ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 63

بَلۡ قُلُوۡبُہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا وَ لَہُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ ہُمۡ لَہَا عٰمِلُوۡنَ ﴿۶۳﴾
بلکہ ان کے دل اس سے سخت غفلت میں ہیں اور ان کے لیے اس کے سوا کئی کام ہیں، وہ انھی کو کرنے والے ہیں۔ En
مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں، اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں
En
بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت میں ہیں اور ان کے لئے اس کے سوا بھی بہت سے اعمال ہیں جنہیں وه کرنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63){ بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا …: غَمْرَةٍ } میں تنوین تہویل کی ہے، اس لیے ترجمہ سخت غفلت کیا ہے۔ {هٰذَا } کا اشارہ ان چیزوں کی طرف ہے جو اس سے پہلے مذکور ہیں، یعنی بات وہ نہیں جو کفار نے سمجھ رکھی ہے کہ اموال و اولاد کی صورت میں انھیں اللہ کی طرف سے بھلائیاں مل رہی ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل بھلائیوں کے حصول کا سبب بننے والی صفات (یعنی خشیت الٰہی، آیات پر ایمان، شرک سے اجتناب اور کوئی بھی عمل کرتے ہوئے اس کے قبول نہ ہونے کا خوف رہنا) اور قیامت کے دن کتاب اعمال کے پیش ہونے سے سخت غفلت میں ہیں۔ پھر ان کا جرم یہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی کئی اعمال ہیں جنھیں وہ ہر حال میں کرنے والے ہیں، تاکہ ان پر حجت تمام ہو اور وہ اپنے کیے کا خمیازہ بھگتیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

63-1یعنی شرک کے علاوہ دیگر برائیاں یا اعمال مراد ہیں، جو مومنوں کے اعمال (خشیت الٰہی، ایمان با توحید وغیرہ) کے برعکس ہیں۔ تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ بلکہ اس بات سے تو ان کے دل سخت غافل ہیں اور اس غفلت کے علاوہ ان کے اور بھی کئی (برے) اعمال ہیں [64] جو وہ کر رہے ہیں
[64] یعنی یہ بات ان کے ذہن میں آتی ہی نہیں کہ ان کی پوری ہسٹری شیٹ ساتھ ہی ساتھ تیار ہو رہی ہے۔ لہٰذا وہ اپنے دنیا کے دوسرے کاموں میں ہی ایسے منہمک اور مگن ہیں کہ انھیں اس نامہ اعمال اور اس کی بنا پر آخرت کی باز پرس کا خیال تک نہیں آتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594]‏‏‏‏
یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [73-المزمل: 11- 13]‏‏‏‏ مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [38- ص: 3]‏‏‏‏۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [40-غافر: 12]‏‏‏‏ یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [23-سورة المؤمنون: 67]‏‏‏‏ یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا: ﴿وَاِذَا قَ٘رَاْتَ الْ٘قُ٘رْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابً٘ا مَّسْتُوْرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلْنَا عَلٰى قُ٘لُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَفِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْ٘رًا (بنی اسرائیل:17؍45، 46) جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں۔ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں۔
﴿ وَلَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ جنھیں وہ کرنے والے ہیں۔ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّ قلوبَ المكذِّبين في غمرةٍ من هذا؛ أي: وسط غمرةٍ من الجهل والظُّلم والغفلة والإعراض تمنَعُهم من الوصول إلى هذا القرآن؛ فلا يهتدونَ به، ولا يصل إلى قلوبهم منه شيءٌ، {وإذا قَرَأتَ القرآنَ جَعَلْنا بينَك وبين الذين لا يؤمنون بالآخرةِ حجاباً مستوراً، وجَعَلْنا على قلوبِهِم أكِنَّةً أنْ يَفْقَهوه وفي آذانِهِم وقراً}؛ فلمَّا كانت قلوبُهم في غمرةٍ منه؛ عملوا بحسب هذا الحال من الأعمال الكفريَّة والمعاندة للشَّرع ما هو موجبٌ لعقابهم، ولكنْ {لهم أعمالٌ من دونِ}: هذه الأعمال {هم لها عاملونَ}؛ أي: فلا يستغرِبوا عدم وقوع العذاب فيهم؛ فإنَّ الله يُمْهِلُهم ليعملوا هذه الأعمال التي بقيت عليهم مما كُتِبَ عليهم؛ فإذا عملوها، واستَوْفَوها؛ انتقلوا بشرِّ حالةٍ إلى غضب الله وعقابه.