تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دو ظلم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جب کہ یہ تمام دنیا کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو شخص جہاں رہتا ہے وہاں رہنے میں اور اس کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں وہاں کے تمام لوگوں کے ساتھ برابر حق رکھتا ہے اور کسی کو حق نہیں کہ اسے اس کے گھر سے نکال باہر کرے۔ دوسرا ظلم یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو صرف اس جرم کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکالا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جرم ہے ہی نہیں بلکہ عین عدل ہے اور یہ گھروں سے نکالنے کا باعث نہیں بلکہ امن و سکون سے اپنے گھروں میں سکونت کا ضامن ہے۔ دراصل اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایسے طریقے سے تعریف فرمائی ہے کہ ان سے ہر جرم کی نفی کرکے اس چیز کو ان کا جرم بیان کیا ہے جو حقیقت میں جرم نہیں خوبی ہے، جیسا کہ عرب کے ایک شاعر نے کچھ لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
{وَلَا عَيْبَ فِيْهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوْفَهُمْ
بِهِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ}
”ان میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواروں میں دشمن کے لشکروں سے کھٹکھٹانے کی وجہ سے دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“
ظاہر ہے کہ جسے وہ عیب کہہ رہا ہے وہ دراصل بہت بڑی خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقامات پر بھی کفار کا یہ ظلم یاد دلا کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا ہے، فرمایا: «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ» [الممتحنۃ: ۱] ”وہ رسول کو اور خود تمھیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔“
➌ {وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ …: ” صَوَامِعُ “ ”صَوْمَعَةٌ“} کی جمع ہے، وہ عبادت خانہ جو عیسائی راہب آبادیوں سے دور اونچے مینار کی شکل میں بناتے تھے، جس کی اوپر کی منزل میں وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے اور مینار کی چوٹی پر عموماً رات کو چراغ جلاتے، تاکہ مسافر راستہ معلوم کر سکیں اور نچلی منزل میں قیام کر سکیں۔ امرؤ القیس نے کہا ہے:
{تُضِيْءُ الظَّلَامَ بِالْعَشِيِّ كَأَنَّهَا
مَنَارَةُ مُمْسَي رَاهِبٍ مُتَبَتِّلٖ}
{” بِيَعٌ “ ”بِيْعَةٌ“} کی جمع ہے، آبادیوں میں نصرانیوں کے گرجے۔ {” صَلَوٰتٌ “} یہودیوں کے عبادت خانے، یہ {” صَلَاةٌ “} کی جمع ہے۔ شاید ان کا نام {” صَلَوٰتٌ “} اس لیے رکھا گیا ہو کہ یہودیوں کو صرف اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھنا لازم تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ {”صلوتا“} کی جمع ہے جو غیر عربی لفظ ہے اور یہودیوں کے عبادت خانے پر بولا جاتا ہے۔ {” لَهُدِّمَتْ “} باب تفعیل کی وجہ سے ترجمہ ہو گا ”بری طرح ڈھا دیے جاتے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز، ہر شخص اور ہر جماعت، دوسری چیز، یا شخص یا جماعت کے مقابلے میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلے میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان تک زمین پر باقی نہ رہتا۔ بے دین اور شریر لوگ، جن کی ہر زمانے میں کثرت رہی ہے، تمام مقدس مقامات اور شعائر اللہ کو ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ بدی کی طاقتیں کتنی ہی جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت آئے جب نیکی کے ہاتھوں بدی کے حملوں کا دفاع کرایا جائے اور حق تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد فرما کر ان کو دشمنانِ حق پر غالب کرے۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کو ظالم کافروں کے مقابلے میں جہاد و قتال کی اجازت دینا اسی قانون قدرت کے ماتحت تھا اور یہ وہ عام قانون ہے جس کا انکار کوئی عقل مند نہیں کر سکتا۔ اگر دفاع و حفاظت کا یہ قانون نہ ہوتا تو اپنے اپنے زمانے میں نہ نصرانی راہبوں کے صوامع قائم رہتے اور نہ نصاریٰ کے گرجے، نہ یہود کے عبادت خانے اور نہ مسلمانوں کی وہ مسجدیں جن میں اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے، یہ سب عبادت گاہیں گرا کر اور بری طرح ڈھا کر ملیامیٹ کر دی جاتیں۔ تواس عام قانون کے تحت کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کو ایک مناسب وقت پر اپنے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس مضمون کی ایک اور آیت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۱)۔
➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے، ان کو مسمار نہ کیا جائے، کیونکہ ان میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، البتہ بت خانے اور آتش کدے صرف اس صورت میں باقی رکھے جائیں گے جب کسی قوم سے معاہدے میں انھیں باقی رکھنا شامل ہو۔
➎ {وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ:} اللہ کی مدد سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ» [فاطر: ۱۵] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کے دین کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔ دین کی مدد دلیل و برہان کے ساتھ بھی ہے اور سیف و سنان کے ساتھ بھی، اسی طرح جان کے ساتھ بھی ہے اور مال کے ساتھ بھی، پھر ہاتھوں کے ساتھ بھی ہے اور زبان کے ساتھ بھی، غرض ہر طرح سے اللہ کے دین کی مدد لازم ہے اور جو بھی یہ فریضہ سرانجام دے گا اللہ تعالیٰ اس کی یقینا ضرور مدد فرمائے گا، خواہ اس کے لیے نصرت کے دنیوی اسباب مہیا فرما دے یا غیب سے اپنے لشکروں میں سے کسی لشکر کے ساتھ مدد کر دے، فرمایا: «وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اَلَّا ھُوَ» [المدثر: ۳۱] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ جیسے بدر میں فرشتوں کے ذریعے سے مدد فرمائی (انفال: ۹) اور خندق میں آندھی اور ان لشکروں کے ذریعے سے مدد فرمائی جو تم نے نہیں دیکھے۔ (احزاب: ۹)
➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ جس کی وہ مدد کرے یقینا وہی غالب ہو گا اور اس کا مدمقابل مغلوب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اپنے دین کی مدد کرنے والے انصار و مہاجرین اور ان کے پیروکاروں کے ہاتھوں زمین کے جابر و قاہر بادشاہوں کو مغلوب و مقہور کرکے مشرق سے مغرب تک اسلام کا بول بالا کر دیا۔ «{ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا }» [النساء: ۸۷] ”اور اللہ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شب خون ماریں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا }۔
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ بیک بینی و دوگوش وطن مال اسباب، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کر چل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کا طلوع بھی مدینے شریف میں ہوا۔
اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہو گئی۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی۔ اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری۔
اس میں بیان فرمایا گیا کہ ’ یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لیے گئے ہیں، بے وجہ گھر سے بے گھر کر دئیے گئے ہیں، مکے سے نکال دئیے گئے، مدینے میں بے سرو سامانی میں پہنچے۔ ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے۔ یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں ‘۔
فرمان ہے آیت «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِيْ» ۱؎ [60-الممتحنة:1] ’ تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے ‘۔
خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا آیت «مَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [85-البروج:8] یعنی ’ دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب، مہربان، ذی احسان پر ایمان لائے تھے ‘۔
{ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے، شعر «لَا هُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اِهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» «فَأَنْزِلَن سَكِينَة عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَام إِنْ لَاقَيْنَا» «إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَة أَبَيْنَا» خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور «أَبَيْنَا» کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4106]
عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔
«بِيَعٌ» ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں۔
صلوات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ۔ راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صلوات کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مساجد۔
«فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع مساجد ہے اس لیے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صوامع، نصرانیوں کے بیع، یہودیوں کے صلوات اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے۔
پھر فرمایا ’ اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے ‘، جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:8،7] یعنی ’ اگر اے مسلمانو! تم اللہ کے دین کی امداد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں ‘۔
پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کر دیا، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بے نیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب۔
فرماتا ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» ۱؎ [37-الصافات:173-171] یعنی ’ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کر لیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ اللہ کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر صفة ظلمهم، فقال: {الذين أُخْرِجوا من ديارِهم}؛ أي: ألجئوا إلى الخروج بالأذيَّة والفتنة، {بغير حقٍّ إلاَّ}: أن ذنبهم الذي نقم منهم أعداؤهم، {أن يَقولوا ربُّنا الله}؛ أي: إلاَّ أنَّهم وحَّدوا الله وعبدوه مخلصينَ له الدِّين؛ فإنْ كان هذا ذنباً؛ فهو ذنبهم؛ كقوله تعالى: {وما نَقَموا منهم إلاَّ أن يُؤْمِنوا بالله العزيز الحميد}: وهذا يدلُّ على حكمة الجهاد؛ فإنَّ المقصود منه إقامةُ دين الله، أو ذبُّ الكفار المؤذين للمؤمنين البادئين لهم بالاعتداء عن ظلمهم واعتدائهم، والتمكُّن من عبادةِ الله وإقامة الشرائع الظاهرة، ولهذا قال: {ولولا دَفْعُ الله الناسَ بعضَهم ببعض}: فيدفعُ الله بالمجاهدين في سبيله ضررَ الكافرين؛ {لَهُدِّمَتْ صوامعُ وبِيَعٌ وصلواتٌ ومساجدُ}؛ أي: لَهُدِّمَتْ هذه المعابد الكبار لطوائف أهل الكتاب معابد اليهود والنصارى والمساجد للمسلمين. {يُذْكَرُ فيها}؛ أي: في هذه المعابد {اسمُ الله كثيراً}: تُقام فيها الصلواتُ، وتُتْلى فيها كتب الله، ويُذكر فيها اسمُ الله بأنواع الذِّكْر؛ فلولا دفعُ الله الناس بعضَهم ببعض؛ لاستولى الكفارُ على المسلمين، فخرَّبوا معابدهم وفَتَنوهم عن دينهم، فدلَّ هذا أنَّ الجهاد مشروعٌ لأجل دفع الصائل والمؤذي، ومقصودٌ لغيره. ودلَّ ذلك على أنَّ البلدان التي حصلت فيها الطمأنينة بعبادة الله، وعُمِّرَتْ مساجدها، وأقيمت فيها شعائرُ الدين كلُّها من فضائل المجاهدين وبركتهم، دفع الله عنها الكافرين؛ قال الله تعالى: {ولولا دَفْعُ اللهِ الناسَ بعضَهم ببعض لَفَسَدَتِ الأرضُ ولكنَّ الله ذو فضل على العالمينَ}.
فإنْ قلتَ: نرى الآن مساجد المسلمينَ عامرةً لم تَخْرَبْ؛ مع أنَّها كثيرٌ منها إمارة صغيرة وحكومة غير منظَّمة، مع أنَّهم لا يدان لهم بقتال مَنْ جاوَرَهم من الإفرنج، بل نرى المساجد التي تحتَ ولايتهم وسيطرتهم عامرةً، وأهلُها آمنون مطمئنُّون؛ مع قدرةِ ولاتِهِم من الكفَّار على هدمها، واللهُ أخبر أنه لولا دَفْعُ الله الناسَ بعضَهم ببعضٍ؛ لَهُدِّمَتْ هذه المعابد، ونحن لا نشاهد دفعا؟
أجيب بأنَّ جواب هذا السؤال والاستشكال داخلٌ في عموم هذه الآية وفردٌ من أفرادها؛ فإنَّ مَنْ عَرَفَ أحوال الدول الآن ونظامها، وأنها تعتبرُ كلَّ أمَّةٍ وجنس تحتَ ولايتها وداخل في حكمها؛ تعتبرُهُ عضواً من أعضاء المملكة وجزءاً من أجزاء الحكومة، سواء كانت تلك الأمةُ مقتدرةً بعددها أو عُددها أو مالها أو علمها أو خدمتها، فتراعي الحكوماتُ مصالح ذلك الشعب الدينيَّة والدنيويَّة، وتخشى إنْ لم تفعلْ ذلك أن يختلَّ نظامُها وتفقدَ بعضَ أركانها، فيقوم من أمر الدين بهذا السبب ما يقوم، خصوصاً المساجد؛ فإنَّها ولله الحمد في غاية الانتظام، حتى في عواصم الدول الكبار، وتراعي تلك الدول الحكومات المستقلة؛ نظراً لخواطر رعاياهم المسلمين، مع وجود التحاسدِ والتباغُض بين دول النصارى، الذي أخبر الله أنه لا يزال إلى يوم القيامةِ، فتبقى الحكومة المسلمة التي لا تقدِرُ تدافعُ عن نفسها سالمةً من كثيرِ ضررهم ؛ لقيام الحسدِ عندهم؛ فلا يقدِرُ أحدُهم أن يمدَّ يدَه عليها، خوفاً من احتمائِها بالآخرِ، مع أنَّ الله تعالى لا بدَّ أن يُري عبادَه من نصر الإسلام والمسلمين ما قد وَعَدَ به في كتابه، وقد ظهرتْ ولله الحمدُ أسبابُه بشعور المسلمين بضرورة رجوعِهِم إلى ديِنِهم، والشعورُ مبدأ العمل؛ فنحمَدُه ونسأله أن يُتِمَّ نعمتَه، ولهذا قال في وعدِهِ الصادق المطابق للواقع: {وَلَيَنصُرَنَّ اللهُ من يَنصُرُه}؛ أي: يقوم بنصر دينِهِ، مخلصاً له في ذلك، يقاتِلُ في سبيله لتكونَ كلمةُ الله هي العليا.
{إنَّ الله لقويٌّ عزيزٌ}؛ أي: كامل القوة، عزيزٌ، لا يُرام، قد قهر الخلائق وأخذ بنواصيهم. فأبشروا يا معشر المسلمين؛ فإنَّكم وإنْ ضَعُفَ عددُكم وعُددُكم وقوي عددُ عدوِّكم ؛ فإنَّ ركنَكم القويَّ العزيز ومعتمدكم على مَنْ خَلَقَكُم وخَلَقَ ما تعملون؛ فاعملوا بالأسباب المأمور بها، ثم اطلبوا منه نصرَكم؛ فلا بدَّ أن ينصركم، {يا أيَّها الذين آمنوا إن تَنصُروا الله يَنصُرْكُم ويثبِّتْ أقدامكَم}، وقوموا أيُّها المسلمون بحقِّ الإيمان والعمل الصالح؛ فقد {وَعَدَ الله الذين آمنوا وعملوا الصالحات لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم في الأرض كما اسْتَخْلَفَ الذين من قَبْلِهِم ولَيُمَكِّنَنَّ لهم دينَهم الذي ارتضى لهم وَلَيُبَدِّلَنَّهُم من بعدِ خوفهم أمناً يعبُدونني لا يشرِكونَ بي شيئاً}.