ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 78

وَ جَاہِدُوۡا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ؕ ہُوَ اجۡتَبٰىکُمۡ وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ؕ مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ ؕ ہُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَ فِیۡ ہٰذَا لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۚۖ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰہِ ؕ ہُوَ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَ نِعۡمَ النَّصِیۡرُ ﴿٪۷۸﴾
اور اللہ کے بارے میں جہاد کرو جیسا اس کے جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمھیں چنا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، اپنے باپ ابراہیم کی ملت کے مطابق۔ اسی نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے اور اس (کتاب) میں بھی، تاکہ رسول تم پر شہادت دینے والا بنے اور تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔ سو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو، وہی تمھارا مالک ہے، سو اچھا مالک ہے اور اچھا مددگار ہے۔ En
اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور تم پر دین کی (کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔ (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اُسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں۔ اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو اور خدا کے دین کی (رسی کو) پکڑے رہو۔ وہی تمہارا دوست ہے۔ اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے
En
اور اللہ کی راه میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمہیں برگزیده بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواه ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواه بن جاؤ۔ پس تمہیں چاہئے کہ نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط تھام لو، وہی تمہارا ولی اور مالک ہے۔ پس کیا ہی اچھا مالک ہے اور کتنا ہی بہتر مددگار ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 78) ➊ {وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ: جِهَادِ جَهَدَ يَجْهَدُ} (ف) میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہے کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا۔ یہ لفظ اصل میں اللہ کے راستے میں لڑائی کے متعلق بولا جاتا ہے، یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ یہی سورۂ مبارکہ ہے جس میں سب سے پہلے کفار سے لڑنے کی اجازت دی گئی اور لڑنے والوں کو اللہ کی نصرت کی خوش خبری دی گئی۔ دیکھیے اس سورت کی آیت (۳۹) { اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا۔} اب اس آیت میں اِذن سے بڑھ کر جہاد کا حکم دے دیا ہے۔ (ابن عاشور) ویسے جہاد کا لفظ ہر اس کوشش پر بھی بولا جاتا ہے جو کفار کے مقابلے میں اسلام کی سربلندی کے لیے جان، مال، زبان یا قلم کے ساتھ کی جائے، بلکہ نفس کی ناجائز خواہشوں کے مقابلے پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: [أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِيْ طَاعَةِ اللّٰهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوْبَ] [مسند أحمد: 21/6، ح: ۲۴۰۱۳] کیا میں تمھیں مومن کے بارے میں بتاؤں؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بے خوف ہوں اور مسلم وہ ہے کہ لوگ اس کی زبان اور ہاتھ سے سلامت رہیں اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطائیں اور گناہ چھوڑ دے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ (۲ /۸۱) میں لکھا ہے: اسے امام احمد نے اپنی مسند (۶ /۲۱) میں روایت کیا ہے۔ سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ امام المفسرین طبری نے فرمایا، اہلِ تاویل کا اللہ کے فرمان { وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ } کے متعلق اختلاف ہے، ان میں سے بعض نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ مشرکین سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا اس کے جہاد کا حق ہے۔ پھر طبری نے اپنی سند سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر فرمایا: { «‏‏‏‏وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ» ‏‏‏‏ كَمَا جَاهَدْتُّمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ } یعنی اس آیت اللہ کے بارے میں جہاد کرو جیسا اس کے جہاد کا حق ہے کا مطلب ہے، جیسا کہ تم نے پہلی مرتبہ جہاد کیا تھا۔ اور بعض نے فرمایا کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو، یہی جہاد کا حق ہے۔ پھر طبری نے یہ قول بھی ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اپنی سند سے بیان فرمایا۔ کچھ اور نے فرمایا، اس کا معنی ہے کہ حق پر عمل کرو، جیسا کہ اس پر عمل کا حق ہے۔ طبری فرماتے ہیں، یہ قول ضحاک سے بعض ایسے راویوں نے ذکر کیا ہے جن کی روایت میں نظر ہے۔ آخر میں امام طبری اپنا فیصلہ بیان فرماتے ہیں: { وَالصَّوَابُ مِنَ الْقَوْلِ فِيْ ذٰلِكَ قَوْلُ مَنْ قَالَ عُنِيَ بِهِ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لِأَنَّ الْمَعْرُوْفَ مِنَ الْجِهَادِ ذٰلِكَ، وَهُوَ الْأَغْلَبُ عَلٰي قَوْلِ الْقَائِلِ جَاهَدْتُّ فِي اللّٰهِ} اس آیت کی تفسیر میں درست بات اس کی ہے جس نے کہا کہ اس سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے، کیونکہ جہاد کا معروف معنی یہی ہے اور جب کوئی کہے کہ میں نے اللہ (کے راستے) میں جہاد کیا تو اس کا اغلب معنی یہی ہے۔ امام طبری نے یہ بہت عمدہ بات فرمائی ہے، کیونکہ اگر ہر گناہ چھوڑنے والا مہاجر کہلا سکتا ہے تو انصار و مہاجرین کا فرق ختم ہو جاتا ہے اور اگر ہر دین پڑھانے والا، قرآن کا قاری، کسی دینی رسالے یا ادارے کا مدیر یا اپنے نفس سے جہاد کرنے والا مجاہد کہلا سکتا ہے تو کفار کے مقابلے میں جان و مال سب کچھ قربان کر دینے والے اور کسی مفتی و مدرس اور اپنے نفس سے جہاد کرنے والے کسی مسلم کے درمیان مجاہد کہلانے میں کوئی فرق نہیں رہے گا، بلکہ سارے مسلمان ہی مجاہد کہلائیں گے، جب کہ مجاہد صرف مجاہد ہی کو کہتے ہیں، کسی مدرس، مبلغ، مفتی، مصنف یا نفس سے جہاد کرنے والے کو کوئی مجاہد نہیں کہتا۔ رہی حدیث کہ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرے، تو اس میں مجاہدین کو نصیحت ہے کہ صرف کفار سے لڑنے کو کافی نہ سمجھنا، اصل مجاہد تم اس وقت بنو گے جب اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرو گے اور مہاجرین کو نصیحت ہے کہ صرف ترک وطن کو کافی نہ سمجھنا، اصل مہاجر تم اس وقت بنو گے جب خطائیں اور گناہ چھوڑ دو گے۔
➋ بعض لوگ کفار سے جہاد کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپسی پر فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ] ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔ گویا کفار سے لڑائی چھوٹا جہاد ہے، حالانکہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر گز ثابت نہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے [سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ۲۴۶۰] میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انھوں نے مجموع الفتاویٰ (۱۱؍۱۹۷) سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کا علم رکھنے والوں میں سے کسی نے اسے روایت کیا ہے۔ کفار سے جہاد سب سے زیادہ عظمت والے اعمال میں سے ہے، بلکہ انسان اپنی خوشی سے جو عمل کرتا ہے ان سب سے افضل ہے۔ پھر کچھ آیات و احادیث نقل فرمائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے۔
➌ { هُوَ اجْتَبٰىكُمْ:} اس خطاب کے اولین مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنا دین قبول کرنے، اسے پھیلانے اور اسے نہ ماننے والوں کے ساتھ جہاد کے لیے چن لیا ہے۔ اور یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہ صحابہ ہی تھے جنھوں نے دعوت و جہاد کے ساتھ چند سالوںمیں مشرق ومغرب تک اسلام پہنچا دیا۔ پھر ان کے بعد جو لوگ بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دعوت و جہاد کے ساتھ کفر کو مغلوب اور اسلام کو غالب کرتے رہے وہ بھی اس کے مخاطب ہیں۔ یہ آیت صحابہ اور ان کے پیروکاروں کی فضیلت کی زبردست دلیل ہے۔ وہ لوگ بہت بڑی غلطی پر ہیں جو اللہ کے ان چنے ہوئے پیاروں سے بغض رکھتے ہیں اور ان پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یا پوری امت اس کی مخاطب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمام امتوں میں سے چن لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس آیت کا اور { كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ } کا مفہوم ایک ہی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۱۰) کی تفسیر۔
➍ { وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ:} امت کے چنیدہ ہونے کے ساتھ ہی اس کی افضلیت کی وجہ بھی بیان فرما دی کہ اس دین میں کوئی تنگی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ] [بخاري، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] یہ دین آسان ہے۔ اور فرمایا: [أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَی اللّٰهِ الْحَنِيْفِيَّةُ السَّمْحَةُ] [بخاري، قبل ح: ۳۹] تمام دینوں میں سے اللہ کو سب سے پسند ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو سادہ اور آسان ہے۔ بخاری رحمہ اللہ نے پہلی حدیث سند کے ساتھ اور دوسری معلق بیان فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: «‏‏‏‏يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۸۵] اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ { وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ } سے اس جملے کا تعلق یہ ہے کہ اگر تم میں جہاد کی طاقت نہیں تو تمھیں رخصت ہے، فرمایا: «‏‏‏‏لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ» ‏‏‏‏ [الفتح: ۱۷] نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔ اسی طرح عورتوں بوڑھوں، کمزوروں اور نادانوں کو جہاد معاف کر دیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۹۱ تا ۹۳)۔
دین میں کسی مشکل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو جی میں آئے کرتا پھرے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے احکام ایسے رکھے ہیں جو انسانی طاقت کے اندر ہیں، اسی لیے فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۸۶] اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔ پھر کمزوری یا بڑھاپے یا کسی اور عذر کی بنا پر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں رخصت اور تخفیف کا قاعدہ مقرر کیا ہے (جیسے سفر میں قصر نماز، سفر اور بیماری میں روزہ افطار کرنے کی اجازت، پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت، ساری زمین میں جہاں وقت ہو جائے نماز کی اجازت وغیرہ) پھر گناہوں کے ارتکاب کی صورت میں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جسے پچھلی امتوں کے فقیہوں نے اپنی موشگافیوں سے ختم کر ڈالا تھا۔ اسی طرح پہلی امتوں کے بعض سخت احکام منسوخ کر دیے اور وہ رسوم و رواج بھی ختم کر دیے جو لوگوں نے خود یا ان کے فقیہوں نے ان پر لازم کر رکھے تھے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷)۔
➎ { مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ: أَيْ مُتَّبِعِيْنَ مِلَّةَ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيْمَ} یعنی اس حال میں کہ تم اپنے باپ ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہو۔ { اَبِيْكُمْ } سے اگر مخاطب عرب سمجھے جائیں تو ابراہیم علیہ السلام کو ان کا باپ اس لیے فرمایا کہ وہ اکثر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے تھے اور اگر پوری امت مسلمہ مخاطب ہو تو ابراہیم علیہ السلام پوری امتِ مسلمہ کے اس لیے باپ ہیں کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ ہیں۔
➏ {هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا: أَيْ مِنْ قَبْلِ الْقُرْآنِ وَ فِيْ هٰذَا الْقُرْآنِ} عام طور اس کی تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ اس نے یعنی ابراہیم علیہ السلام نے قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمھارا نام مسلمین رکھا۔ مگر امام طبری نے دو صحیح سندوں کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے { هُوَ سَمّٰىكُمْ } کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (تمھارا نام مسلم رکھا ہے)۔ یعنی یہ نام ابراہیم علیہ السلام نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ابن کثیر نے فرمایا کہ مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی اور مقاتل بن حیان نے بھی یہی فرمایا۔ اس کے بعد ابن کثیر نے طبری سے عبد الرحمان بن زید بن اسلم کا قول نقل فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے تمھارا نام مسلمین رکھا اور اس پر ابن جریر کا تبصرہ نقل فرمایا کہ یہ کسی طرح صحیح نہیں، کیونکہ معلوم ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے قرآن میں اس امت کا نام مسلمین نہیں رکھا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تمھارا نام اس سے پہلے اور اس میں مسلمین رکھا۔ مجاہد نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے گزشتہ کتابوںمیں اور اس ذکر (قرآن) میں بھی۔ مجاہد کے علاوہ بھی کئی مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہی بات درست ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا: «‏‏‏‏هُوَ اجْتَبٰىكُمْ» ‏‏‏‏ یعنی اس (اللہ) نے تمھیں چنا۔ پھر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ترغیب یہ کہہ کر دلائی کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی ملت ہے، پھر اس امت پر احسان جتلایا کہ اس نے پہلی تمام کتابوں میں اور اس قرآن میں تمھارا نام مسلمین رکھا ہے۔ آئندہ فائدے میں ایک حدیث آ رہی ہے جس میں صراحت ہے کہ ہمارا نام اللہ تعالیٰ نے مسلمین، مومنین اور عباد اللہ رکھا ہے۔ قرآن میں مسلمین نام کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۶۴) اور سورۂ زمر (۱۲)۔
➐ کچھ سال پہلے ایک صاحب نے کہا کہ جو شخص مسلم کے سوا کوئی اور نام اختیار کرے وہ کافر ہے، خارج از اسلام ہے۔ اگرچہ ان کے فوت ہونے کے بعد وہ زور نہیں رہا مگر اب بھی ان کے کئی متاثرین کافر گری کا یہ شغل جاری رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ وہ خود بھی کئی گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے پر فتوے لگا رہے ہیں۔ حالانکہ کوئی مسلم اگر اسلام کی کسی صفت کو بطور نام استعمال کرلے تو وہ ملت اسلام سے کیسے خارج ہو گیا؟ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۳۵] بے شک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اورمومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ اور حارث اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنِ ادَّعٰی دَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ جُثَا جَهَنَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَقَالَ وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَادْعُوْا بِدَعْوَی اللّٰهِ الَّذِيْ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ عِبَادَ اللّٰهِ] [ترمذي الأدب، باب ماجاء في مثل الصلاۃ…: ۲۸۶۳۔ مسند أحمد: 344/5، ح: ۲۲۹۷۶] جو شخص جاہلیت کی دعوت کی آواز دے وہ جہنم کی ڈھیریوں میں سے ہے۔ ایک آدمی نے کہا: یارسول اللہ! خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ سو تم اللہ کی دعوت کی طرف بلاؤ جس نے تمھارا نام مسلمین، مومنین اور عباد اللہ رکھا ہے۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مسلمین کے علاوہ صفاتی نام (مثلاً مومنین، عباد اللہ) لینے میں کوئی حرج نہیں۔
➑ { لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) یہاں رسول کا ذکر پہلے ہے اور سورۂ بقرہ میں امت کا پہلے ہے۔ کیونکہ وہاں امت کی تعریف ہو رہی ہے جبکہ یہاں ملت ابراہیم کی پیروی کی تاکید ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، اس لیے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پہلے ہے۔ (ابن عاشور)
➒ { فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ:} یہ { هُوَ اجْتَبٰىكُمْ } اور { هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ } پر عطف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اتنے انعام کیے ہیں تو تم اس کا شکر ادا کرنے کے لیے ہمیشہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ ان دو اعمال کی تاکید اس لیے فرمائی کہ کسی اسلام لانے والے کے ایمان کا ثبوت اقرار کے بعد ان دونوں عملوں سے ملتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵، ۱۱)۔
➓ { وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ:} اور اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے تھام لو، یعنی اس کے تمام احکام کو مضبوطی سے تھام لو، اسی طرح ہر مشکل اور مصیبت بلکہ اپنے ہر کام میں اسی کے سہارے کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور کسی غیر کی طرف نظر مت اٹھاؤ۔
⓫ {هُوَ مَوْلٰىكُمْ:} یہ اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ تمھارا مالک اور تمھارے تمام کاموں کا ذمہ اٹھانے والا وہی ہے۔
⓬ {فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُ:} وہ اچھا مالک اور اچھا مددگار ہے، کیونکہ وہ کسی کا ذمہ اٹھا لے تو اسے ہر فکر سے کافی ہو جاتا ہے اور جب کسی کی مدد کر دے تو اسے اس کے تمام دشمنوں پر غالب کر دیتا ہے۔ دعائے قنوت میں ہے: [إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ] [أبوداوٗد، الوتر، باب القنوت في الوتر: ۱۴۲۵] حقیقت یہ ہے کہ جس کا تو دوست بن جائے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا اور جس کا تو دشمن ہو جائے وہ کبھی عزت نہیں پاتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

78۔ 1 اس جہاد سے مراد بعض نے وہ جہاد اکبر لیا ہے جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کفار و مشرکین سے کیا جاتا ہے اور بعض نے ادائے امر الٰہی کی بجاآوری، کہ اس میں بھی نفس امارہ اور شیطان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اور بعض نے ہر وہ کوشش مراد لی ہے جو حق اور صداقت کے غلبے اور باطل کی سرکوبی۔ 78۔ 2 یعنی ایسا حکم نہیں دیا گیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کردیئے علاوہ ازیں بہت سی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کردیں جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔ 78۔ 3 عرب حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے تھے، اس اعتبار سے حضرت ابراہیم ؑ عربوں کے باپ تھے اور غیر عرب بھی حضرت ابراہیم ؑ کو ایک بزرگ شخصیت کے طور پر اسی طرح احترام کرتے تھے، جس طرح بیٹے باپ کا احترام کرتے ہیں، اس لئے وہ تمام ہی لوگوں کے باپ تھے، علاوہ ازیں پیغمبر اسلام کے (عرب ہونے کے ناطے سے) حضرت ابراہیم ؑ باپ تھے، اس لئے امت محمدیہ کے بھی باپ ہوئے، اس لئے کہا گیا، یہ دین اسلام، جسے اللہ نے تمہارے لئے پسند کیا ہے، تمہارے باپ ابراہیم ؑ کا دین ہے، اسی کی پیروی کرو۔ 78۔ 4 مسلم کا مرجع بعض کے نزدیک حضرت ابراہیم ؑ ہیں یعنی نزول قرآن سے پہلے تمہارا نام مسلم بھی حضرت ابراہیم ؑ ہی نے رکھا ہے اور بعض کے نزدیک، مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔ 78۔ 5 یہ گواہی، قیامت والے دن ہوگی، جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ، آیت 143 کا حاشیہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق [108] ہے۔ اس نے تمہیں (اپنے دین کے کام کے لئے) چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں [109] رکھی۔ یہ تمہارے باپ [110] ابراہیم کا دین ہے۔ اللہ نے اس سے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس (قرآن) میں [111] بھی (مسلم ہی رکھا ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو [112] اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ لہذا نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور ال (کے دین) کو مضبوطی سے [113] تھامے رکھو۔ وہی تمہارا کارساز ہے وہ کیسا اچھا کارساز ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے۔
[108] جہاد کی اقسام:۔
جہاد کرنے کا حق یہ ہے کہ دامے، درمے، سخنے ہر طرح سے جہاد کیا جائے۔ جہاد در اصل ہر اس بھرپور کوشش کا نام ہے جو امت دین کے لئے اور اس کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کی جائے۔ اس کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے اور اسے مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے دین کے تابع بنا دے۔ اس کا دوسرا درجہ اپنے اہل و عیال اور گھر بار کو پوری کوشش کے ساتھ اس راہ پر ڈالنا ہے۔ پھر اس کے بعد رشتہ داروں کی باری آتی ہے پھر عام لوگوں کی۔ جہاد کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جہاں موقع اور ضرورت ہو انسان زبان سے لوگوں کو اس راہ کی طرف دعوت دے اسلام کی تبلیغ اشاعت کرے۔ اور جہاں موقع اور ضرورت ہو تو صاحب قلم، قلم سے جہاد کریں۔ اسلام کی تعلیم کی اشاعت کر کے لوگوں میں پھیلائیں۔ اور اسلام کے مخالفوں کے اعتراضات کے مدلل جواب دیں۔ اور اس کا آخری درجہ یہ ہے کہ بوقت ضرورت جہاد بالسیف سے بھی دریغ نہ کریں۔ خواہ اس میں جان اور مال کی قربانی دینی پڑے۔ اور اس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو سربلند کرنا ہو۔ اور یہ ساری اور ہر قسم کی کوششیں جہاد ہی کے ضمن میں آتی ہیں۔ اور ایک مومن کے ایمان کا تقاضا ہیں جس قدر کسی کا ایمان مضبوط ہو گا اس قدر وہ جہاد میں سرگرم عمل رہے گا۔ اس کا ایمان خود اسے ایسی کوششوں کی ترغیب دیتا رہے گا۔
[109] دین میں تنگی نہیں کمزور اور مجبور لوگوں کا لحاظ:۔
یعنی اسلام نے مسلمانوں پر جو فرائض عائد کئے ہیں ان میں ہر قسم کے لوگوں کی مجبوریوں کو بھی ملحوظ رکھا ہے اور سختی نہیں کی۔ مثلاً بوڑھوں، بچوں، عورتوں، اندھوں اور معذوروں کو جہاد بالسیف سے سبکدوش کیا گیا ہے۔ مسافروں کی نماز میں تخفیف کر دی گئی ہے۔ مریضوں کو نماز بیٹھ کر اور زیادہ بیماری میں لیٹ کر، حتیٰ کہ اشارہ سے پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے۔ پانی نہ ملنے پر تیمم کی اجازت ہے۔ اور ایسی مثالیں بے شمار ہیں اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں میں جو سخت احکام تھے انھیں دور کر کے آسان کر دیا گیا ہے اور اس کی مثالیں کسی دوسرے مقام پر گزر چکی ہیں۔ اور اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ رسم و رواج کی پابندیوں اور بعض بزرگان دین کی خود ساختہ عائد کردہ پابندیوں کو ساقط الاعتبار قرار دیا گیا ہے اور اس کی کچھ تفصیل سورۃ اعراف کی آیت نمبر 157 کے تحت گزر چکی ہے اور اس سے متعلق احادیث سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 158 کے تحت درج کر دی گئی ہیں۔
[110] دین کے معاملہ میں سیدنا ابراہیم کا خصوصی ذکر کیوں؟
تمام انبیاء و رسل کا دین ایک ہی رہا ہے اور یہاں بالخصوص جو حضرت ابراہیمؑ کے دین کا نام لیا، دین موسوی یا عیسوی وغیرہ کا نام نہیں لیا، تو اس کی چند وجوہ ہیں۔ جو یہ ہیں:
1۔ آپ کو یہودی، عیسائی، مسلمان حتیٰ کہ صابی بھی اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور آپ سب کے ہاں یکساں محترم ہیں۔
2۔ اہل عرب میں سے اکثر قبائل آپ کی ہی اولاد تھے اور آپ ان کے جد اعلیٰ ہیں۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کے روحانی باپ ہیں اور حضرت ابراہیمؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد تھے۔ لہٰذا حضرت ابراہیمؑ تمام مسلمانوں کے باپ ہوئے۔ واضح رہے کہ دین کے بجائے ملت کا لفظ آیا ہے۔ اور یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔ اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ دین صرف ان احکام و فرامین کا نام ہے جو کتاب و سنت یا کسی الہامی کتاب میں مذکور ہوتے ہیں۔ انہی احکام و فرامین کو جب عملی شکل دے کر رائج کر دیا جائے تو ایسے نظام کا نام ملت ہے۔ یعنی دین کی عملی شکل جو حضرت ابراہیمؑ نے پیش فرمائی تھی وہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا ہمیں انہی کی ملت کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔
[111] مسلم کے لغوی معنی ہیں اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم ختم کر دینے والا۔ اس لحاظ سے ہر نبی پر ایمان لانے والی قوم مسلم ہی تھی۔ ابراہیمی یا نوحی، یا موسوی، یا عیسوی، وغیرہ ناموں سے وہ لوگ نہیں پکارے جاتے تھے۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کے یہ نام رکھے تھے۔ ان کے یہ نام ان کے خود ساختہ تھے یا دوسروں کے تجویز کردہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام بھی مسلمان ہی رکھا تھا اور تمہارا نام بھی مسلمان ہی ہے۔
[112] اس آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 14 کا حاشیہ
[113] یعنی تمہیں ہر قسم کے احکام و قوانین خواہ یہ درون خانہ سے تعلق رکھتے ہوں یا تمہاری معیشت و معاش سے یا معاشرت و تمدن سے یا داخلی و خارجی پالیسی سے اللہ کے دین سے لینے چاہئیں اور انہی پر پوری طرح عمل پیرا ہونا چاہئے۔ لہٰذا تم اپنے نام کی لاج رکھو اور جس ہدایت عامہ کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو نمونہ بناؤ۔ بدنی اور مالی عبادات میں بھی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ ہر کام میں شریعت سے روشنی حاصل کرو اور جادہ حق سے ادھر ادھر نہ جاؤ۔ اس کے فضل اور رحمت پر اعتماد رکھو اور تمام کمزور سہارے چھوڑ دو۔ صرف اللہ کو ہی اپنا مالک اور مولیٰ سمجھو۔ اس سے بہتر مالک اور مددگار تمہیں اور کون مل سکتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

امت مسلمہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت ٭٭
’ اپنے مال، جان اور اپنی زبان سے راہ اللہ میں جہاد کرو اور حق جہاد ادا کرو ‘۔ جیسے حکم دیا ہے کہ «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102]‏‏‏‏ ’ اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے ‘، اسی نے تمہیں برگزیدہ اور پسندیدہ کر لیا ہے۔ اور امتوں پر تمہیں شرافت وکرامت عزت وبزرگی عطا فرمائی۔ کامل رسول اور کامل شریعت سے تمہیں سربرآوردہ کیا، تمہیں آسان، سہل اور عمدہ دین دیا۔ وہ احکام تم پر نہ رکھے وہ سختی تم پر نہ کی وہ بوجھ تم پر نہ ڈالے جو تمہارے بس کے نہ ہوں جو تم پر گراں گزریں۔ جنہیں تم بجا نہ لاسکو۔
اسلام کے بعد سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ تاکید والا، رکن نماز ہے۔ اسے دیکھئیے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہوں تو چار رکعت فرض اور پھر اگر سفر ہو تو وہ بھی دو ہی رہ جائیں۔ اور خوف میں تو حدیث کے مطابق صرف ایک ہی رکعت وہ بھی سواری پر ہو تو اور پیدل ہو تو، روبہ قلبہ ہو تو اور دوسری طرف توجہ ہو تو، اسی طرح یہی حکم سفر کی نفل نماز کا ہے کہ جس طرف سواری کا منہ ہو پڑھ سکتے ہیں۔
پھر نماز کا قیام بھی بوجہ بیماری کے ساقط ہو جاتا ہے۔ مریض بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹے لیٹے ادا کر لے۔ اسی طرح اور فرائض اور واجبات کو دیکھو کہ کس قدر ان میں اللہ تعالیٰ نے آسانیاں رکھی ہیں۔
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { میں یک طرفہ اور بالکل آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:266/5:اسنادہ ضعیف]‏‏‏‏
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو فرمایا تھا { تو خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا، سختی نہ کرنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3038]‏‏‏‏ اور بھی اس مضمون کی بہت سی حدیثیں ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ ’ تمہارے دین میں کوئی تنگی و سختی نہیں ‘۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں «مِلَّة» کا نصب بہ نزع خفض ہے گویا اصل میں (‏‏‏‏ «كَمِلَّةِ أَبِيكُمْ» ) تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ «الْزَمُوا» کو محذوف مانا جائے اور «مِّلَّةَ» کو اس کا مفعول قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ اسی آیت کی طرح ہو جائے گا «دِينًا قِيَمًا» الخ، ’ اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے، ابراہیم علیہ السلام سے پہلے۔ کیونکہ ان کی دعا تھی کہ ہم دونوں باپ بیٹوں کو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو مسلمان بنا دے۔‏‏‏‏
لیکن امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ قول کچھ جچتا نہیں کہ پہلے سے مراد ابراہیم علیہ السلام کے پہلے سے ہو اس لیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس امت کا نام اس قرآن میں مسلم نہیں رکھا۔
پہلے سے کے لفظ کے معنی یہ ہیں کہ پہلی کتابوں میں ذکر میں اور اس پاک اور آخری کتاب میں۔ یہی قول مجاہد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کا ہے اور یہی درست ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس امت کی بزرگی اور فضیلت کا بیان ہے ان کے دین کے آسان ہونے کا ذکر ہے۔
پھر انہیں دین کی مزید رغبت دلانے کے لیے بتایا جا رہا ہے کہ ’ یہ دین وہ ہے جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام لے کر آئے تھے ‘، پھر اس امت کی بزرگی کے لیے اور انہیں مائل کرنے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ’ تمہارا ذکر میری سابقہ کتابوں میں بھی ہے۔ مدتوں سے انبیاء کی آسمانی کتابوں میں تمہارے چرچے چلے آ رہے ہیں۔ سابقہ کتابوں کے پڑھنے والے تم سے خوب آگاہ ہیں پس اس قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلم ہے اور خود اللہ کا رکھا ہوا ہے ‘۔
نسائی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص جاہلیت کے دعوے اب بھی کرے (‏‏‏‏یعنی باپ دادوں پر حسب نسب پر فخر کرے دوسرے مسلمانوں کو کمینہ اور ہلکا خیال کرے) وہ جہنم کا ایندھن ہے }۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو؟ اور نمازیں بھی پڑھتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ہاں ہاں اگرچہ وہ روزے دار اور نمازی ہو }۔ یعنی مسلمین، مومنین اور عباد اللہ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
سورۃ البقرہ کی آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» ۱؎ [2-البقرة:21]‏‏‏‏ کی تفسیر میں ہم اس حدیث کو بیان کر چکے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہیں عادل عمدہ بہتر امت اسلئے بنایا ہے اور اس لیے تمام امتوں میں تمہاری عدالت کی شہرت کر دی ہے کہ تم قیامت کے دن اور لوگوں پر شہادت دو ‘۔
تمام اگلی امتیں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت کا اقرار کریں گی۔ کہ اس امت کو اور تمام امتوں پر سرداری حاصل ہے اس لیے ان کی گواہی اس پر معتبر مانی جائے گی۔ اس بارے میں کہ اس کے رسولوں نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچایا ہے، وہ تبلیغ کا فرض ادا کر چکے ہیں اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم امت پر شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دین پہنچا دیا اور حق رسالت ادا کر دیا۔
اس بابت جتنی حدیثیں ہیں اور اس بارے کی جتنی تفسیر ہے وہ ہم سب کی سب سورۃ البقرہ کے سترھویں رکوع کی آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرة:143]‏‏‏‏ کی تفسیر میں لکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں اسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں وہیں دیکھ لی جائے۔ وہیں نوح علیہ السلام اور ان کی امت کا واقعہ بھی بیان کر دیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اتنی بڑی عظیم الشان نعمت کا شکریہ تمہیں ضرور ادا کرنا چاہیئے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ جو اللہ کے فرائض تم پر ہیں انہیں شوق خوشی سے بجا لاؤ خصوصاً نماز اور زکوٰۃ کا پورا خیال رکھو۔ جو کچھ اللہ نے واجب کیا ہے اسے دلی محبت سے بجالاؤ اور جو چیزیں حرام کر دیں ہیں اس کے پاس بھی نہ پھٹکو ‘۔
پس نماز جو خالص رب کی ہے اور زکوٰۃ جس میں رب کی عبادت کے علاوہ مخلوق کے ساتھ احسان بھی ہے کہ امیر لوگ اپنے مال کا ایک حصہ فقیروں کو خوشی خوشی دیتے ہیں، ان کا کام چلتا ہے دل خوش ہو جاتا ہے۔ اس میں بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے بہت آسانی ہے حصہ کم بھی ہے اور سال بھر میں ایک ہی مرتبہ۔
زکوٰۃ کے کل احکام سورۃ التوبہ کی آیت زکوٰ «اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [9-التوبہ:60]‏‏‏‏ کی تفسیر میں ہم نے بیان کر دئے ہیں وہیں دیکھ لیے جائیں۔
پھر حکم ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر پورا بھروسہ رکھو، اسی پر توکل کرو، اپنے تمام کاموں میں اس کی امداد طلب کیا کرو، ہر وقت اعتماد اس پر رکھو، اسی کی تائید پر نظریں رکھو۔ وہ تمہارا مولیٰ ہے، تمہارا حافظ ہے ناصر ہے، تمہیں تمہارے دشمنوں پر کامیابی عطا فرمانے والا ہے، وہ جس کا ولی بن گیا اسے کسی اور کی ولایت کی ضرورت نہیں، سب سے بہتر والی وہی ہے سب سے بہتر مددگار وہی ہے، تمام دنیا گو دشمن ہو جائے لیکن وہ سب قادر ہے اور سب سے زیادہ قوی ہے ‘۔
ابن ابی حاتم میں وہیب بن ورد سے مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ’ اے ابن آدم اپنے غصے کے وقت تو مجھے یاد کر لیا کر۔ میں بھی اپنے غضب کے وقت تجھے معافی فرما دیا کروں گا، اور جن پر میرا عذاب نازل ہو گا میں تجھے ان میں سے بچا لونگا۔ برباد ہونے والوں کے ساتھ تجھے برباد نہ کروں گا۔ اے ابن آدم جب تجھ پر ظلم کیا جائے تو صبروضبط سے کام لے، مجھ پر نگاہیں رکھ، میری مدد پر بھروسہ رکھ میری امداد پر راضی رہ، یاد رکھ میں تیری مدد کروں یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تو آپ اپنی مدد کرے ‘۔
(‏‏‏‏اللہ تعالیٰ ہمیں بھلائیوں کی توفیق دے اپنی امداد نصیب فرمائے آمین) «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔