(آیت 62) ➊ {ذٰلِكَبِاَنَّاللّٰهَهُوَالْحَقُّ …:} یہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کے وعدے کو پورا کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سچا اور حق رب ہے۔ جس چیز کا وہ ارادہ کرے اسے کر گزرتا ہے، سو وہ اپنے دوستوں کی ضرور مدد کرے گا اور اس کے سوا جس کو بھی لوگ پکارتے ہیں وہ ناحق اور باطل ہے، وہ خود اپنی مدد نہیں کر سکتا تو ان کی مدد کیا کرے گا؟ اور اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کے مقابلے میں اپنے دشمنوں کی مدد کیوں کرے گا؟ ➋ {وَاَنَّاللّٰهَهُوَالْعَلِيُّالْكَبِيْرُ:} چوتھی وجہ اس بات کی کہ ”اللہ تعالیٰ مظلوم مسلمانوں کی مدد ضرور کرے گا“ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے اونچا ہے، باقی سب نیچے ہیں اور وہی بے حد بڑا ہے، باقی سب چھوٹے ہیں اور کوئی اس کا مدمقابل نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
62۔ 1 اس لئے اس کا دین حق ہے، اس کی عبادت حق ہے اس کے وعدے حق ہیں، اس کا اپنے اولیاء کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرنا حق ہے، وہ اللہ عزوجل اپنی ذات میں، اپنی صفات میں اور اپنے افعال میں حق ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
62۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب کچھ باطل ہے اور اللہ ہی عالی شان [91] اور کبریائی والا ہے۔
[91] پھر جو ہستی کائنات میں اتنا تصرف کرنے پر قدرت رکھتی ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کو تصرف میں ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔ تاہم ظاہری اور باطنی اسباب اور ان کے نتائج پر اللہ اکیلے کا کنٹرول ہے تو پھر حق بات یہی ہے کہ اپنی حاجات کے لئے اکیلے اللہ ہی کو پکارا جائے۔ کیونکہ وہی سب سے بڑی قوت ہے اور قوت والا ہے اور وہی سب سے بڑا ہے جس نے کائنات کی ایک ایک چیز کو اپنے قبضہ اختیار میں لے رکھا ہے اور جو لوگ ایسے قدرتوں والے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں وہ غلط کار ہیں اور غلطی پر ہیں۔ کیونکہ دوسروں کے پاس کوئی قدرت و تصرف ہے ہی نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس پر کوئی حاکم نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ فرمان ہے آیت «قُلِاللّٰهُمَّمٰلِكَالْمُلْكِتُؤْتِيالْمُلْكَمَنْتَشَاءُوَتَنْزِعُالْمُلْكَمِمَّنْتَشَاءُ ۡ وَتُعِزُّمَنْتَشَاءُوَتُذِلُّمَنْتَشَاءُبِيَدِكَالْخَيْرُاِنَّكَعَلٰيكُلِّشَيْءٍقَدِيْرٌتُولِجُاللَّيْلَفِيالنَّهَارِوَتُولِجُالنَّهَارَفِياللَّيْلِوَتُخْرِجُالْحَيَّمِنَالْمَيِّتِوَتُخْرِجُالْمَيِّتَمِنَالْحَيِّوَتَرْزُقُمَنتَشَاءُبِغَيْرِحِسَابٍ»۱؎[3-آل عمران:27،26] ’ الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے تو ہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب روزیاں پہنچاتا ہے ‘۔ پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کر سکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ «وَهُوَالْعَلِيُّالْعَظِيمُ»۱؎[2-البقرة:255] ’ زبردست غلبے والا ‘، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، «الْكَبِيرُالْمُتَعَالِ»۱؎[13-الرعد:9] ’ وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے ‘۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں