اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَتَکُوۡنَ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ یَّعۡقِلُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعۡمَی الۡاَبۡصَارُ وَ لٰکِنۡ تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾
پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھر ے نہیں کہ ان کے لیے ایسے دل ہوں جن کے ساتھ وہ سمجھیں، یا کان ہوں جن کے ساتھ وہ سنیں۔ پس بے شک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
En
کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے۔ اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں
En
کیا انہوں نے زمین میں سیر وسیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وه دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 46) ➊ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} عرب کے لوگ تجارت کے لیے دور دراز سفر کرتے تھے، چنانچہ وہ گرمیوں میں شام کی طرف اور سردیوں میں یمن کی طرف جاتے تھے۔ سورۂ قریش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس انعام کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ یمن قومِ عاد کا مسکن تھا اور شام کے سفر میں مدائن صالح اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر سے ان کا گزر ہوتا تھا، قوم لوط کے متعلق فرمایا: «وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ (137) وَ بِالَّيْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» [الصافات: ۱۳۷، ۱۳۸] ”اور بلاشبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں؟“ اور قومِ لوط اور قومِ شعیب (اصحاب الایکہ) کے متعلق فرمایا: «{ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ }» [الحجر: ۷۹] ”اور بے شک وہ دونوں (بستیاں) یقینا ظاہر راستے پر موجود ہیں۔“ مدین کا علاقہ بھی حجاز کے شمال مغرب میں واقع تھا۔ سفر میں آدمی کو مالی فوائد کے علاوہ علمی فوائد اور بے شمار تجربات اور عبرتیں حاصل ہوتی ہیں اور سفر کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے۔ ابوالعلاء المعری کہتا ہے:
{وَ قِيْلَ أَفَادَ بِالْأَسْفَارِ مَالاً
فَقُلْنَا هَلْ أَفَادَ بِهَا فُؤَادًا}
”لوگوں نے بتایا کہ اس نے مختلف سفروں میں بہت سا مال حاصل کیا ہے، تو ہم نے کہا، کیا اس نے ان سے کوئی دل بھی حاصل کیا ہے؟“ یعنی اسے سفروں سے کچھ عقل و دانش اور نصیحت و عبرت بھی حاصل ہوئی ہے؟ اس آیت میں ان لوگوں سے جنھوں نے یہ سفر کیے تھے، کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ مختلف قوموں کے آثار قدیمہ دیکھ کر ان کے دل عقل کرتے اور نصیحت و عبرت حاصل کرتے، یا لوگوں سے سن کر ہی عبرت حاصل کرتے؟ مقصد یہ ہے کہ سفر کا فائدہ تو سوچنا سمجھنا اور عبرت حاصل کرنا ہے اور بے شک تم نے ان سفروں میں آنکھوں سے بہت کچھ دیکھا اور کانوں سے بہت کچھ سنا مگر جب اس سے عبرت اور عقل حاصل نہیں کی تو سمجھو کہ تم آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے اور کان رکھنے کے باوجود بہرے ہو، فرمایا: «وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ» [البقرۃ: ۱۷۱] ”اور ان لوگوں کی مثال جنھوں نے کفر کیا، اس شخص کی مثال جیسی ہے جو ان جانوروں کو آواز دیتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے، بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو وہ نہیں سمجھتے۔“ گویا جس کا دل عقل سے خالی ہے اس کی آنکھوں اور کانوں کا اسے کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح اس آیت میں ان لوگوں کو جنھوں نے سفر نہیں کیا، ترغیب دی جا رہی ہے کہ دنیا میں چلو پھرو، اس سے تمھاری آنکھیں دیکھ کر اور کان سن کر عبرت و نصیحت حاصل کریں گے۔
➋ {فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ …: ” إِنَّ “} کے بعد {” هَا “} ضمیر قصہ کہلاتی ہے، یہ مذکر بھی آتی ہے، جیسا کہ اس آیت کی ایک قراء ت {” فَإِنَّهُ لَا تَعْمَي الْأَبْصَارُ“} بھی ہے، اس وقت اسے ضمیر شان کہتے ہیں، معنی دونوں کا ایک ہی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ…۔ بینائی دو قسم کی ہے، ایک آنکھوں کی بینائی، اسے بصارت کہتے ہیں اور ایک دل کی بینائی، اسے بصیرت کہتے ہیں۔ اسی طرح اندھا پن بھی دو قسم کا ہے، ایک آنکھوں کا اندھا ہونا اور ایک دل کا اندھا ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ یہاں آنکھوں کے اندھا نہ ہونے کا مطلب ہے کہ آنکھیں اندھی ہونے سے کچھ نقصان نہیں، اصل نقصان دل اندھا ہونے اور بصیرت سے محروم ہونے کا ہے۔
➌ بعض اہل علم نے بصارت اور بصیرت کی مثال سواری اور سوار کی بیان فرمائی ہے، اگر سوار دیکھتا ہے تو سواری اندھی ہونے کا خاص نقصان نہیں، لیکن اگر سوار اندھا ہے تو سواری کی نگاہ جتنی بھی تیز ہو کچھ فائدہ نہیں۔
➍ موجودہ سائنس کا کہنا ہے کہ سوچنا سمجھنا دماغ کا کام ہے دل کا نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس دل کو عقل کا مرکز قرار دیا ہے جو سینے میں ہے، اس دماغ کو نہیں جو سر میں ہے۔ اب بعض لوگوں نے کہا کہ قرآن نے سائنس کی زبان میں بات نہیں کی، ادبی زبان میں بات کی ہے مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ سائنس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں، جب کہ اللہ کا فرمان اٹل ہے اور کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ دماغ کو خون دل ہی سے پہنچتا ہے، عین ممکن ہے کہ دماغ محض ایک سٹور ہو جس کا بٹن دل میں ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے اور بے شمار دفعہ ہوا ہے کہ یہاں بھی سائنس اصل حقیقت تک پہنچ جائے اور دل کو عقل کا مرکز تسلیم کرلے۔
{وَ قِيْلَ أَفَادَ بِالْأَسْفَارِ مَالاً
فَقُلْنَا هَلْ أَفَادَ بِهَا فُؤَادًا}
”لوگوں نے بتایا کہ اس نے مختلف سفروں میں بہت سا مال حاصل کیا ہے، تو ہم نے کہا، کیا اس نے ان سے کوئی دل بھی حاصل کیا ہے؟“ یعنی اسے سفروں سے کچھ عقل و دانش اور نصیحت و عبرت بھی حاصل ہوئی ہے؟ اس آیت میں ان لوگوں سے جنھوں نے یہ سفر کیے تھے، کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ مختلف قوموں کے آثار قدیمہ دیکھ کر ان کے دل عقل کرتے اور نصیحت و عبرت حاصل کرتے، یا لوگوں سے سن کر ہی عبرت حاصل کرتے؟ مقصد یہ ہے کہ سفر کا فائدہ تو سوچنا سمجھنا اور عبرت حاصل کرنا ہے اور بے شک تم نے ان سفروں میں آنکھوں سے بہت کچھ دیکھا اور کانوں سے بہت کچھ سنا مگر جب اس سے عبرت اور عقل حاصل نہیں کی تو سمجھو کہ تم آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے اور کان رکھنے کے باوجود بہرے ہو، فرمایا: «وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ» [البقرۃ: ۱۷۱] ”اور ان لوگوں کی مثال جنھوں نے کفر کیا، اس شخص کی مثال جیسی ہے جو ان جانوروں کو آواز دیتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے، بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو وہ نہیں سمجھتے۔“ گویا جس کا دل عقل سے خالی ہے اس کی آنکھوں اور کانوں کا اسے کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح اس آیت میں ان لوگوں کو جنھوں نے سفر نہیں کیا، ترغیب دی جا رہی ہے کہ دنیا میں چلو پھرو، اس سے تمھاری آنکھیں دیکھ کر اور کان سن کر عبرت و نصیحت حاصل کریں گے۔
➋ {فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ …: ” إِنَّ “} کے بعد {” هَا “} ضمیر قصہ کہلاتی ہے، یہ مذکر بھی آتی ہے، جیسا کہ اس آیت کی ایک قراء ت {” فَإِنَّهُ لَا تَعْمَي الْأَبْصَارُ“} بھی ہے، اس وقت اسے ضمیر شان کہتے ہیں، معنی دونوں کا ایک ہی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ…۔ بینائی دو قسم کی ہے، ایک آنکھوں کی بینائی، اسے بصارت کہتے ہیں اور ایک دل کی بینائی، اسے بصیرت کہتے ہیں۔ اسی طرح اندھا پن بھی دو قسم کا ہے، ایک آنکھوں کا اندھا ہونا اور ایک دل کا اندھا ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ یہاں آنکھوں کے اندھا نہ ہونے کا مطلب ہے کہ آنکھیں اندھی ہونے سے کچھ نقصان نہیں، اصل نقصان دل اندھا ہونے اور بصیرت سے محروم ہونے کا ہے۔
➌ بعض اہل علم نے بصارت اور بصیرت کی مثال سواری اور سوار کی بیان فرمائی ہے، اگر سوار دیکھتا ہے تو سواری اندھی ہونے کا خاص نقصان نہیں، لیکن اگر سوار اندھا ہے تو سواری کی نگاہ جتنی بھی تیز ہو کچھ فائدہ نہیں۔
➍ موجودہ سائنس کا کہنا ہے کہ سوچنا سمجھنا دماغ کا کام ہے دل کا نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس دل کو عقل کا مرکز قرار دیا ہے جو سینے میں ہے، اس دماغ کو نہیں جو سر میں ہے۔ اب بعض لوگوں نے کہا کہ قرآن نے سائنس کی زبان میں بات نہیں کی، ادبی زبان میں بات کی ہے مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ سائنس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں، جب کہ اللہ کا فرمان اٹل ہے اور کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ دماغ کو خون دل ہی سے پہنچتا ہے، عین ممکن ہے کہ دماغ محض ایک سٹور ہو جس کا بٹن دل میں ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے اور بے شمار دفعہ ہوا ہے کہ یہاں بھی سائنس اصل حقیقت تک پہنچ جائے اور دل کو عقل کا مرکز تسلیم کرلے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 اور جب کوئی قوم ضلالت کے اس مقام پر پہنچ جائے کہ عبرت کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے، تو ہدایت کی بجائے، گذشتہ قوموں کی طرح تباہی اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ آیت میں عمل و عقل کا تعلق دل کی طرف کیا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عقل کا محل دل ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ محل عقل دماغ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں، اس لئے عقل و فہم کے حصول میں عقل اور دماغ دونوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہو جاتے جو کچھ سمجھتے سوچتے اور کان ایسے جن سے وہ کچھ سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، اندھے تو وہ دل [74] ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
[74] غور و فکر کا منبع دماغ ہے یا دل؟
یعنی ان تباہ شدہ بستیوں سے جو ان کے راستہ میں پڑتی ہیں یہ لوگ کبھی بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ ان بستیوں کا ایسا انجام کیوں ہوا؟ مگر یہ باتیں سوچنے کے لئے تو دیدہ بینا چاہئے اور وہ ان میں ہے نہیں۔ عبرت حاصل کرنے کے لئے آنکھ کی بینائی کی ضرورت نہیں دل کی بینائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر مقام پر عقل، فہم، فکر، سوچ کو دل سے متعلق کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام قسم کے جذبات مثلاً محبت، ہمدردی، رحم، اخوت اور اس کے برعکس جذبات مثلاً نفرت، کینہ، بغض حسد سب کا منبع دل کو قرار دیا ہے۔ جبکہ جدید طب کی رو سے کم از کم عقلی، فہم، فکر اور سوچ وغیرہ دل سے نہیں بلکہ دماغ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بایں ہمہ ہر زبان کے محاورہ میں دل ہی کو ان اشیاء کا مرجع قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے مذکورہ بالا شعر میں بھی ”دل بینا“ استعمال ہوا ہے یا مثلاً:
یہی جی میں آئی کہ گھر سے نکل
ٹہلتا ٹہلتا ذرا باغ چل
اس شعر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ارادہ سوچ کے بعد پیدا ہوتا ہے جیسے دماغ کے بجائے دل سے منسوب کیا گیا ہے اور قرآن لوگوں کے اور بالخصوص قریش کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ موجودہ نظریہ قابل تغیر و تبدل ہے اور عین ممکن ہے کہ اس تحقیق کے بعد نئی تحقیق کے بعد ان تمام اشیاء کا اصل مرکز دماغ کے بجائے دل ہی کو قرار دیا جائے اور دماغ کی تمام تر فکر اور سوچ بھی دل کے خیالات اور جذبات کے تابع ہو۔ لہٰذا ہمیں ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ بات اسی ہستی کی سب سے زیادہ صحیح ہو سکتی ہے جو خود ان اشیاء کی خالق اور ہر طرح کے قلبی واردات سے پوری طرح واقف ہے۔
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر مقام پر عقل، فہم، فکر، سوچ کو دل سے متعلق کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام قسم کے جذبات مثلاً محبت، ہمدردی، رحم، اخوت اور اس کے برعکس جذبات مثلاً نفرت، کینہ، بغض حسد سب کا منبع دل کو قرار دیا ہے۔ جبکہ جدید طب کی رو سے کم از کم عقلی، فہم، فکر اور سوچ وغیرہ دل سے نہیں بلکہ دماغ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بایں ہمہ ہر زبان کے محاورہ میں دل ہی کو ان اشیاء کا مرجع قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے مذکورہ بالا شعر میں بھی ”دل بینا“ استعمال ہوا ہے یا مثلاً:
یہی جی میں آئی کہ گھر سے نکل
ٹہلتا ٹہلتا ذرا باغ چل
اس شعر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ارادہ سوچ کے بعد پیدا ہوتا ہے جیسے دماغ کے بجائے دل سے منسوب کیا گیا ہے اور قرآن لوگوں کے اور بالخصوص قریش کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ موجودہ نظریہ قابل تغیر و تبدل ہے اور عین ممکن ہے کہ اس تحقیق کے بعد نئی تحقیق کے بعد ان تمام اشیاء کا اصل مرکز دماغ کے بجائے دل ہی کو قرار دیا جائے اور دماغ کی تمام تر فکر اور سوچ بھی دل کے خیالات اور جذبات کے تابع ہو۔ لہٰذا ہمیں ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ بات اسی ہستی کی سب سے زیادہ صحیح ہو سکتی ہے جو خود ان اشیاء کی خالق اور ہر طرح کے قلبی واردات سے پوری طرح واقف ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ’ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیر و شر کی تمیز ہوتی ہے ‘۔
ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال ٥١٧ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں ”اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرناہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔“
ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال ٥١٧ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں ”اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرناہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔“