(آیت 47){ فَقَالُوْۤااَنُؤْمِنُلِبَشَرَيْنِمِثْلِنَا …:} تکبر اور سرکشی کے نتیجے میں انھوں نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی بات ماننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں کی بات پر ایمان لے آئیں، جب کہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں اور ہم ان سے بلند تر ہیں۔ پہلا اعتراض موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی ذات پر ہے اور دوسرا ان کی قوم پر ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے کھانے پینے اور چلنے پھرنے میں رسولوں کو اپنے جیسا بشر تو دیکھ لیا اور اسے جھٹلانے کا بہانہ بھی بنا لیا، مگر یہ نہ دیکھا کہ وہ ان کے دلائل و معجزات کے سامنے لاجواب ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود انھیں قتل کرنے سے عاجز ہیں۔ کم از کم وہ یہی سوچ لیتے کہ کوئی بشر وہ ہے جو جاہل اور عقل سے خالی ہے اور کوئی بشر وہ ہے جو اتنا علم اور اتنی عقل رکھتا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ جب علم و عقل میں اتنا تفاوت ہو سکتا ہے تو رسالت کا تفاوت کیوں نہیں ہو سکتا؟ اور اللہ اپنے کسی بندے پر یہ احسان کیوں نہیں کر سکتا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۰، ۱۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
یہاں بھی انکار کے لیے دلیل انہوں نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی بشریت ہی پیش کی اور اسی بشریت کی تاکید کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسی قوم کے افراد ہیں جو ہماری غلام ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
47۔ کہنے لگے: ”کیا ہم اپنے ہی دو آدمیوں پر ایمان لائیں جبکہ ان کی قوم ہماری غلام [49] ہے۔
[49] یعنی دوسرے انبیاء کا تکذیب کرنے والے چودھری حضرات تو اپنے انکار کی صرف ایک وجہ بتلاتے تھے کہ یہ نبی بھی ہم جیسا ہی انسان ہے اور اس میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے اس وجہ کے ساتھ ایک اور وجہ بھی بیان کر دی کہ ان نبیوں کی برادری تو ہماری غلام ہے۔ لہٰذا ہم ان پر ایمان لا کر دوہری رسوائی کیسے قبول کریں۔
عبادت کا مفہوم:۔
یہاں ﴿عٰبِدُوْنَ﴾ کے لفظ سے عبادت کا مفہوم کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ عبادت محض پوجا پاٹ کا نام نہیں۔ کیونکہ بنی اسرائیل فرعونیوں کی پوجا پاٹ نہیں کرتے تھے۔ بلکہ عبادت کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں ہمہ وقت کی غلامی اور فرمانبرداری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔