یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَ اسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَ افۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚٛ۷۷﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیکی کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
En
مومنو! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ
En
اے ایمان والو! رکوع سجده کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 77) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا …:} یہ ساری سورت قیامت اور توحید کے حق ہونے کے دلائل اور انکارِ قیامت اور شرک کی تردید اور مذمت کے دلائل پر مشتمل ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خطاب فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ہیں کہ ایمان لائے ہو تو اس کا ثبوت بھی پیش کرو۔ سب سے پہلا کام جو ایمان لانے کے بعد سب سے اہم اور ضروری ہے اور کافر و مسلم کی پہچان ہے، وہ نماز ہے، سو نماز ادا کرو۔ ”نماز ادا کرو“ کے بجائے ”رکوع کرو اور سجدہ کرو“ کے الفاظ استعمال فرمائے، کیونکہ یہ دونوں آدمی کی عام حالت مثلاً قیام و قعود وغیرہ سے مختلف ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی عاجزی کا اظہا رہوتا ہے، اسی لیے کئی متکبر لوگوں نے اس لیے اسلام لانے سے انکار کر دیا کہ انھیں اللہ کے سامنے عاجزی کی آخری حد تک جانا پڑتا ہے۔
➋ { وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ:} ایک خاص عبادت نماز کی تاکید کے بعد رب تعالیٰ کی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات کا حکم دیا کہ ”اپنے رب کی عبادت کرو“ اس میں دوسری عبادات کے ساتھ نماز بھی شامل ہے۔
➌ { وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ:} عبادت کے حکم کے بعد ہر خیر یعنی ہر اچھے کام کا حکم دیا۔ خیر میں نماز اور تمام عبادات بھی شامل ہیں اور وہ اچھے اعمال بھی کہ نیت ہو تو عبادت ہوتے ہیں، نیت نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتے، مثلاً صلہ رحمی، مہمان نوازی، بیماری پرسی اور دوسرے اخلاق عالیہ۔ مقصد یہ ہے کہ خیر کے خاص اور عام کام کرتے رہو، تاکہ وہ تمھاری عادت بن جائیں اور ان کی ادائیگی میں تمھیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔ ابوحیان نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے پہلے خاص چیزوں کا ذکر فرمایا پھر عام کا۔“ (بقاعی)
➍ { لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} تاکہ تمھیں دنیا اور آخرت کی کامیابی نصیب ہو۔
➋ { وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ:} ایک خاص عبادت نماز کی تاکید کے بعد رب تعالیٰ کی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات کا حکم دیا کہ ”اپنے رب کی عبادت کرو“ اس میں دوسری عبادات کے ساتھ نماز بھی شامل ہے۔
➌ { وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ:} عبادت کے حکم کے بعد ہر خیر یعنی ہر اچھے کام کا حکم دیا۔ خیر میں نماز اور تمام عبادات بھی شامل ہیں اور وہ اچھے اعمال بھی کہ نیت ہو تو عبادت ہوتے ہیں، نیت نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتے، مثلاً صلہ رحمی، مہمان نوازی، بیماری پرسی اور دوسرے اخلاق عالیہ۔ مقصد یہ ہے کہ خیر کے خاص اور عام کام کرتے رہو، تاکہ وہ تمھاری عادت بن جائیں اور ان کی ادائیگی میں تمھیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔ ابوحیان نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے پہلے خاص چیزوں کا ذکر فرمایا پھر عام کا۔“ (بقاعی)
➍ { لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} تاکہ تمھیں دنیا اور آخرت کی کامیابی نصیب ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77۔ 1 یعنی اس نماز کی پابندی کرو جو شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ آگے عبادت کا بھی حکم آرہا ہے۔ جس میں نماز بھی شامل تھی، لیکن اس کی اہمیت و افضلیت کے پیش نظر اس کا خصوصی حکم دیا۔ 77۔ 2 یعنی فلاح (کامیابی) اللہ کی عبادت اور اطاعت یعنی افعال خیر اختیار کرنے میں ہے، نہ کہ اللہ کی عبادت و اطاعت سے گریز کرکے محض مادی اسباب و وسائل کی فراہمی اور فراوانی میں، جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور نیک کام کرو تاکہ تم کامیاب [107] ہو سکو
[107] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ خطاب انفرادی طور پر ہو۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اخروی نجات اور کامیابی کے لئے تین کاموں کا سرانجام دینا نہایت ضروری ہے۔ نماز کی درست طور پر ادائیگی۔ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت جس میں شرک کی آمیزش نہ ہو۔ اور نیک اعمال کی بجا آوری اور یہ خطاب مجموعی طور پر بحیثیت امت سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جس قوم میں یہ صفات موجود ہوں ان کی اخروی کامیابی تو یقینی ہے ہی، ان کی دنیا میں بھی کامیابی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ سورہ حج کی فضیلت:۔
سورہ حج کے فضیلت یہ ہے کہ اس میں دو سجدے آئے ہیں: ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ بھی مقام سجدہ تلاوت ہے۔ اس سورۃ کا پہلا سجدہ تو متفق علیہ ہے۔ لیکن یہ دوسرا سجدہ اختلافی ہے سجدہ کے قائلین کی دلیل یہ ہے۔ یہاں ایمان لانے والوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا ہے۔ اور دوسرے گروہ کی دلیل یہ ہے کہ یہاں رکوع اور سجدہ کا اکٹھا حکم آیا ہے۔ اور جہاں یہ دونوں الفاظ اکٹھے آئیں تو اس سے مراد پوری نماز لی جاتی ہے کیونکہ یہ دونوں نماز کے ہی جزء اشرف ہیں اور جزء اشرف بول کر اسے کل مراد لینا اہل عرب کا عام دستور ہے۔ بلکہ بعض دفعہ قرآن میں صرف رکوع یا صرف سجود کے لفظ سے بھی پوری نماز مراد لی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں قائلین کا موقف ہی راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ بعض روایات بھی ان کی تائید کرتی ہیں اگرچہ وہ روایات اتنی قوی نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سورہ حج کو دو سجدوں کی فضلیت حاصل ہے ٭٭
اس دوسرے سجدے کے بارے میں دو قول ہیں۔ پہلے سجدے کی آیت کے موقعہ پر ہم نے وہ حدیث بیان کر دی ہے جس میں ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «فُضِّلَتْ سُورَة الْحَجّ بِسَجْدَتَيْنِ فَمَنْ لَمْ يَسْجُدهُمَا فَلَا يَقْرَأهُمَا» سورۃ الحج کو دو سجدوں سے فضیلت دی گئی جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ پڑھے ہی نہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:578،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پس رکوع سجدہ عبادت اور بھلائی کا حکم کرکے فرماتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لیے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لیے خالص کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کو انھی امور سے وابستہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿لَعَلَّـكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور اس کے بندوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کے سوا، فلاح کے حصول کا کوئی راستہ نہیں۔ جسے اس راستے کی توفیق حاصل ہو گئی اسی کے لیے کامیابی، سعادت اور فلاح ہے۔
﴿ وَجَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ ”اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے۔“ مقصود و مطلوب کے حصول میں پوری کوشش کرنا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے… یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پوری طرح نافذ کیا جائے، مخلوق کو ہر طریقے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جائے۔ خیر خواہی سے، تعلیم، قتال اور تادیب سے، زجرو توبیخ یا وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اس مقصد کے لیے جس طریقے اور ذریعے کی بھی ضرورت ہو، اسے اختیار کیا جائے۔ ﴿ هُوَ اجْتَبٰؔىكُم ﴾ یعنی اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے تمھیں لوگوں سے چن لیا ہے اور تمھارے لیے دین کو منتخب کرکے اسے تمھارے لیے پسند کرلیا ہے، تمھارے لیے افضل ترین کتاب اور افضل ترین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کیا، اس لیے جہاد کو اچھی طرح قائم کرکے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نوازش کا بدلہ دو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عباده المؤمنين بالصَّلاة، وخصَّ منها الرُّكوع والسُّجود لفضلهما وركنيَّتِهِما وعبادته التي هي قرَّة العيون وسلوةُ القلب المحزون، وإنَّ ربوبيَّته وإحسانَه على العباد يقتضي منهم أن يُخْلِصوا له العبادةَ، ويأمرهم بفعل الخيرِ عموماً، وعلَّق تعالى الفلاح على هذه الأمور، فقال: {لعلَّكم تفلحون}؛ أي: تفوزون بالمطلوب المرغوب، وتَنْجون من المكروه المرهوب؛ فلا طريق للفلاح سوى الإخلاص في عبادة الخالق والسعي في نفع عبيده؛ فمن وُفِّق لذلك؛ فله القَدَحُ المعَلاَّ من السعادة والنجاح والفلاح.