ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 45

فَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ بِئۡرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصۡرٍ مَّشِیۡدٍ ﴿۴۵﴾
سو کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے اس حال میں ہلاک کیا کہ وہ ظالم تھیں، پس وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی ہیں اور کتنے ہی بے کار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں اور چونا گچ محل۔ En
اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں
En
بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) ➊ {فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِيَ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۹) کی تفسیر۔ { بِئْرٍ } مؤنث سماعی ہے، اس لیے اس کی صفت { مُعَطَّلَةٍ } آئی ہے۔ { مَشِيْدٍ شَادَ يَشِيْدُ شَيْدًا} (ض) سے اسم مفعول ہے، چونے کے ساتھ مضبوط کیا ہوا۔ یہ مجرد ثلاثی سے ہے، جب کہ سورۂ نساء کی آیت (۷۸): «{ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ میں باب تفعیل یعنی ثلاثی مزیدفیہ استعمال ہوا ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، کیونکہ وہاں موت کا ذکر ہے کہ خواہ تم چونے کے ساتھ بنے ہوئے محکم سے محکم قلعوں میں ہو موت تمھیں وہاں بھی نہیں چھوڑے گی۔ موت کی دسترس کے اظہار کے لیے { مُشَيَّدَةٍ } (باب تفعیل) لایا گیا، جب کہ پرانے محلات خواہ کس قدر مضبوط ہوں آخر وہ پختگی باقی نہیں رہتی، اس لیے صرف { مَشِيْدٍ } (ثلاثی مجرد) پر اکتفا کیا گیا۔ { مَشِيْدٍ } کا ایک معنی بلند بھی ہے۔
➋ یہ سات اقوام جن کا ذکر ہوا ہے، کثرت و قوت میں تمام اقوام سے بڑھ کر تھیں۔ ان کے علاوہ ان کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کی کتنی قومیں گزری ہیں؟ ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت بیان فرمائی کہ پہلے انھیں مہلت دی جاتی ہے، پھر اگر وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ انھیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ترتیب کے مطابق پہلے مہلت کا اور پھر پکڑنے کا ذکر ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے کے انجام بد سے ڈرانے کے لیے ایسی اقوام کی کثرت، ان کی قوت و شوکت اور ان کی تباہی و بربادی کی یاد دلانے والے آثار قدیمہ کا بیان پہلے فرمایا اور آیت (۴۶) میں دوبارہ انھیں مہلت دینے کے بعد پکڑنے کا ذکر فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا کہ کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ان کے ظلم اور کفر انِ نعمت کی پاداش میں ہم نے ہلاکت اور تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ ان کی چھتیں بوسیدہ ہو کر گرنے کے بعد ان کی دیواریں بھی ان پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی کنویں ہیں جو کبھی آبادی کا مرکز تھے اور ان پر پانی کے لیے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، اب اجاڑ اور ویران پڑے ہیں۔ عربوں کے ہاں پانی کی قلت کی وجہ سے کنوؤں کا خصوصاً ذکر فرمایا۔ اسی طرح کتنے ہی چونے کے ساتھ مضبوط بنے ہوئے بلند و بالا اور پر شکوہ ایوان اور محلات ہیں، جن میں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور جن کی حفاظت کے لیے دن رات ہزاروں فوجیوں کا پہرا ہوتا تھا، اب ان پر کوؤں، چیلوں اور الوؤں کی حکومت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ کتنی ہی بستیاں ہیں جو خطا کار تھیں، انھیں ہم نے ہلاک کر دیا تو اب وہ اپنے چھتوں پر گری پڑی ہیں، ان کے کنویں بے کار اور پلستر شدہ محلات ویران [73] پڑے ہیں۔
[73] یعنی رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام یہ ہوا کہ ان کی پر رونق اور پر بہار آبادیاں اور شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ اس عذاب نے صرف آدمیوں کا ستیا ناس نہیں کیا بلکہ ان کے تعمیر شدہ مکانات بھی زمین بوس ہو گئے۔ کنوئیں ویران ہو گئے۔ جن سے آسانی سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کبھی یہاں انسانوں کی کثیر تعداد آباد ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لیے فرمایا: ﴿ فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَ٘رْیَةٍ یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں ﴿ اَهْلَكْنٰهَا جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ ﴿ وَهِیَ ظَالِمَةٌ اور ان کی حالت یہ تھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لیے ہماری سزا ظلم نہ تھی۔ ﴿ فَ٘هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا پس ان کے گھر منہدم ہوکر اجڑے پڑے ہیں، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔
﴿ وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لیے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لیے مثال بن گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {فكأيِّن من قريةٍ}؛ أي: وكم من قريةٍ، {أهلَكْناها}: بالعذابِ الشديدِ والخزي الدنيويِّ، {وهي ظالمةٌ}: بكفرِها بالله وتكذيبها لرسلِهِ، لم يكنْ عقوبتُنا لها ظلماً منا. {فهي خاويةٌ على عروشها}؛ أي فديارُهم متهدِّمة قصورُها وجدرانُها، قد سقطتْ على عروشها ، فأصبحت خراباً بعد أن كانتْ عامرةً، وموحشةً بعد أن كانت آهلةً بأهلها آنسة. {وبئرٍ معطَّلةٍ وقصرٍ مَشيدٍ}؛ أي: وكم من بئر قد كان يزدحمُ عليه الخلقُ لشُرْبهم وشرب مواشيهم، ففُقِدَ أهلُه وعُدِمَ منه الوارد والصادر! وكم من قصرٍ تعبَ عليه أهلُه فشيَّدوه ورفعوه وحصَّنوه وزخرفوه؛ فحين جاءهم أمرُ الله؛ لم يُغْنِ عنهم شيئاً، وأصبح خالياً من أهله، قد صاروا عبرةً لمن اعتبر ومثالاً لمن فكَّر ونظر.