(آیت 40){ قَالَعَمَّاقَلِيْلٍلَّيُصْبِحُنَّنٰدِمِيْنَ: ”قَلِيْلٍ“} کا معنی بہت کم ہے، اس کی قلت کی مزید تاکید کے لیے {”عَنْ“} کے ساتھ {”مَا“ } کا اضافہ فرمایا ہے، یعنی بہت ہی کم مدت میں۔ (بقاعی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40-1عما میں ما زائد ہے جو مجرور کے درمیان، قلت زمان کی تاکید کے لیے آیا ہے جیسے (فبما رحمتہ من اللہ) میں ما زائد ہے یعنی بہت جلد عذاب آنا ہے جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتاوا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یعنی بہت جلد عذاب آنے والا ہے، جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ (اپنے کئے پر) پچھتانے لگیں [43] گے۔
[43] یعنی ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی ان پر عذاب آنے والا ہے۔ جب یہ اس کے آثار دیکھ لیں گے تو اس وقت اپنی اس ہٹ دھرمی پر پچھتائیں گے لیکن اس وقت نہ انھیں پچھتانا کچھ کام دے گا اور نہ ایمان لانا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔