(آیت 25) ➊ { اِنْهُوَاِلَّارَجُلٌۢبِهٖجِنَّةٌ:”جِنَّةٌ“} جنون، دیوانگی۔ ان کی پانچویں بات یہ بہتان ہے جو انھوں نے لگایا، یعنی اس کا یہ کہنا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے، پھر وہ بات کہنا جو ہم نے کبھی سنی ہی نہیں کہ بتوں کی عبادت مت کرو، صرف اللہ کی عبادت کرو اور دن رات اسی کی تبلیغ میں لگے رہنا، نہ کاروبار کا خیال، نہ پوری قوم کی مخالفت کی پروا، درحقیقت اسے ایک جنون لاحق ہے، دیوانگی ہے جو اس سے یہ سب کچھ کرواتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی نظر میں کافر جو کچھ کرتا ہے سراسر دیوانگی ہے کہ ساری جد و جہد چند روزہ زندگی کے لیے کرتا ہے، ہمیشہ کی زندگی کی اسے فکر ہی نہیں اور پیدا کرنے والے کے ساتھ ان لوگوں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا ہے جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا اور نہ وہ کچھ اختیار رکھتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی نظر میں مومن کے کام دیوانگی ہیں کہ نقد کو چھوڑ کر ادھار کے پیچھے پڑا ہے، نظر نہ آنے والے رب سے ڈر کر اپنی محبوب خواہشیں ترک کیے ہوئے ہے۔ {”جِنَّةٌ“} میں تنوین تنکیر کی ہے، یعنی اسے ایک قسم کا جنون لاحق ہے۔ مکمل پاگل کہنے کے بجائے کچھ جنون کہا، تاکہ ہر شخص انھیں جھٹلا نہ دے کہ بھلا اتنا کامل عقل والا شخص دیوانہ ہو سکتا ہے؟ ابن جزی فرماتے ہیں: ”ان کی باتوں کا باہمی تضاد دیکھیے، ابھی کہہ رہے تھے کہ یہ شخص (اتنی صلاحیتوں کا مالک ہے کہ) تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور ابھی کہتے ہیں کچھ دیوانگی میں مبتلا ہے۔“ ➋ { فَتَرَبَّصُوْابِهٖحَتّٰىحِيْنٍ:} یعنی اس کے متعلق کچھ مدت انتظار کرو، حتیٰ کہ یہ زمانے کے کسی چکر کی لپیٹ میں آ جائے، یا فوت ہو جائے اور تمھاری جان چھوٹ جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25-1یہ ہمیں اور ہمارے باپ دادوں کو بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے، بیوقوف اور کم عقل سمجھتا اور کہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود ہی دیوانہ ہے اسے ایک وقت تک ڈھیل دو، موت کے ساتھ ہی اس کی دعوت بھی ختم ہوجائے گی یا ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہوجائے اور اس دعوت کو ترک کر دے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ وہ تو ایک ایسا آدمی ہے جسے [30] جنون ہو گیا ہے لہذا کچھ مدت اور انتظار کرو (شاید وہ ٹھیک ہو جائے)
[30] قوم نوح کی نظروں میں حضرت نوحؑ کی دیوانگی یہ تھی کہ ساری قوم کے نظریہ کے خلاف خالص توحید کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ نوحؑ کا (نعوذ باللہ) ایک بیہودہ سا خیال ہے۔ بھلا ساری قوم کے مقابلہ میں اس اکیلے کی پکار کی کیا حقیقت ہے۔ لہٰذا اس کی طرف توجہ کی چنداں ضرورت نہیں۔ وہ خود ہی جب اپنی ناکامی دیکھے گا تو اپنی ایسی باتوں سے باز آجائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔