ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 74

مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۷۴﴾
انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔ بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا ہے، سب پر غالب ہے۔ En
ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے
En
انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور وقوت واﻻ اور غالب وزبردست ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 73 میں تا آیت 75 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کی بےبس مخلوق کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دے لیتے ہیں۔ اگر ان کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت، اس کی قدرت و طاقت اور اس کی بےپناہی کا صحیح صحیح اندازہ اور علم ہو تو وہ کبھی اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ ان لوگوں نے اللہ کی قدر پہچانی [103] ہی نہیں جیسا کہ پہچاننا چاہئے تھی۔ اللہ تعالیٰ تو بڑا طاقتور اور ہر چیز پر غالب ہے۔
[103] کائنات کی وسعت اور اس پر کنٹرول سے اللہ کی ہستی اور قدرت پر دلیل:۔
یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ جو اس پوری کائنات کو اور خود ان کو بھی عدم سے وجود میں لایا ہے۔ اور انھیں زندگی بخشی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی کارنامے پر غور کرتے تو کبھی اس کے اختیار و تصرف میں کمزور اور بے بس قسم کی مخلوق کو شریک بنانے کی حماقت نہ کرتے۔ مثلاً:
کائنات کی وسعت کا یہ حال ہے کہ موجودہ تحقیقات کی رو سے سورج کے گرد نو سیارے گردش کر رہے ہیں جن میں تیسرے نمبر پر ہماری زمین ہے اور اس کا سورج سے فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ آخری نواں سیارہ پلوٹو ہے جس کا سورج سے 3 ارب 68 کروڑ میل فاصلہ ہے جسامت کے لحاظ سے بھی ہماری زمین دوسرے سیاروں کی نسبت بالکل حقیر ہے۔ ہمارے اس نظام شمسی میں سورج ایک ستارہ یا ثابت ہے۔ کائنات میں ایسے ہزاروں ستارے یا ثوابت مشاہدہ کئے جا چکے ہیں اور یہ ستارے یا سورج جسامت کے لحاظ سے ہمارے سورج سے بہت بڑے ہیں۔ ہمارے نظام شمسی سے بہت دور تقریباً 4 کھرب کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سورج موجود ہے جو ہمیں محض روشنی کا ایک چھوٹا سا نقطہ معلوم ہوتا ہے اس کا نام الف قنطورس (Alfa Centauris) ہے۔ ایسے ہی دوسرے سورج اس سے بھی دور ہیں اور خلا میں ہر طرف ایک دوسرے سے الگ الگ بکھرے پڑے ہیں۔ رات کے وقت وہ آسمان پر روشنی کے ننھے منے نقطوں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ یہ سب ستارے در اصل بہت بڑے اجسام ہیں اور ہمارے سورج کی طرح یہ بھی خود روشن ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے سیاروں اور ستاروں کو چار قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی قسم کو سفید بونے کہا جاتا ہے ان کی اوسط جسامت مشتری کے برابر سمجھی گئی ہے اور مشتری کی جسامت نظام شمسی کے باقی آٹھ سیاروں (جن میں ہماری زمین بھی شامل ہے) کے برابر ہے۔ ہمارا سورج دوسری قسم میں آتا ہے اور اس کی جسامت ہماری زمین سے 3 لاکھ 37 ہزار گنا زیادہ ہے گویا ہمارا اتنا بڑا سورج بھی بڑے ستاروں میں شامل نہیں ہے۔ تیسری قسم کے ستاروں کو دیو (Giants) اور چوتھی قسم کے ستاروں کو شاہ دیو (Super giants) کہا جاتا ہے۔ ایسے ستاروں کے مقابلہ میں ہمارا سورج ایسے ہی ہے جیسے سورج کے مقابلہ میں ہماری زمین ہے۔ ایسے ہی ایک ستارے کا نام قلب عقرب (Antarres) ہے۔ اگر اسے اٹھا کر نظام شمسی میں رکھا جائے تو سورج سے لے کر مریخ تک تمام علاقہ اس میں پوری طرح سما جائے گا۔ جبکہ مریخ کا سورج سے فاصلہ 14 کروڑ 15 لاکھ میل ہے۔ گویا قلب عقرب کا قطر 28 کروڑ 30 لاکھ میل کے لگ بھگ ہے۔ مزید برآں کائنات میں لاتعداد مجمع النجوم اور کہکشائیں ہیئت دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال کر ان کے علم کو ہر آن چیلنج کر رہی ہیں پھر اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جوں جوں ہیئت دان مزید طاقتور اور جدید قسم کی دوربینیں استعمال کر رہے ہیں، توں توں اس بات کا بھی انکشاف ہو رہا ہے کہ کائنات میں مزید وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے اجرام بھی مشاہدہ میں آرہے ہیں۔ اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی برق رفتاری سے گردش کر رہی ہے۔ اسی طرح کائنات میں تمام سیارے کم و بیش اسی برق رفتاری سے محو گردش ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی طرح جکڑا ہوا ہے۔ کہ نہ وہ آپس میں ٹکراتے ہیں نہ ان کی چال میں فرق آتا ہے اور نہ ہی اپنے مدار سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہو سکتے ہیں۔ اور جوں جوں انسان اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں میں غور کرتا ہے تو اس کی عظمت و جلال کا سکہ اس کے دل پر نقش ہوتا جاتا ہے۔ اب ایک طرف تو اس قدر عظمت و جلال اور قوت و قدرت والی اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ ایسے معبودوں اور حاجت رواؤں کو شریک کیا جا رہا ہے۔ جو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ ایسے بے بس ہیں کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے مکھی سے چھڑانے کی قدرت بھی نہیں رکھتے۔ غور فرمائیے کیا ان دونوں کی قدرت میں کوئی نسبت قائم کی جا سکتی ہے؟ اور حقیقت یہ ہے کہ جو دوسروں کو اللہ کے شریک بناتے ہیں تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ انہوں نے کسی بھی معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر کبھی غور نہیں کیا۔ نہ ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچاننے کی کبھی کوشش کی ہے ورنہ وہ کبھی ایسی حماقت نہ کرتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کم عقل پجاری ٭٭
اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ ’ اے لوگو! یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہو جائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آ جائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کر سکیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے { اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/2:صحیح]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ’ وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953]‏‏‏‏
اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ’ یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ ‘
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں طالب سے مراد بت اور مطلوب سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔
دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27]‏‏‏‏ ’ سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے ‘۔
«إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» ۱؎ [85-البروج:13-12]‏‏‏‏ ’ وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا ‘، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» ۱؎ [51-الذاريات:58]‏‏‏‏ ’ رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے ‘، ’ سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے ‘۔