تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا اورسنتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کس منصب کے لائق کون ہے؟ لہٰذا اس کے انتخاب میں غلطی نہیں ہو سکتی اور نہ اس سے بہتر انتخاب کسی کا ہو سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمایا آیت «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ’ رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر و باہر ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا» ۱؎ [72-الجن:28-26]، یعنی ’ وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے ‘۔
پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ» ۱؎ [5-المائدة:67]، ’ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچا دے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہو گا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے ‘، الخ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما بيَّن تعالى كمالَه وضعفَ الأصنام وأنَّه المعبود حقًّا؛ بيَّن حالة الرسل وتميُّزهم عن الخلق بما تميَّزوا به من الفضائل، فقال: {الله يصطفي من الملائكة رسلاً ومن الناس}؛ أي: يختار ويجتبي من الملائكة رسلاً ومن الناس رسلاً؛ يكونون أزكى ذلك النوع وأجمعَهُ لصفاتِ المجدِ وأحقَّه بالاصطفاء؛ فالرسلُ لا يكونون إلاَّ صفوةَ الخلق على الإطلاق، والذي اختارهم واجتباهم ليس جاهلاً بحقائق الأشياء، أو يعلم شيئاً دون شيءٍ، وإنَّ المصطفي لهم السميعُ البصيرُ، الذي قد أحاط علمُهُ وسمعُهُ وبصرُهُ بجميع الأشياء؛ فاختياره إيَّاهم عن علم منه أنَّهم أهلٌ لذلك، وأنَّ الوحي يصلُحُ فيهم؛ كما قال تعالى: {اللهُ أعلمُ حيث يجعلُ رسالتَه}. {وإلى الله تُرْجَعُ الأمور}؛ أي: هو يرسل الرسل يدعون الناس إلى الله؛ فمنهم المجيبُ، ومنهم الرادُّ لدعوتهم، ومنهم العاملُ، ومنهم الناكلُ؛ فهذا وظيفةُ الرسل، وأمَّا الجزاءُ على تلك الأعمال؛ فمصيرُها إلى الله؛ فلا تعدم منه فضلاً وعدلاً.