وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ۚ فَیَنۡسَخُ اللّٰہُ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحۡکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿ۙ۵۲﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر جب اس نے کوئی تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں (خلل) ڈالا تو اللہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، مٹادیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے
En
ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وه اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا، پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دانا اور باحکمت ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 52) ➊ { وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ …:} لغت میں {”تَمَنّٰي يَتَمَنّٰي تَمَنِّيًا“} کا معنی تمنا، آرزو اور خواہش کرنا بھی ہے اور تلاوت کرنا اور پڑھنا بھی ہے، سورۂ بقرہ کی آیت (۷۸): «{ وَ مِنْهُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ }» میں {”اَمَانِيَّ “ ”أُمْنِيَّةٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی آرزو بھی ہے اور تلاوت کرنا بھی۔ پہلے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول یا نبی بھیجا شیطان اس کی ہر آرزو اور خواہش کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا۔ ظاہر ہے پیغمبر کی آرزو لوگوں کے ایمان قبول کرنے اور دین حق کے غلبے کے سوا کیا ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انبیاء و رسل کی ہر کوشش کو شیطان ناکام کرنے کی کوشش کرتا رہا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم اور اپنے دین کو غالب کرتا رہا، جیسا کہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ }» [التوبۃ: ۳۳] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔“ دوسرے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے بھی رسول یا نبی آیا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتا تو شیطان اس کے سننے میں رکاوٹ ڈالتا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ }» [حٰمٓ السجدۃ: ۲۶] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ مگر اللہ تعالیٰ اس کی رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم کر دیتا۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ پیغمبروں کے آیات کی تلاوت کے وقت شیطان ان آیات کے معانی کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈال دیتا جنھیں اللہ تعالیٰ بعد میں وضاحت کرکے دور کر دیتا، جیسا کہ سورۂ نحل کی آیت (۱۱۵): «{ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ }» میں شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا حلال کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مارے ہوئے کو حرام کہتے ہیں۔ سورۂ انبیاء کی آیت (۹۸): «{ اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ }» میں شبہ ڈالا کہ پھر تو مسیح علیہ السلام بھی نعوذ باللہ جہنم میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کی وضاحت فرما کر شیطان کے ڈالے ہوئے شبہے کو دور فرما دیا اور اپنی آیات کو محکم کر دیا۔
➋ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سب شیاطین کو خوب جانتا ہے جو انبیاء کی تمناؤں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، یا انبیاء کے آیات کی تلاوت کے وقت لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں اور ان شکوک و شبہات کو اور ان کے دفاع کے طریقوں کو بھی خوب جانتا ہے اور وہ کمال حکمت والا بھی ہے جس کے پیش نظر اس نے شیاطین کو مہلت دے رکھی ہے کہ خود بھی گمراہ رہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں۔
➌ بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ نجم کی تلاوت کر رہے تھے، جب آپ آیت (۲۰): «{ وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى }» پر پہنچے تو لا شعوری کے عالم میں شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیے، یا آپ کے لہجے اور آواز میں پڑھ دیے: {” تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُلٰي وَ إِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَي“} ”یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔“ اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت غم لاحق ہوا، چنانچہ سورۂ حج کی یہ آیت اتری اور آپ کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیاء کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے، مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوتے وغیرہ۔ یہ قصہ ان آیات کے صریح متصادم ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے چاروں طرف زبردست پہرا اس وقت تک رکھتا ہے جب تک وہ اللہ کے پیغامات لوگوں تک نہ پہنچا دیں (اتنے کڑے پہرے میں ممکن ہی نہیں کہ شیطان کسی طرح بھی اثر انداز ہو سکے)۔ دیکھیے سورۂ جن کی آخری آیات {” عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ “} سے آخر سورت تک۔ محقق علماء نے اس قصے کی پر زور تردید کی ہے۔ بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ قصہ من گھڑت ہے۔ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ (ملحد و بے دین لوگوں) نے گھڑا ہے۔ قاضی عیاض نے ”الشفاء“ میں اس کی تردید کی ہے۔ رازی نے فرمایا کہ یہ قصہ باطل ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تین مرسل روایات کی بنا پر اس واقعے کا کچھ اصل ثابت کرنے اور اس کی توجیہ کی کوشش کی ہے مگر محدث البانی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ {”نَصْبُ الْمَجَانِيْقِ لِنَسْفِ قِصَّةِ الْغَرَانِيْقِ“} میں مضبوط علمی بحث کے ساتھ اس قصے کا بالکل بے اصل ہونا ثابت کیا ہے اور قدیم و جدید محدثین و فقہاء کا حوالہ دیا ہے، جنھوں نے اس واقعہ کی دلائل کے ساتھ تردید فرمائی۔
➋ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سب شیاطین کو خوب جانتا ہے جو انبیاء کی تمناؤں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، یا انبیاء کے آیات کی تلاوت کے وقت لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں اور ان شکوک و شبہات کو اور ان کے دفاع کے طریقوں کو بھی خوب جانتا ہے اور وہ کمال حکمت والا بھی ہے جس کے پیش نظر اس نے شیاطین کو مہلت دے رکھی ہے کہ خود بھی گمراہ رہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں۔
➌ بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ نجم کی تلاوت کر رہے تھے، جب آپ آیت (۲۰): «{ وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى }» پر پہنچے تو لا شعوری کے عالم میں شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیے، یا آپ کے لہجے اور آواز میں پڑھ دیے: {” تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُلٰي وَ إِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَي“} ”یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔“ اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت غم لاحق ہوا، چنانچہ سورۂ حج کی یہ آیت اتری اور آپ کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیاء کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے، مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوتے وغیرہ۔ یہ قصہ ان آیات کے صریح متصادم ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے چاروں طرف زبردست پہرا اس وقت تک رکھتا ہے جب تک وہ اللہ کے پیغامات لوگوں تک نہ پہنچا دیں (اتنے کڑے پہرے میں ممکن ہی نہیں کہ شیطان کسی طرح بھی اثر انداز ہو سکے)۔ دیکھیے سورۂ جن کی آخری آیات {” عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ “} سے آخر سورت تک۔ محقق علماء نے اس قصے کی پر زور تردید کی ہے۔ بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ قصہ من گھڑت ہے۔ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ (ملحد و بے دین لوگوں) نے گھڑا ہے۔ قاضی عیاض نے ”الشفاء“ میں اس کی تردید کی ہے۔ رازی نے فرمایا کہ یہ قصہ باطل ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تین مرسل روایات کی بنا پر اس واقعے کا کچھ اصل ثابت کرنے اور اس کی توجیہ کی کوشش کی ہے مگر محدث البانی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ {”نَصْبُ الْمَجَانِيْقِ لِنَسْفِ قِصَّةِ الْغَرَانِيْقِ“} میں مضبوط علمی بحث کے ساتھ اس قصے کا بالکل بے اصل ہونا ثابت کیا ہے اور قدیم و جدید محدثین و فقہاء کا حوالہ دیا ہے، جنھوں نے اس واقعہ کی دلائل کے ساتھ تردید فرمائی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 تمنی کے ایک معنی ہیں آرزو کی یا دل میں خیال آیا۔ دوسرے معنی ہیں پڑھایا تلاوت کی۔ اسی اعتبار سے امنیۃ کا ترجمہ آرزو، خیال یا تلاوت ہوگا پہلے معنی کے اعتبار سے مفہوم ہوگا اس کی آرزو میں شیطان نے رکاوٹیں ڈالیں تاکہ وہ پوری نہ ہوں۔ اور رسول و نبی کی آرزو یہی ہوتی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ایمان لے آئیں، شیطان رکاوٹیں ڈال کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایمان سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مفہوم ہوگا کہ جب بھی اللہ کا رسول یا نبی وحی شدہ کلام پڑھتا اور اس کی تلاوت کرتا ہے۔ تو شیطان اس کی قرأت و تلاوت میں اپنی باتیں ملانے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بابت لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈالتا اور میں میخ نکالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیطان کی رکاوٹوں کو دور فرما کر یا تلاوت میں ملاوٹ کی کوشش ناکام فرما کر شیطان کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا ازالہ فرما کر اپنی بات کو یا اپنی آیات کو محکم (پکا) فرما دیتا ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ شیطان کی یہ کارستانیاں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو رسول اور نبی آئے، سب کے ساتھ یہی کچھ کرتا آیا ہے۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائیں نہیں شیطان کی ان شرارتوں اور سازشوں سے جس طرح ہم پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کو بچاتے رہے ہیں یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی محفوظ رہیں گے اور شیطان کے علی الرغم اللہ تعالیٰ اپنی بات کو پکا کرکے رہے گا۔ یہاں بعض مفسرین نے غرانیق علی کا قصہ بیان کیا ہے جو محققین کے نزدیک ثابت ہی نہیں ہے اس لیے اسے یہاں پیش کرنے کی ضرورت ہی سرے سے نہیں سمجھی کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول [80] یا نبی بھیجا تو جب بھی وہ کوئی آرزو [81] کرتا تو شیطان اس کی آرزو میں وسوسہ کی آمیزش کر دیتا۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطانی وسوسہ کی آمیزش کو تو دور کر دیتا اور اپنی آیات کو پختہ [82] کر دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکمت والا ہے۔
[80] رسول اور نبی کا فرق:۔
اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور نبی دو الگ الگ شخصیتیں ہوتی ہیں۔ نبی عام ہے اور رسول خاص بالفاظ دیگر ہر رسول نبی تو ہوتا ہے جیسے حضرت موسیٰؑ کے متعلق فرمایا: ﴿وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا﴾ [51: 19] یعنی موسیٰؑ رسول بھی تھے اور نبی بھی۔ لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ نبی اور رسول کا فرق پہلے سورۃ مائدہ کی آیت 67 کے تحت واضح کیا جا چکا ہے۔
[81] تمنی کے معنی تمنا یا آرزو کرنا بھی لغوی لحاظ سے درست ہیں اور تلاوت کرنا بھی۔ ترجمہ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی یا رسول جب کوئی آرزو کرتا ہے (اور نبی یا رسول کی بڑی سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی دعوت کو قبول کر لیں اور اس دعوت کو فروغ اور قبول عام حاصل ہو) تو شیطان اس کی خواہش کی تکمیل میں کئی طرح سے رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے۔ اور ایسا وسوسہ بعض دفعہ تو شیطان نبی اور اس کے پیروکاروں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ جیسے کفار کے کسی حسی معجزہ کے مطالبہ پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے دل میں یہ خیال آنے لگا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا دے تو اس سے کئی فائدے حاصل ہو سکتے ہیں یا مثلاً رؤسائے قریش نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ ان ناتواں اور حقیر لوگوں (یعنی کمزور مسلمانوں) کو اپنی مجلس سے کسی وقت اٹھا دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی دعوت غور سے سننے کو تیار ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی عدم مخالفت اور اسلام کے غلبہ کی خاطر کافروں کے اس مطالبہ پر غور کرنے کے لئے تیار بھی ہو گئے تھے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بروقت تنبیہ ہو جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ ایسی آیات نازل فرما دیتا جو خود اسے منظور ہوتا تھا اور اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شیطان نبی یا رسول کی خواہش کی تکمیل کی راہ میں دوسرے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے، اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتے ہیں اور یہ لوگ دو ہی قسم کے ہو سکتے ہیں ایک منافقین اور دوسرے وہ لوگ جن کے دل قبول حق کے سلسلہ میں پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بالآخر ایسے لوگوں کی تمام تر سازشوں اور کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اور جس مقصد کی تکمیل کے لئے وہ کسی نبی یا رسول کو مبعوث فرماتا ہے اسے پختہ سے پختہ تر بنا دیتا ہے۔
[81] تمنی کے معنی تمنا یا آرزو کرنا بھی لغوی لحاظ سے درست ہیں اور تلاوت کرنا بھی۔ ترجمہ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی یا رسول جب کوئی آرزو کرتا ہے (اور نبی یا رسول کی بڑی سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی دعوت کو قبول کر لیں اور اس دعوت کو فروغ اور قبول عام حاصل ہو) تو شیطان اس کی خواہش کی تکمیل میں کئی طرح سے رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے۔ اور ایسا وسوسہ بعض دفعہ تو شیطان نبی اور اس کے پیروکاروں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ جیسے کفار کے کسی حسی معجزہ کے مطالبہ پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے دل میں یہ خیال آنے لگا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا دے تو اس سے کئی فائدے حاصل ہو سکتے ہیں یا مثلاً رؤسائے قریش نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ ان ناتواں اور حقیر لوگوں (یعنی کمزور مسلمانوں) کو اپنی مجلس سے کسی وقت اٹھا دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی دعوت غور سے سننے کو تیار ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی عدم مخالفت اور اسلام کے غلبہ کی خاطر کافروں کے اس مطالبہ پر غور کرنے کے لئے تیار بھی ہو گئے تھے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بروقت تنبیہ ہو جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ ایسی آیات نازل فرما دیتا جو خود اسے منظور ہوتا تھا اور اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شیطان نبی یا رسول کی خواہش کی تکمیل کی راہ میں دوسرے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے، اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتے ہیں اور یہ لوگ دو ہی قسم کے ہو سکتے ہیں ایک منافقین اور دوسرے وہ لوگ جن کے دل قبول حق کے سلسلہ میں پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بالآخر ایسے لوگوں کی تمام تر سازشوں اور کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اور جس مقصد کی تکمیل کے لئے وہ کسی نبی یا رسول کو مبعوث فرماتا ہے اسے پختہ سے پختہ تر بنا دیتا ہے۔
کسی نبی یا رسول کی آرزو میں شیطانی وسوسہ؟
اور اگر تمنی کا معنی تلاوت کرنا سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی یا رسول کوئی آیت تلاوت کرتا ہے۔ تو اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے سلسلہ میں شیطان لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر انھیں شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے جب یہ آیت نازل فرمائی کہ: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ﴾ تو بعض لوگوں نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ اللہ کا مارا ہوا جانور تو حرام ہو اور انسان کا مارا ہوا (ذبح کیا ہو) حلال؟ یہ خالصتاً شیطانی وسوسہ تھا۔ اسی طرح جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ (یعنی تم بھی اور اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو سب جہنم کا ایندھن بنیں گے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو کافروں نے فوراً یہ اعتراض جڑ دیا کہ پرستش تو حضرت موسیٰؑ اور حضرت عزیرؑ اور فرشتوں کی بھی کی جاتی رہی ہے تو کیا یہ ہستیاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گی؟ یہ بھی خالصتاً شیطانی وسوسہ تھا۔ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ دوسری صریح اور محکم آیات نازل فرما کر شکوک و شبہات اور شیطانی وساوس کو دور فرما کر اپنے حکم کی وضاحت فرما دیتا ہے۔
لات ومنات کی سفارش کا من گھڑت قصہ:۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت کے شان نزول کے متعلق بعض تفاسیر میں ایک واقعہ مندرج ہے جو یوں ہے کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ النجم کی تلاوت فرما رہے تھے اور یہ تلاوت مشرکین مکہ بھی پاس موجود تھے۔ جب آپ نے آیات تلاوت فرمائیں۔ ﴿اَفَرَاَيْتُمُ اللآَتَ وَالْعُزّيٰ وَمَنَات الثَّالِثَةَ الاُخْريٰ﴾ تو شیطان نے آپ کی آواز میں آواز ملا کر درج ذیل الفاظ یوں پڑھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ الفاظ آپ ہی کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ ﴿تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُليٰ وَاِنْ شَفَاعَتُهُنَّ لَتُرْجيٰ﴾ (یہ اونچی گردنوں والی دیویاں ہیں یعنی لات، عزی اور منات۔ اور اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کی یقیناً توقع کی جا سکتی ہے) چنانچہ جب مشرکین مکہ نے یہ الفاظ سنے تو ان کے کلیجے ٹھنڈے ہو گئے کہ ان کے بتوں کا بھلائی سے ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ بڑے غور سے آپ کی تلاوت سننے لگے اور سورۃ والنجم کے اختتام پر آپ نے اور دیگر مسلمانوں نے سجدہ کیا تو ساتھ ہی مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ پھر یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کا اگلا حصہ یہ ہے کہ پھر یہ خبر مشہور ہو گئی کہ مسلمانوں اور کفار مکہ میں صلح و سمجھوتہ ہو گیا ہے یہ خبر اڑتی اڑتی جب مہاجرین حبشہ کو ملی تو ان میں سے بعض مہاجر مکہ واپس آگئے۔ لیکن یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔ یہ واقعہ کئی لحاظ سے غلط ہے مثلاً:
1۔ ان تمام روایات کی اسناد مرسل اور منقطع ہیں۔ لہٰذا یہ روایات ساقط الاعتبار ہیں۔ اسی وجہ سے صحاح ستہ میں اس قسم کی کوئی روایت مذکور نہیں۔
2۔ ان آیات میں ”اس شیطانی وسوسہ“ سے پہلے ہی بتوں اور دیویوں کی مذمت مذکور ہے اور بعد میں بھی۔ لہٰذا درمیان میں بتوں کا یہ ذکر خیر کسی لحاظ سے بھی فٹ نہیں بیٹھتا۔
3۔ تاریخی لحاظ سے یہ روایات اس لئے غلط ہیں کہ ہجرت کا واقعہ 5 نبوی میں پیش آیا تھا اور جو مہاجر اس غلط افواہ کی بنا پر واپس مکہ آئے تھے وہ صرف تین ماہ بعد آئے تھے۔ جبکہ یہ سورت مدنی ہے اور ہجرت حبشہ سے واپسی اور اس سورۃ کے نزول کے درمیان کم از کم آٹھ نو سال کا وقفہ ہے۔
1۔ ان تمام روایات کی اسناد مرسل اور منقطع ہیں۔ لہٰذا یہ روایات ساقط الاعتبار ہیں۔ اسی وجہ سے صحاح ستہ میں اس قسم کی کوئی روایت مذکور نہیں۔
2۔ ان آیات میں ”اس شیطانی وسوسہ“ سے پہلے ہی بتوں اور دیویوں کی مذمت مذکور ہے اور بعد میں بھی۔ لہٰذا درمیان میں بتوں کا یہ ذکر خیر کسی لحاظ سے بھی فٹ نہیں بیٹھتا۔
3۔ تاریخی لحاظ سے یہ روایات اس لئے غلط ہیں کہ ہجرت کا واقعہ 5 نبوی میں پیش آیا تھا اور جو مہاجر اس غلط افواہ کی بنا پر واپس مکہ آئے تھے وہ صرف تین ماہ بعد آئے تھے۔ جبکہ یہ سورت مدنی ہے اور ہجرت حبشہ سے واپسی اور اس سورۃ کے نزول کے درمیان کم از کم آٹھ نو سال کا وقفہ ہے۔
[82] شیطانی وساوس کا مختلف لوگوں پر مختلف اثر:۔
ان روایات میں در اصل کافروں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ جو بعد میں محکم اور واضح آیات نازل کر کے شکوک و شبہات کو رد کرتا ہے وہ پہلے ہی ایسے واضح احکام کیوں نہیں بھیج دیتا جن سے شکوک و شبہات پیدا ہی نہ ہوں“ یہ اعتراض بھی در اصل کج رو اور کج فطرت کافروں کی عیاری کا غماز ہے اور اس کا جواب سورۃ آل عمران کے ابتداء میں آیات متشابہات اور آیات محکمات [آيت نمبر 7] میں بیان ہو چکا ہے اور یہاں بھی انھیں دوسرے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ کہ:
1۔ شکوک میں مبتلا صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو منافق ہوں یا ہٹ دھرم کے کافر۔
2۔ ایسی آیات سے ہی ایمانداروں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔
3۔ ایسی آیات در اصل سب لوگوں کے لئے ایک آزمائش اور جانچ ہوتی ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے؟ آیا وہ منافقوں سے تعلق رکھتا ہے یا اللہ پر ایمان لانے والوں سے؟
1۔ شکوک میں مبتلا صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو منافق ہوں یا ہٹ دھرم کے کافر۔
2۔ ایسی آیات سے ہی ایمانداروں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔
3۔ ایسی آیات در اصل سب لوگوں کے لئے ایک آزمائش اور جانچ ہوتی ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے؟ آیا وہ منافقوں سے تعلق رکھتا ہے یا اللہ پر ایمان لانے والوں سے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭
یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» ۱؎ [53-النجم:19] تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ ( «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى» ) پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» } ۱؎ [22-الحج:52] الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف]
مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔
چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» ۱؎ [53-النجم:19] تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ ( «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى» ) پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» } ۱؎ [22-الحج:52] الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف]
مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا ( «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى» ) نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» ۱؎ [22-الحج:52] اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21] تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے ( «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى» ) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔
ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔
اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے }۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21] تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے ( «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى» ) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔
ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔
اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے }۔
وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔
شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔
ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔
بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔
ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔
بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ ۱؎ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے ‘۔
بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے }۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔
بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» پڑھنے کے معنی میں ہے۔
اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے ‘۔
بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے }۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔
بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» پڑھنے کے معنی میں ہے۔
ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔
چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔