ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 62

وَ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا وَ لَدَیۡنَا کِتٰبٌ یَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۲﴾
اور ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔ En
اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا
En
ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے، اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، ان کے اوپر کچھ ﻇلم نہ کیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا …:} یعنی ہم نے اپنے مومن بندوں کی جو صفات بیان کی ہیں یہ ایسی نہیں ہیں کہ انسان کی وسعت اور گنجائش سے باہر ہوں اور وہ ان پر عمل نہ کر سکتا ہو۔ کیونکہ یہ ہمارا دستور ہی نہیں کہ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف دیں۔ اسی لیے جہاں عذر آتا ہے رخصت دے دی جاتی ہے۔ پانی نہیں تو تیمم کر لو، سفر ہے تو نماز قصر کر لو اور روزہ افطار کر لو، بیمار ہو تو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ لو، خوف ہے تو پیدل یا سوار ہی پڑھ لو، بھوک سے بے بس ہو تو بقدر ضرورت حرام کھا لو، اگر نفس کی سرکشی سے نافرمانی ہو جائے تو توبہ کرکے پلٹ آؤ۔ پھر اتنی آسانیوں کے بعد بھی بے رخی اور سرکشی کی روش اپناؤ، تو یاد رکھو کہ ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، جس میں تمھارا چھوٹا، بڑا، ظاہر اور مخفی ہر عمل محفوظ ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۴۹) اور جاثیہ (۲۹) رازی نے فرمایا: کتاب کو انسان کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو بولتا ہے، کیونکہ کتاب تو بولتی نہیں، بلکہ جو اس میں لکھا ہوتا ہے اس کا اظہار کرتی ہے۔ مگر اب وڈیو کیمرے کے ذریعے سے کسی بھی شخص کے عمل کی تصویر بھی محفوظ ہوتی ہے اور آواز بھی۔ اس لیے اس تاویل کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو ہمارے خیال سے بھی کہیں بلند ہے، جس کے حکم سے چمڑے اور ہاتھ پاؤں بول کر سب کچھ بتائیں گے، اس کے حکم سے کتاب کا بولنا کون سا بعید ہے۔
➋ { وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ:} یعنی نہ کسی کو قصور کے بغیر سزا ملے گی، نہ کسی کا قصور دوسرے کے نامۂ اعمال میں درج ہو گا، نہ کسی عمل کی جزا میں کمی ہو گی اور نہ سزا میں زیادتی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62-1ایسی ہی آیت سورة بقرہ کے آخر میں گزر چکی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف [61] نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایسی کتاب (نامۂ اعمال) ہے جو ٹھیک ٹھیک [62] بیان کر دے گا اور ان کی حق تلفی [63] نہ ہو گی۔
[61] تکلیف کا مفہوم، شرعی احکام کی حکمت اور ہر شخص کی استعداد کا لحاظ:۔
یعنی ہم نے احکام شریعت ایسے نازل نہیں کئے جو انسان کی بساط سے باہر ہوں۔ شرعی احکام میں مصلحت کے جس پہلو کو ملحوظ رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ شرعی احکام بالعموم مسلمانوں کی اکثریت کے لئے اور نارمل حالات میں قابل عمل ہوتے ہیں۔ جب حالات بدل جائیں جو احکام میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی کر دی جاتی ہے پھر چونکہ یہ احکام ایک عام انسان کی استعداد یا قوت کار کو ملحوظ رکھ کر دیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا عام استعداد سے کم استعداد رکھنے والوں مثلاً بیماروں یا معذوروں کے لئے رخصت یا رعایت دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ نابالغ، مجنون وغیرہ سے شرعی احکام ویسے ہی ساقط کر دیئے گئے ہیں۔ پھر معاشرہ میں کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ایک عام انسان کی استعداد سے زیادہ استعداد رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے وسیع میدان عمل کو سامنے لا کر اس حکم کی زیادہ سے زیادہ بجا آوری کی ترغیب دی جاتی ہے۔ مثلاً ہر عاقل و بالغ مسلمان کو پانچ وقت نماز با جماعت ادا کرنے کا حکم ہے اور نماز سے پہلے وضو یا طہارت بھی ضروری ہے تو حالات کے مطابق مراعات تو یہ ہیں کہ جسے وقت پر وضو کے لئے پانی دستیاب نہ ہو وہ تیمم کر سکتا ہے۔ بیمار کو اگر وضو کرنے سے بیماری بڑھنے یا کسی اور تکلیف کا خطرہ ہو تو وہ بھی تیمم کر سکتا ہے سفر، خوف کی حالت میں نماز قصر بھی کر سکتا ہے اور دو نمازیں اکٹھی بھی پڑھ سکتا ہے، نیز سفر کی حالت میں سواری پر بھی نماز ادا کر سکتا ہے۔ نیز اگر قبلہ یا وقت صحیح کی تعیین میں دقت ہو تو اندازہ سے کام لے سکتا ہے۔ بارش یا کسی اور معقول عذر کی وجہ سے مسجد نہیں جا سکتا تو گھر پر نماز ادا کر سکتا ہے۔ اور کم استعداد والوں کی مثال یوں سمجھئے کہ بیمار بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اگر زیادہ بیمار ہے تو لیٹے لیٹے ہی پڑھ سکتا ہے۔ اتنی بھی ہمت نہ رہی ہو تو اشارہ سے بھی ادا کر سکتا ہے۔ ایسا بیمار یا انتہائی بوڑھا جو مسجد تک جانے کی ہمت نہیں رکھتا۔ مستقل طور پر اپنے گھر میں نماز ادا کر سکتا ہے۔ یہی اس جملہ کا مطلب ہے کہ ”ہم کسی شخص کو اس کے مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے“ اتنی مراعات کے باوجود پھر بھی کوئی شخص عمداً نماز ادا نہیں کرتا تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر نماز کی بجا آوری میں کوتاہی کرتا ہے تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو گا۔ اور جو لوگ زیادہ استعداد رکھتے ہیں۔ ان کے لئے فرضی نماز کے علاوہ نوافل تجویز کئے گئے ہیں۔ مثلاً ظہر کی نماز کی فرض رکعات صرف چار ہیں۔ ان چار رکعات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تطوعاً جو اضافہ کیا وہ ہمارے لئے سنت ہیں اور وہ چار رکعات فرض نماز سے پہلے ہیں اور دو بعد میں۔ پھر ان فرض اور سنت رکعات پر تطوعاً آخر میں مزید رکعات کا اضافہ ہوا جسے نفل کہتے ہیں اور ان پر مزید نوافل کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ پھر کچھ نمازیں ایسی ہیں جو فرض کفایہ ہیں جیسے نماز جمعہ اور نماز جنازہ وغیرہ اور کچھ سنت ہیں جیسے تہجد کی نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرض تھی مگر امت کے لئے سنت مو کدہ ہے یا نماز تراویح اور کچھ نمازیں ہی نفلی ہیں مثلاً نماز چاشت، اوابین اور شکرانہ کے نوافل اور کچھ نفل نمازیں حالات سے متعلق ہیں۔ جیسے نماز استسقاء نماز کسوف اور خسوف وغیرہ یہ ہے وہ وسیع میدان جو ترقی درجات کا سبب بنتا ہے۔ پھر ایک نماز ہی کی یہ صورت نہیں۔ صدقات و خیرات بلکہ ہر رکن اسلام اور عمل صالح کی یہی صورت ہے کہ اس میں تطوعات کا وسیع میدان موجود ہے یہی وہ میدان ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھلے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرنا کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کی بساط سے باہر ہو۔ کم از کم ہر انسان کو ایسا کرنے کی کوشش ضرور کرنا چاہئے۔
[62] اعمال کے اندراج کا طریق کار:۔
یعنی ہر انسان کے اعمال، افعال، اقوال حتیٰ کہ مال کے خیالات اور دل میں پیدا ہونے والے وساوس اور ارادے بھی ساتھ کے ساتھ ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ قرآن کی تصریح کے مطابق یہ قلم بندی کرنے والے دو معزز فرشتے ہوتے ہیں ایک انسان کے دائیں طرف، دوسرا بائیں طرف، پھر ان کی ڈیوٹیاں بھی فجر اور عصر کے وقت بدلتی رہتی ہیں موجودہ دور کی سائنسی ایجادات نے اس حقیقت کو بہت حد تک قریب الفہم بنا دیا ہے کہ یہ باتیں از خود کس طرح ریکارڈ میں آجاتی ہیں۔ گویا ہر شخص کی زندگی کی مکمل ہسٹری شیٹ اللہ کے ہاں موجود رہتی ہیں اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ تو کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات قلم بند ہونے سے رہ جاتی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی غلط اندراج ہو سکتا ہے۔ [نيز ديكهئے سورة كهف كي آيت نمبر 49]
[63] یعنی یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ کسی کو اس کے کام سے کم اجر ملے، نہ یہ کہ اس کے گناہ سے زیادہ سزا ملے۔ یا کسی کا جرم کسی دوسرے کے کھاتے میں چلا جائے۔ غرضیکہ کسی طرح کی زیادتی اور حق تلفی ممکن نہ ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594]‏‏‏‏
یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [73-المزمل: 11- 13]‏‏‏‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [38- ص: 3]‏‏‏‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [40-غافر: 12]‏‏‏‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [23-سورة المؤمنون: 67]‏‏‏‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔