اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾
وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔
En
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے
En
یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 41) ➊ {اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ …:} اس سے پہلے جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے کہ انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور وہ گھروں سے صرف توحید الٰہی کے جرم میں نکالے گئے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرور مدد کرے گا، انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ پیشگی بیان فرما رہے ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں اقتدار بخشا تو وہ چار کام سرانجام دیں گے۔ پہلا اور دوسرا یہ کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کریں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں اقامت صلاۃ کا ایسا مضبوط نظام قائم تھا کہ حدیث و سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں دوسرے گناہوں کے ارتکاب کا اور ان کی سزا کا ذکر آپ پڑھیں گے مگر ایک بھی شخص نہیں پائیں گے جو نماز نہ پڑھتا ہو یا زکوٰۃ نہ دیتا ہو اور اسے مسلمان سمجھا جاتا ہو، حتیٰ کہ منافقین کو بھی اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دینے کے لیے مسجدوں میں آ کر نماز پڑھنا پڑتی تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى يُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا» [النساء: ۱۴۲] ”بے شک منافق لوگ اللہ سے دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ انھیں دھوکا دینے والا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر بہت کم۔“ اور سب جانتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: [وَاللّٰهِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ] [بخاري، الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ: ۱۴۰۰] ”اللہ کی قسم! میں ہر صورت اس سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا۔“ مسلمانوں کے زوال کا آغاز اس دن سے ہوا جب کچھ حکمرانوں نے ان لوگوں کا موقف اختیار کیا جو کہتے تھے کہ کوئی نماز پڑھے یا نہ پڑھے، زکوٰۃ دے یا نہ دے، اس کے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، وہ پکا مسلمان ہے۔ کچھ لوگ یہاں تک پہنچ گئے کہ ایمان سب کا ایک جیسا ہے، اس میں کمی یا اضافہ نہیں ہوتا، اس لیے ہمارا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اور ہمارا اور جبریل علیہ السلام کا ایمان برابر ہے۔ آج کل بعض حضرات کی جماعتیں پوری دنیا میں نماز کی دعوت دیتی پھرتی ہیں مگر خود ان کے خویش و اقارب اور بیویاں اور اولاد بے نماز ہیں، اس کے باوجود وہ انھیں سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ اپنا کاروبار اور جائداد انھی کے سپرد رکھتے ہیں۔ اصل سبب عقیدے کی خرابی ہے کہ وہ بے نماز اور نمازی دونوں کے ایمان کو برابر سمجھتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ایمان صرف تصدیق اور اقرار کا نام ہے، اگر آج {” اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ “} کا فریضہ سرانجام دینے والے صدیق و فاروق اور عثمان و علی رضی اللہ عنھم ہوتے تو ہم دیکھتے کہ یہ لوگ کس طرح نماز اور زکوٰۃ کے بغیر مسلمان کی حیثیت سے دندناتے پھرتے، بلکہ اپنے آپ کو نمازیوں سے بہتر مسلمان قرار دیتے رہتے۔
تیسرا اور چوتھا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔ اس آیت سے خلفائے راشدین کی خلافت برحق ثابت ہوتی ہے، کیونکہ انھوں نے صلاۃ و زکوٰۃ کے علاوہ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیا۔ اللہ کی حدود قائم کیں، جن کی برکت سے حیرہ سے چل کر اکیلی خاتون نے بیت اللہ کا حج کیا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا۔ جہاد کے ذریعے سے دنیا کو توحید کی دعوت دی اور شرک و کفر سے منع کیا اور قیصر و کسریٰ اور عرب کے بڑے بڑے جابروں کو شکست فاش دے کر ان کے خزانے فتح کیے اور ان کی اقوام کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔ جو خوشی سے اس دائرے میں نہیں آیا اسے زبردستی مسلمان نہیں بنایا مگر اس سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جب تک اس نے جزیہ ادا کرنے کا اقرار کرکے اسلام کا محکوم بننا قبول نہیں کیا۔ خلفائے راشدین کے بعد وہ خلفاء بھی اس بشارت میں شامل ہیں جنھوں نے یہ چاروں امور پوری طرح سرانجام دیے۔ کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ان عظیم ہستیوں سے بغض رکھتے ہیں کہ جن کے اوصاف حسنہ اور اعمالِ صالحہ کی شہادت اللہ تعالیٰ انھیں اقتدار عطا کرنے سے پہلے دے رہا ہے۔
➋ آج بھی اللہ تعالیٰ کا نصرت کا وعدہ انھی لوگوں سے ہے جنھیں اللہ تعالیٰ اقتدار عطا فرمائے تو وہ یہ چاروں کام سرانجام دیں۔ اس کے نتیجے میں انھیں اقوام عالم پر غلبہ حاصل ہو گا، اسی کے نتیجے میں معاشی بدحالی ختم ہو کر فلاحی مملکت قائم ہو گی اور اسی کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔ افسوس! مسلمان حکام ان چاروں چیزوں کو چھوڑ کر کفار کے طریقوں جمہوریت، سود، بے حیائی کے فروغ، آخرت سے دوری اور صرف اور صرف دنیا طلبی کے پیچھے لگ کر یہ توقع کر رہے ہیں کہ اس سے دنیا پر غلبہ حاصل ہو گا، خوش حالی آئے گی اور امن قائم ہو گا، حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر بیماری کا علاج صرف اور صرف اللہ کے فرمان پر عمل ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ اور بشارت سورۂ نور میں بھی مذکور ہے، فرمایا: «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ» [النور: ۵۵] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“
➍ {وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ:} مفسر بقاعی نے اس ”واؤ“ کے تحت بہت خوب صورت نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس ”واؤ“ کا جس جملے پر عطف ہے وہ یہاں ذکر نہیں ہوا، جہاد کے حکم اور اس کی حکمت {” وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ “} کی مناسبت سے کلام یہ ہے کہ {”فَلِلّٰهِ بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْأُمُوْرِ“} یعنی پہلے کفار کے مسلمانوں کو طویل عرصہ تک بے حد ایذا کی مہلت دینے اور اب مسلمانوں کو جہاد کی اجازت اور نصرت کے وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور کی ابتدا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ شروع میں بعض اوقات کفار کو مہلت دے دیتا ہے، جس سے ان پر اتمامِ حجت مقصود ہوتا ہے اور ایمان کے دعوے داروں کا امتحان مقصود ہوتا ہے، تاکہ سچا اور جھوٹا اور مذبذب ایمان اور مستحکم ایمان والا ظاہر ہو جائے اور بعض اوقات شروع ہی میں مسلمانوں کی مدد کر دیتا ہے۔ پس تمام کاموں کا آغاز صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمام کاموں کا انجام بھی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ {”بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ“} کے حذف اور {” عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ “} کے ذکر سے مسلمانوں کو حوصلہ دیا ہے کہ ابتدا میں تو بعض اوقات اللہ کے دشمنوں کو بھی موقع مل جاتا ہے مگر انجام تمھارا ہی ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے، چاہے تو دنیا میں بھی انجام مسلمانوں کے حق میں کر دے اور چاہے تو اس وقت ان کے حق میں کر دے جب ہر کام اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ کے سوا سب کا اختیار ختم ہو جائے گا (انفطار: ۱۹) بلکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (نبا: ۳۸) پھر جو جہنم سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے اور اسی کا انجام بخیر ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۵)۔
تیسرا اور چوتھا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔ اس آیت سے خلفائے راشدین کی خلافت برحق ثابت ہوتی ہے، کیونکہ انھوں نے صلاۃ و زکوٰۃ کے علاوہ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیا۔ اللہ کی حدود قائم کیں، جن کی برکت سے حیرہ سے چل کر اکیلی خاتون نے بیت اللہ کا حج کیا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا۔ جہاد کے ذریعے سے دنیا کو توحید کی دعوت دی اور شرک و کفر سے منع کیا اور قیصر و کسریٰ اور عرب کے بڑے بڑے جابروں کو شکست فاش دے کر ان کے خزانے فتح کیے اور ان کی اقوام کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔ جو خوشی سے اس دائرے میں نہیں آیا اسے زبردستی مسلمان نہیں بنایا مگر اس سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جب تک اس نے جزیہ ادا کرنے کا اقرار کرکے اسلام کا محکوم بننا قبول نہیں کیا۔ خلفائے راشدین کے بعد وہ خلفاء بھی اس بشارت میں شامل ہیں جنھوں نے یہ چاروں امور پوری طرح سرانجام دیے۔ کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ان عظیم ہستیوں سے بغض رکھتے ہیں کہ جن کے اوصاف حسنہ اور اعمالِ صالحہ کی شہادت اللہ تعالیٰ انھیں اقتدار عطا کرنے سے پہلے دے رہا ہے۔
➋ آج بھی اللہ تعالیٰ کا نصرت کا وعدہ انھی لوگوں سے ہے جنھیں اللہ تعالیٰ اقتدار عطا فرمائے تو وہ یہ چاروں کام سرانجام دیں۔ اس کے نتیجے میں انھیں اقوام عالم پر غلبہ حاصل ہو گا، اسی کے نتیجے میں معاشی بدحالی ختم ہو کر فلاحی مملکت قائم ہو گی اور اسی کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔ افسوس! مسلمان حکام ان چاروں چیزوں کو چھوڑ کر کفار کے طریقوں جمہوریت، سود، بے حیائی کے فروغ، آخرت سے دوری اور صرف اور صرف دنیا طلبی کے پیچھے لگ کر یہ توقع کر رہے ہیں کہ اس سے دنیا پر غلبہ حاصل ہو گا، خوش حالی آئے گی اور امن قائم ہو گا، حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر بیماری کا علاج صرف اور صرف اللہ کے فرمان پر عمل ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ اور بشارت سورۂ نور میں بھی مذکور ہے، فرمایا: «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ» [النور: ۵۵] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“
➍ {وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ:} مفسر بقاعی نے اس ”واؤ“ کے تحت بہت خوب صورت نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس ”واؤ“ کا جس جملے پر عطف ہے وہ یہاں ذکر نہیں ہوا، جہاد کے حکم اور اس کی حکمت {” وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ “} کی مناسبت سے کلام یہ ہے کہ {”فَلِلّٰهِ بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْأُمُوْرِ“} یعنی پہلے کفار کے مسلمانوں کو طویل عرصہ تک بے حد ایذا کی مہلت دینے اور اب مسلمانوں کو جہاد کی اجازت اور نصرت کے وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور کی ابتدا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ شروع میں بعض اوقات کفار کو مہلت دے دیتا ہے، جس سے ان پر اتمامِ حجت مقصود ہوتا ہے اور ایمان کے دعوے داروں کا امتحان مقصود ہوتا ہے، تاکہ سچا اور جھوٹا اور مذبذب ایمان اور مستحکم ایمان والا ظاہر ہو جائے اور بعض اوقات شروع ہی میں مسلمانوں کی مدد کر دیتا ہے۔ پس تمام کاموں کا آغاز صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمام کاموں کا انجام بھی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ {”بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ“} کے حذف اور {” عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ “} کے ذکر سے مسلمانوں کو حوصلہ دیا ہے کہ ابتدا میں تو بعض اوقات اللہ کے دشمنوں کو بھی موقع مل جاتا ہے مگر انجام تمھارا ہی ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے، چاہے تو دنیا میں بھی انجام مسلمانوں کے حق میں کر دے اور چاہے تو اس وقت ان کے حق میں کر دے جب ہر کام اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ کے سوا سب کا اختیار ختم ہو جائے گا (انفطار: ۱۹) بلکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (نبا: ۳۸) پھر جو جہنم سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے اور اسی کا انجام بخیر ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41۔ 1 اس آیت میں اسلامی حکومت کی بنیادی اہداف اور اغراض و مقاصد بیان کئے گئے ہیں، جنہیں خلافت راشدہ کی دیگر اسلامی حکومتوں میں بروئے کار لایا گیا اور انہوں نے اپنی ترجیحات میں ان کو سر فہرست رکھا تو ان کی بدولت ان کی حکومتوں میں امن اور سکون بھی رہا، رفاہیت و خوش حالی بھی رہی اور مسلمان سربلند اور سرفراز بھی رہے۔ آج بھی سعودی عرب کی حکومت میں بحمد اللہ ان چیزوں کا اہتمام ہے، تو اس کی برکت سے وہ اب بھی امن و خوش حالی کے اعتبار سے دنیا کی بہترین اور مثالی مملکت ہے۔ آجکل اسلامی ملکوں میں فلاحی مملکت کے قیام کا بڑا غلغلہ اور شور ہے اور ہر آنے جانے والاحکمران اس کے دعوے کرتا ہے لیکن ہر اسلامی ملک میں بدامنی، فساد، قتل و غارت اور ادبار وپستی اور زبوں حالی روز افزوں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سب اللہ کے بتلائے ہوئے راستے کو اختیار کرنے کے بجائے مغرب کے جمہوری اور لادینی نظام کے ذریعے سے فلاح و کامرانی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو آسمان میں تھگلی لگانے اور ہوا کو مٹھی میں لینے کے مترادف ہے جب تک مسلمان مملکتیں قرآن کے بتلائے ہوئے اصول کے مطابق اقامت صلوۃ و زکوٰۃ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام نہیں کریں اور اپنی ترجیحات میں ان کو سرفہرست نہیں رکھیں گی وہ فلاحی ممللکت کے قیام میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ 41۔ 2 یعنی ہر بات کا مرجع اللہ کا حکم اور اس کی تدبیر ہی ہے اس کے حکم کے بغیر کائنات میں کوئی پتہ بھی نہیں ہلتا۔ چہ جائیکہ کوئی اللہ کے احکام اور ضابطوں سے انحراف کرکے حقیقی فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوجائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ (اللہ کے دین کی مدد کرنے والے) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، بھلے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں [69]۔ اور سب کاموں کا انجام [70] تو اللہ کے ہاتھ میں ہے
[69] اسلامی حکومت کی ذمہ داریاں:۔
اس آیت میں اسلامی طرز حکومت کے خدوخال اور حکومت چلانے والوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ اسلام میں ریاست کا قیام اصل مقصود نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں بھی غیر اسلامی ریاستوں سے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً ایک غیر اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں محض یہ ہیں کہ پولیس کے ذریعہ امن بحال رکھا جائے۔ انتظامیہ کے ذریعہ حکومتی کاروبار چلایا جائے اور فوج کے ذریعہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ جبکہ ایک اسلامی ریاست یہ ذمہ داریاں بھی پورا کرتی ہے اور یہ اس کا ثانوی فریضہ ہوتا ہے اس کے قیام کے اولین مقاصد یہ ہیں۔
1۔ پوری ریاست میں نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے۔
2۔ مکروہ کاموں کی روک تھام کی جائے اور اچھے کاموں کو فروغ دیا جائے اور ان اغراض کے لئے محکمہ قائم کئے جائیں اور اس طرح۔ 3۔ ملک سے ظلم و جور کو ختم کر کے عدل و انصاف قائم کیا جائے اور اس راہ میں جو باطل قوتیں مزاحم ہوں۔ ان کو دور کیا جائے اور اسی کا نام جہاد ہے۔ علاوہ ازیں چونکہ ایک اسلامی ریاست کی بنیاد اخلاقی اقدار پر اٹھتی ہے، اسی لئے اسلام نے حکومت کے انتظام و انصرام کو وہ اہمیت نہیں دی جو اخلاقی اقدار کو دی ہے اور یہی چیز ایک اسلامی طرز حکومت کو دوسرے تمام اقسام حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عموماً اور مہاجرین کی خصوصاً اور بالخصوص خلفائے راشدین کی حقانیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ جن کے ذریعہ وہ تمام امور بطریق احسن سرانجام پائے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ اور جن کی داغ بیل خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈالی تھی۔
[70] یعنی ایک ایسے طرز حکومت کے قیام کا تصور خواہ موجودہ حالات میں نا ممکن نظر آرہا ہو لیکن ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو ابابیلوں کے لشکر سے ہاتھیوں کے لشکر کو بھی پٹوا سکتا ہے۔ وہ آخر ایک اہل حق کی کمزور سی جماعت کے مقابلہ میں کفار کے کروفر والے لشکر کو مغلوب کیوں نہیں کر سکتا۔
1۔ پوری ریاست میں نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے۔
2۔ مکروہ کاموں کی روک تھام کی جائے اور اچھے کاموں کو فروغ دیا جائے اور ان اغراض کے لئے محکمہ قائم کئے جائیں اور اس طرح۔ 3۔ ملک سے ظلم و جور کو ختم کر کے عدل و انصاف قائم کیا جائے اور اس راہ میں جو باطل قوتیں مزاحم ہوں۔ ان کو دور کیا جائے اور اسی کا نام جہاد ہے۔ علاوہ ازیں چونکہ ایک اسلامی ریاست کی بنیاد اخلاقی اقدار پر اٹھتی ہے، اسی لئے اسلام نے حکومت کے انتظام و انصرام کو وہ اہمیت نہیں دی جو اخلاقی اقدار کو دی ہے اور یہی چیز ایک اسلامی طرز حکومت کو دوسرے تمام اقسام حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عموماً اور مہاجرین کی خصوصاً اور بالخصوص خلفائے راشدین کی حقانیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ جن کے ذریعہ وہ تمام امور بطریق احسن سرانجام پائے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ اور جن کی داغ بیل خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈالی تھی۔
[70] یعنی ایک ایسے طرز حکومت کے قیام کا تصور خواہ موجودہ حالات میں نا ممکن نظر آرہا ہو لیکن ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو ابابیلوں کے لشکر سے ہاتھیوں کے لشکر کو بھی پٹوا سکتا ہے۔ وہ آخر ایک اہل حق کی کمزور سی جماعت کے مقابلہ میں کفار کے کروفر والے لشکر کو مغلوب کیوں نہیں کر سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پابندی احکامات کی تاکید ٭٭
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی، ہم نے نماز و روزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔“
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
خلیفہ رسول عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت «الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ» ۱؎ [22-الحج:41] کی تلاوت فرما کر فرمایا ”اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔“
عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ» ۱؎ [24-النور:55] میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ «وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [28-القص:83] عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہو گا۔ ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
خلیفہ رسول عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت «الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ» ۱؎ [22-الحج:41] کی تلاوت فرما کر فرمایا ”اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔“
عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ» ۱؎ [24-النور:55] میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ «وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [28-القص:83] عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہو گا۔ ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔