تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ اَلنَّارُ …:} یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ پھر کیا میں تمھیں تمھارے انکار، غیظ و غضب کی آگ اور چہروں کے بگڑ جانے کی حالت سے کہیں زیادہ تمھارے لیے بری اور ناگوار چیز بتاؤں؟ وہ جہنم کی آگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات سے کفر کرنے والوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ سو تم لوگ اہل حق اور آیات الٰہی سے چڑنے اور غیظ و غضب کی آگ میں جلنے کے بجائے جہنم کی اس ہولناک آگ سے بچنے کی فکر کرو۔ ایسا نہ ہو کہ توبہ کی فرصت تمھارے ہاتھ سے نکل جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں بھی فرمایا کہ ’ ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے ‘۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ اللہ کی توحید، رسولوں کی اتباع کو صاف طور پر بیان کیا تو انہیں سخت غصہ آیا، ان کی شکلیں بدل گئیں، تیوریوں پر بل پڑنے لگے آستینیں چڑھنے لگیں اگر بس چلے تو زبان کھینچ لیں، ایک لفظ حقانیت کا زمین پر نہ آنے دیں۔ اسی وقت گلا گھونٹ دیں، ان سچے خیرخواہوں کی اللہ کے دین کے مبلغوں کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔ زبانیں ان کے خلاف چلنے لگتی ہیں اور ممکن ہو تو ہاتھ بھی ان کے خلاف اٹھنے میں نہیں رکتے۔
فرمان ہوتا ہے کہ ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ ایک طرف تو تم جو دکھ ان اللہ کے متوالوں کو پہنچانا چاہتے ہو اسے وزن کرو دوسری طرف اس دکھ کا وزن کر لو جو تمہیں یقیناً تمہارے کفر و انکار کی وجہ سے پہنچنے والا ہے پھر دیکھو کہ بدترین چیز کون سی ہے؟ وہ آتش دوزخ اور وہاں کے طرح طرح کے عذاب؟ یا جو تکلیف تم ان سچے موحدوں کو پہنچانا چاہتے ہو؟ گو یہ بھی تمہارے ارادے ہی ارادے ہیں اب تم ہی سمجھ لو کہ جہنم کیسی بری جگہ ہے؟ کس قدر ہولناک ہے؟ کس قدرایذاء دہندہ ہے؟ اور کتنی مشکل والی جگہ ہے؟ ‘ «إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:66] ’ یقیناً وہ نہایت ہی بدترین جگہ اور بہت ہی خوفناک مقام ہے ‘، جہاں راحت و آرام کا نام بھی نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهل هؤلاء الذين لا علم لهم بما هم عليه قصدٌ في اتِّباع الآيات والهدى إذا جاءهم أم هم راضون بما هم عليه من الباطل، ذكر ذلك بقوله: {وإذا تُتْلى عليهم آياتُنا}: التي هي آيات الله الجليلة المستلزمة لبيان الحقِّ من الباطل؛ لم يلتفتوا إليها، ولم يرفعوا بها رأساً، بل {تعرِفُ في وجوه الذين كفروا المنكَرَ}: من بُغْضِها وكراهتِها؛ ترى وجوهَهم معبسةً وأبشارهم مكفهرةً. {يكادونَ يَسْطُونَ بالذين يتلونَ عليهم آياتِنا}؛ أي: يكادون يوقِعون بهم القتلَ والضربَ البليغ من شدَّة بغضِهم وبغضِ الحقِّ وعداوته؛ فهذه الحالة من الكفار بئس الحالةُ وشرُّها بئس الشرُّ، ولكن ثَمَّ ما هو شرٌّ منها: حالتُهم التي يؤولون إليها؛ فلهذا قال: {قل أفأنبِّئُكم بشرٍّ من ذلكم النارُ وَعَدَها اللهُ الذين كفروا وبئس المصيرُ}: فهذه شرُّها طويلٌ عريضٌ، ومكروهُها وآلامُها تزدادُ على الدوام.