(آیت 41){ فَاَخَذَتْهُمُالصَّيْحَةُبِالْحَقِّ:} یعنی جو سزا انھیں دی گئی تھی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے {”فَاَخَذَتْهُمُالصَّيْحَةُبِالْحَقِّ“} کا ترجمہ یہ کیا ہے: ”آخر سچے وعدے کے مطابق ایک چیخ نے انھیں آ دبوچا۔“ یعنی وہ وعدہ جو {”عَمَّاقَلِيْلٍلَّيُصْبِحُنَّنٰدِمِيْنَ“} کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ {”اَلْحَقُّ“} سے مراد قطعی امر بھی ہو سکتا ہے، جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41-1یہ چیخ کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ کی چیخ تھی، بعض کہتے ہیں کہ ویسے ہی سخت چیخ تھی، جس کے ساتھ باد صر صر بھی تھی۔ دونوں نے مل کر ان کو چشم زدن میں فنا کے گھاٹ اتار دیا۔ 41-2غُثْآءَ اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو سیلابی پانی کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں درختوں کے پتے، خشک تنے، تنکے اور اسی طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ جب پانی کا زور ختم ہوجاتا ہے، تو خشک ہو کر بیکار پڑے ہوتے ہیں، یہی حال ان منکرین اور متکبرین کا ہوا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ چنانچہ ٹھیک حق کے [44] مطابق ایک ہیبت ناک چیخ نے انھیں آ لیا تو ہم نے انھیں خس و خاشاک [45] بنا کے رکھ دیا۔ سو ظالم لوگوں کے لئے پھٹکار ہی پھٹکار ہے۔
[44] یعنی بالکل ٹھیک اسی وقت ان پر عذاب آیا جو وقت ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ یہاں ہیبت ناک چیخ کے عذاب سے بعض علماء نے یہ قیاس کیا ہے کہ یہ قصہ قوم عاد اولیٰ کا نہیں کیونکہ ان پر تند و تیز اور شدید سرد آندھی کا عذاب آیا تھا۔ بلکہ یہ قصہ عاد ثانی۔ یعنی ثمود کی قوم کا ہے۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾ اس آیت میں بالحق کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے جو انھیں سزا دی تو وہ ٹھیک ان کے گناہوں کی پاداش کے مطابق تھی۔ عدل و انصاف کا یہی تقاضا تھا اور اس سلسلہ میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں ہوا۔ [45] غثاء بمعنی کوڑا، کرکٹ، کچرا، خس و خاشاک۔ یعنی وہ ہمارے عذاب کی رو میں یوں بہہ گئے جیسے سیلاب خس و خاشاک کو بہا لے جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔