ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 46

اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا عَالِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔ En
(یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے
En
فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وه سرکش لوگ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) ➊ {اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا:} یہاں وہ بات حذف کر دی ہے جسے فرعون اور اس کے سرداروں نے سخت تکبر سے ٹھکرا دیا، کیونکہ اس سے پہلے تمام انبیاء کے تذکرے میں اس کا بیان کئی بار ہو چکا ہے، یعنی: «‏‏‏‏اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ» [المؤمنون: ۳۲] کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے بیان کے متعلق ہر رسول کی دعوت یہی تھی۔ (دیکھیے انبیاء: ۲۵)
➋ { فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَ: فَاسْتَكْبَرُوْا } میں سین اور تاء کا اضافہ تکبر کی شدت پر دلالت کرتا ہے۔ { قَوْمًا عَالِيْنَ} کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46-1استکبار اور اپنے کو بڑا سمجھنا، اس کی بنیادی وجہ بھی وہی عقیدہ آخرت سے انکار اور اسباب دنیا کی فروانی ہی تھی، جس کا ذکر پچھلی قوموں کے واقعات میں گزرا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو وہ اکڑ گئے اور وہ تھے ہی سرکش [48] لوگ
[48] یعنی وہ متکبر قسم کے لوگ تھے جو اپنے آپ کو عام انسانوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دریا برد فرعون ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [28-القص: 43]‏‏‏‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔