ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 61

اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَ ہُمۡ لَہَا سٰبِقُوۡنَ ﴿۶۱﴾
یہ لوگ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔ En
یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرے اور یہی اُن کے لئے آگے نکل جاتے ہیں
En
یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61) {اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ …:} یعنی یہ لوگ جن میں یہ چاروں خوبیاں ہیں یہی نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ انھیں حاصل کرنے میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ واقعہ: ۱۰ تا ۲۶) طبری نے { وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ } کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: {سَبَقَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ} یعنی ان کی ان چاروں صفات کی وجہ سے (جو پہلے ہی اللہ کے علم میں ہیں) ان کے لیے پہلے ہی (جلدی بھلائیاں حاصل ہونے کی) سعادت طے ہو چکی ہے۔ گویا یہ اس آیت کے ہم معنی ہے: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [الأنبیاء: ۱۰۱] بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہوچکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ یہی لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرنے اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی [60] کوشش کرتے ہیں۔
[60] ان لوگوں کے مقابلہ میں اب اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کی چند صفات بیان فرمائیں سب سے پہلی بات یہ کہ ان میں نیک کام کرتے رہنے کے باوجود ان میں نیکی کا غرور اور گھمنڈ پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس بات سے اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے یہ اعمال شاید اللہ کی بارگاہ میں قبول ہونے کے لائق تھے یا نہیں یا ان میں کچھ تقصیر تو نہیں ہو گئی۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ منزل من اللہ آیات پر ہی ایمان لاتے ہیں اور کائنات میں ہر طرف اللہ کی بکھری ہوئی آیات میں غور کر کے ان سے معرفت حاصل کرتے ہیں جن سے ان دلوں میں اللہ کی عظمت اور جلال کا سکہ بیٹھتا ہے تیسری صفت یہ ہے کہ وہ شرک کی ہر چھوٹی بڑی قسم سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور چوتھی صفت یہ کہ اپنے اموال اور دوسری اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے صدقہ و خیرات وغیرہ ادا کرنے کے باوجود اللہ کے حضور اعمال کی باز پرس سے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں، انھیں کس بات کا ڈر لگا رہتا ہے؟ کیا وہ شراب پیتے ہیں یا چوری کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”او صدیق کی بیٹی! یہ بات نہیں بلکہ وہ لوگ روزہ رکھتے، نماز پڑھتے اور صدقہ دیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ڈرتے ہیں شاید ان کا قبول نہ ہو۔ یہی لوگ ہیں جو نیکیوں کی طرف لپکتے اور آگے نکل جانے والے ہیں“ [ترمذي۔ ابواب التفسير]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں۔ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَهُمْ لَهَا اور وہ اس کے لیے۔ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوْنَ دوڑتے ہیں۔ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك يسارِعونَ في الخيراتِ}؛ أي: في مَيْدان التَّسارع في أفعال الخير؛ همُّهم ما يقرِّبُهم إلى الله، وإرادتُهم مصروفةٌ فيما يُنجي من عذابِهِ؛ فكلُّ خيرٍ سمعوا به أو سَنَحَتْ لهم الفرصةُ [إليه]؛ انتهزوه وبادَروه؛ قد نَظَروا إلى أولياءِ الله وأصفيائِهِ أمامهم، ويمنةً ويسرةً؛ يسارِعون في كلِّ خيرٍ، وينافِسون في الزُّلْفى عند ربِّهم؛ فنافَسوهُم، ولمَّا كان المسابِقُ لغيرِهِ المسارِعُ؛ قد يسبِقُ لجِدِّه وتشميره، وقد لا يسبِقُ لتقصيرِهِ؛ أخبر تعالى أنَّ هؤلاء من القسم السابقين، فقال: {وهم لها}؛ أي: للخيرات، {سابِقونَ}: قد بلغوا ذِرْوَتَها، وتبارَوْا هم والرعيل الأول، ومع هذا قد سبقت لهم من الله سابقةُ السعادةِ أنَّهم سابقونَ.