تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تیسرا اور چوتھا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔ اس آیت سے خلفائے راشدین کی خلافت برحق ثابت ہوتی ہے، کیونکہ انھوں نے صلاۃ و زکوٰۃ کے علاوہ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیا۔ اللہ کی حدود قائم کیں، جن کی برکت سے حیرہ سے چل کر اکیلی خاتون نے بیت اللہ کا حج کیا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا۔ جہاد کے ذریعے سے دنیا کو توحید کی دعوت دی اور شرک و کفر سے منع کیا اور قیصر و کسریٰ اور عرب کے بڑے بڑے جابروں کو شکست فاش دے کر ان کے خزانے فتح کیے اور ان کی اقوام کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔ جو خوشی سے اس دائرے میں نہیں آیا اسے زبردستی مسلمان نہیں بنایا مگر اس سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جب تک اس نے جزیہ ادا کرنے کا اقرار کرکے اسلام کا محکوم بننا قبول نہیں کیا۔ خلفائے راشدین کے بعد وہ خلفاء بھی اس بشارت میں شامل ہیں جنھوں نے یہ چاروں امور پوری طرح سرانجام دیے۔ کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ان عظیم ہستیوں سے بغض رکھتے ہیں کہ جن کے اوصاف حسنہ اور اعمالِ صالحہ کی شہادت اللہ تعالیٰ انھیں اقتدار عطا کرنے سے پہلے دے رہا ہے۔
➋ آج بھی اللہ تعالیٰ کا نصرت کا وعدہ انھی لوگوں سے ہے جنھیں اللہ تعالیٰ اقتدار عطا فرمائے تو وہ یہ چاروں کام سرانجام دیں۔ اس کے نتیجے میں انھیں اقوام عالم پر غلبہ حاصل ہو گا، اسی کے نتیجے میں معاشی بدحالی ختم ہو کر فلاحی مملکت قائم ہو گی اور اسی کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔ افسوس! مسلمان حکام ان چاروں چیزوں کو چھوڑ کر کفار کے طریقوں جمہوریت، سود، بے حیائی کے فروغ، آخرت سے دوری اور صرف اور صرف دنیا طلبی کے پیچھے لگ کر یہ توقع کر رہے ہیں کہ اس سے دنیا پر غلبہ حاصل ہو گا، خوش حالی آئے گی اور امن قائم ہو گا، حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر بیماری کا علاج صرف اور صرف اللہ کے فرمان پر عمل ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ اور بشارت سورۂ نور میں بھی مذکور ہے، فرمایا: «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ» [النور: ۵۵] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“
➍ {وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ:} مفسر بقاعی نے اس ”واؤ“ کے تحت بہت خوب صورت نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس ”واؤ“ کا جس جملے پر عطف ہے وہ یہاں ذکر نہیں ہوا، جہاد کے حکم اور اس کی حکمت {” وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ “} کی مناسبت سے کلام یہ ہے کہ {”فَلِلّٰهِ بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْأُمُوْرِ“} یعنی پہلے کفار کے مسلمانوں کو طویل عرصہ تک بے حد ایذا کی مہلت دینے اور اب مسلمانوں کو جہاد کی اجازت اور نصرت کے وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور کی ابتدا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ شروع میں بعض اوقات کفار کو مہلت دے دیتا ہے، جس سے ان پر اتمامِ حجت مقصود ہوتا ہے اور ایمان کے دعوے داروں کا امتحان مقصود ہوتا ہے، تاکہ سچا اور جھوٹا اور مذبذب ایمان اور مستحکم ایمان والا ظاہر ہو جائے اور بعض اوقات شروع ہی میں مسلمانوں کی مدد کر دیتا ہے۔ پس تمام کاموں کا آغاز صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمام کاموں کا انجام بھی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ {”بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ“} کے حذف اور {” عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ “} کے ذکر سے مسلمانوں کو حوصلہ دیا ہے کہ ابتدا میں تو بعض اوقات اللہ کے دشمنوں کو بھی موقع مل جاتا ہے مگر انجام تمھارا ہی ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے، چاہے تو دنیا میں بھی انجام مسلمانوں کے حق میں کر دے اور چاہے تو اس وقت ان کے حق میں کر دے جب ہر کام اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ کے سوا سب کا اختیار ختم ہو جائے گا (انفطار: ۱۹) بلکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (نبا: ۳۸) پھر جو جہنم سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے اور اسی کا انجام بخیر ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ پوری ریاست میں نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے۔
2۔ مکروہ کاموں کی روک تھام کی جائے اور اچھے کاموں کو فروغ دیا جائے اور ان اغراض کے لئے محکمہ قائم کئے جائیں اور اس طرح۔ 3۔ ملک سے ظلم و جور کو ختم کر کے عدل و انصاف قائم کیا جائے اور اس راہ میں جو باطل قوتیں مزاحم ہوں۔ ان کو دور کیا جائے اور اسی کا نام جہاد ہے۔ علاوہ ازیں چونکہ ایک اسلامی ریاست کی بنیاد اخلاقی اقدار پر اٹھتی ہے، اسی لئے اسلام نے حکومت کے انتظام و انصرام کو وہ اہمیت نہیں دی جو اخلاقی اقدار کو دی ہے اور یہی چیز ایک اسلامی طرز حکومت کو دوسرے تمام اقسام حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عموماً اور مہاجرین کی خصوصاً اور بالخصوص خلفائے راشدین کی حقانیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ جن کے ذریعہ وہ تمام امور بطریق احسن سرانجام پائے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ اور جن کی داغ بیل خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈالی تھی۔
[70] یعنی ایک ایسے طرز حکومت کے قیام کا تصور خواہ موجودہ حالات میں نا ممکن نظر آرہا ہو لیکن ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو ابابیلوں کے لشکر سے ہاتھیوں کے لشکر کو بھی پٹوا سکتا ہے۔ وہ آخر ایک اہل حق کی کمزور سی جماعت کے مقابلہ میں کفار کے کروفر والے لشکر کو مغلوب کیوں نہیں کر سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
خلیفہ رسول عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت «الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ» ۱؎ [22-الحج:41] کی تلاوت فرما کر فرمایا ”اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔“
عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ» ۱؎ [24-النور:55] میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ «وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [28-القص:83] عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہو گا۔ ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر علامة مَنْ ينصره، وبها يُعرف أنَّ مَن ادَّعى أنه يَنْصُرُ الله ويَنْصُرُ دينَه ولم يتَّصِف بهذا الوصف؛ فهو كاذب، فقال: {الذين إن مَكَّنَّاهُم في الأرض}؛ أي: مَلَّكْناهم إياها، وجعلناهم المتسلِّطين عليها من غير منازعٍ ينازِعُهم ولا معارِض؛ {أقاموا الصلاةَ}: في أوقاتها وحدودها وأركانها وشروطها في الجمعة والجماعات. {وآتوُا الزَّكاة}: التي عليهم خصوصاً، وعلى رعيَّتهم عموماً، آتَوْها أهلها الذين هم أهلها. {وأمروا بالمعروف}: وهذا يشمَلُ كلِّ معروفٍ حُسْنُهُ شرعاً وعقلاً من حقوق الله وحقوق الآدميين. {ونَهَوا عن المنكر}: كلّ منكرٍ شرعاً وعقلاً، معروف قبحُه، والأمر بالشيء والنهي عنه يدخُلُ فيه ما لا يتمُّ إلاَّ به؛ فإذا كان المعروف والمنكر يتوقَّف على تعلُّم وتعليم أجبروا الناس على التعلُّم والتعليم، وإذا كان يتوقَّف على تأديبٍ مقدَّر شرعاً أو غير مقدَّر؛ كأنواع التعزير؛ قاموا بذلك، وإذا كان يتوقَّف على جعل أناس متصدِّين له؛ لزم ذلك، ونحو ذلك مما لا يتمُّ الأمر بالمعروف والنهيُ عن المنكر إلاَّ به.
{ولله عاقبةُ الأمور}؛ أي: جميع الأمور ترجِعُ إلى الله، وقد أخبر أنَّ العاقبة للتقوى؛ فمن سلَّطه الله على العباد من الملوك وقام بأمر الله؛ كانتْ له العاقبةُ الحميدةُ والحالةُ الرشيدةُ، ومن تسلَّط عليهم بالجَبَروت، وأقام فيهم هوى نفسه؛ فإنَّه وإن حصل له ملكٌ موقتٌ؛ فإنَّ عاقبتَه غيرُ حميدةٍ؛ فولايتُه مشؤومة، وعاقبته مذمومة.