ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 76

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۷۶﴾
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔ En
جو ان کے آگے ہے اور جن ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے
En
وه بخوبی جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) ➊ { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ:} یہ جملہ قرآن مجید میں چار مقامات پر آیا ہے، سورۂ بقرہ(۲۵۵)، سورۂ طٰہٰ (۱۱۰)، سورۂ انبیاء (۲۸) اور یہاں سورۂ حج میں۔ ہر مقام پر اس جملے سے پہلے یا بعد میں سفارش یا معبودانِ باطلہ کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو اگر بذات خود حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر نہیں بلکہ اللہ کے ہاں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہو تو یہ بھی غلط ہے، کیونکہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر شخص کے ظاہر اور مخفی حالات وہی جانتا ہے، دنیا کی کھلی اور چھپی ضرورتیں اور مصلحتیں بھی وہی جانتا ہے، فرشتوں اور نبیوں سمیت کسی مخلوق کو بھی پوری طرح معلوم نہیں کہ کس وقت کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے زیادہ مقرب بندوں کو بھی یہ حق نہیں دیا کہ وہ اس کے اذن کے بغیر جو سفارش چاہیں کر بیٹھیں اور ان کی سفارش قبول بھی ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵۵) «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» کی تفسیر۔
➋ { وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یعنی وہ (پیغمبر خود) کوئی اختیار نہیں رکھتے، اختیار ہر چیز میں اللہ کا ہے۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

76۔ 1 جب تمام معاملات کا مرجع اللہ ہی ہے تو پھر انسان اس کی نافرمانی کرکے کہاں جاسکتا ہے اور اس کے عذاب سے کیونکر بچ سکتا ہے؟ کیا اس کے لئے یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ اس کی اطاعت اور فرماں برداری کا راستہ اختیار کر کے اس کی رضا حاصل کرے؟ چناچہ اگلی آیت میں اس کی صراحت کی جا رہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ وہ اسے بھی جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور اسے بھی جو ان سے اوجھل [105] ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف [106] لوٹائے جاتے ہیں۔
[105] سفارش پر پابندیاں:۔
﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ یہ جملہ قرآن کریم میں چار مقامات سورۃ بقرۃ آیت 255 (آیۃ الکرسی) سورۃ طہ، آیت نمبر 110، سورۃ انبیاء، آیت نمبر 28، اور یہاں سورۃ حج کی آیت نمبر 76 میں استعمال ہوا ہے۔ اور ہر مقام پر اس جملہ سے پہلے یا آخر میں سفارش اور معبودان باطل کا ذکر ہے۔ اس جملہ میں سفارش پر پابندیوں کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ سفارش پر پابندیاں یہ ہیں۔
(1) کوئی شخص اللہ کے اذن کے بغیر سفارش نہ کر سکے گا۔
(2) سفارش اسی کے حق میں کی جا سکے گی جس کے حق میں اللہ چاہے گا۔
(3) صرف اس جرم یا خطا کے لئے جا سکے گی جس اللہ کو معاف کرنا منظور ہو گا۔ اب سب پابندیوں کو ملانے سے منطقی نتیجہ یہی حاصل ہوتا ہے کہ سفارش پر ہرگز تکیہ نہ کر بیٹھنا چاہئے۔ اور اس جملہ میں سفارش پر تکیہ نہ کرنے کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ مثلاً ایک با اثر شخص کسی افسر سے مل کر کہتا ہے کہ حضور! آپ کا فلاں ملازم جس جرم میں ماخوذ ہے اسے معاف کر دیں۔ یہ میرا خاص آدمی ہے۔ اور افسر اسے یہ جواب دیتا ہے کہ تمہاری نظر تو صرف اس کے حالیہ جرم پر ہے۔ لیکن اس کا سابقہ ریکارڈ بھی بہت گندا ہے۔ لہٰذا اب مجھے اس کا موجودہ جرم بھی معاف کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ جس پر سفارش کرنے والا لاجواب اور بے بس ہو جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت حال اللہ کے حضور سفارش کی ہے۔ اللہ تو ہر انسان کے پورے ریکارڈ سے واقف ہے اور یہی اس جملہ کا مطلب ہے لیکن سفارش کرنے والے کو اس کی پوری ہسٹری شیٹ کا علم ہو ہی نہیں سکتا جس کی وہ سفارش کرنا چاہتا ہے اسی لئے سفارش پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
[106] اگرچہ یہ جملہ عام ہے اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے سپرد ہے۔ مگر یہاں ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ جن معبودوں یا بزرگوں کی سفارش پر تکیہ کیا جاتا ہے یا لوگوں کو جھوٹے دعوے دیئے جاتے ہیں یا لوگ خود ہی خود فریبی میں مبتلا ہو چکے ہیں ان کے یہ محض توہمات ہیں جو لغو اور باطل ہیں۔ ہر شخص کا انجام وہی کچھ ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منصب نبوت کا حقدار کون؟ ٭٭
اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کر لیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے؟
جیسے فرمایا آیت «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:124]‏‏‏‏ ’ رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر و باہر ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا» ۱؎ [72-الجن:28-26]‏‏‏‏، یعنی ’ وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے ‘۔
پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ» ۱؎ [5-المائدة:67]‏‏‏‏، ’ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچا دے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہو گا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے ‘، الخ۔