیسے کوئی مہمل سی باتیں یا قصے کہانیاں سنا رہا ہو۔ ان کے ان جرائم کی سزا یہی ہے کہ اب ان کے چھٹکارا کی سب راہیں بند کر دی جاتیں اور نہ ہی ان کی آہ و فغاں پر کچھ توجہ دی جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔