الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾
وہ جنھیں ان کے گھروں سے کسی حق کے بغیر نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ذریعے ہٹانا نہ ہوتا تو بری طرح ڈھا دیے جاتے (راہبوں کے) جھونپڑے اور (نصرانیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا جاتا ہے اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔
En
یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے
En
یہ وه ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کےاس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وه مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام بہ کثرت لیا جاتا ہے۔ جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ بڑے غلبے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 40) ➊ { الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ …:} یہ آیت دلیل ہے کہ اس سورت کا یہ حصہ مدینہ میں نازل ہوا ہے۔
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دو ظلم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جب کہ یہ تمام دنیا کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو شخص جہاں رہتا ہے وہاں رہنے میں اور اس کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں وہاں کے تمام لوگوں کے ساتھ برابر حق رکھتا ہے اور کسی کو حق نہیں کہ اسے اس کے گھر سے نکال باہر کرے۔ دوسرا ظلم یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو صرف اس جرم کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکالا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جرم ہے ہی نہیں بلکہ عین عدل ہے اور یہ گھروں سے نکالنے کا باعث نہیں بلکہ امن و سکون سے اپنے گھروں میں سکونت کا ضامن ہے۔ دراصل اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایسے طریقے سے تعریف فرمائی ہے کہ ان سے ہر جرم کی نفی کرکے اس چیز کو ان کا جرم بیان کیا ہے جو حقیقت میں جرم نہیں خوبی ہے، جیسا کہ عرب کے ایک شاعر نے کچھ لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
{وَلَا عَيْبَ فِيْهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوْفَهُمْ
بِهِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ}
”ان میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواروں میں دشمن کے لشکروں سے کھٹکھٹانے کی وجہ سے دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“
ظاہر ہے کہ جسے وہ عیب کہہ رہا ہے وہ دراصل بہت بڑی خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقامات پر بھی کفار کا یہ ظلم یاد دلا کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا ہے، فرمایا: «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ» [الممتحنۃ: ۱] ”وہ رسول کو اور خود تمھیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔“
➌ {وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ …: ” صَوَامِعُ “ ”صَوْمَعَةٌ“} کی جمع ہے، وہ عبادت خانہ جو عیسائی راہب آبادیوں سے دور اونچے مینار کی شکل میں بناتے تھے، جس کی اوپر کی منزل میں وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے اور مینار کی چوٹی پر عموماً رات کو چراغ جلاتے، تاکہ مسافر راستہ معلوم کر سکیں اور نچلی منزل میں قیام کر سکیں۔ امرؤ القیس نے کہا ہے:
{تُضِيْءُ الظَّلَامَ بِالْعَشِيِّ كَأَنَّهَا
مَنَارَةُ مُمْسَي رَاهِبٍ مُتَبَتِّلٖ}
{” بِيَعٌ “ ”بِيْعَةٌ“} کی جمع ہے، آبادیوں میں نصرانیوں کے گرجے۔ {” صَلَوٰتٌ “} یہودیوں کے عبادت خانے، یہ {” صَلَاةٌ “} کی جمع ہے۔ شاید ان کا نام {” صَلَوٰتٌ “} اس لیے رکھا گیا ہو کہ یہودیوں کو صرف اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھنا لازم تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ {”صلوتا“} کی جمع ہے جو غیر عربی لفظ ہے اور یہودیوں کے عبادت خانے پر بولا جاتا ہے۔ {” لَهُدِّمَتْ “} باب تفعیل کی وجہ سے ترجمہ ہو گا ”بری طرح ڈھا دیے جاتے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز، ہر شخص اور ہر جماعت، دوسری چیز، یا شخص یا جماعت کے مقابلے میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلے میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان تک زمین پر باقی نہ رہتا۔ بے دین اور شریر لوگ، جن کی ہر زمانے میں کثرت رہی ہے، تمام مقدس مقامات اور شعائر اللہ کو ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ بدی کی طاقتیں کتنی ہی جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت آئے جب نیکی کے ہاتھوں بدی کے حملوں کا دفاع کرایا جائے اور حق تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد فرما کر ان کو دشمنانِ حق پر غالب کرے۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کو ظالم کافروں کے مقابلے میں جہاد و قتال کی اجازت دینا اسی قانون قدرت کے ماتحت تھا اور یہ وہ عام قانون ہے جس کا انکار کوئی عقل مند نہیں کر سکتا۔ اگر دفاع و حفاظت کا یہ قانون نہ ہوتا تو اپنے اپنے زمانے میں نہ نصرانی راہبوں کے صوامع قائم رہتے اور نہ نصاریٰ کے گرجے، نہ یہود کے عبادت خانے اور نہ مسلمانوں کی وہ مسجدیں جن میں اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے، یہ سب عبادت گاہیں گرا کر اور بری طرح ڈھا کر ملیامیٹ کر دی جاتیں۔ تواس عام قانون کے تحت کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کو ایک مناسب وقت پر اپنے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس مضمون کی ایک اور آیت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۱)۔
➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے، ان کو مسمار نہ کیا جائے، کیونکہ ان میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، البتہ بت خانے اور آتش کدے صرف اس صورت میں باقی رکھے جائیں گے جب کسی قوم سے معاہدے میں انھیں باقی رکھنا شامل ہو۔
➎ {وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ:} اللہ کی مدد سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ» [فاطر: ۱۵] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کے دین کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔ دین کی مدد دلیل و برہان کے ساتھ بھی ہے اور سیف و سنان کے ساتھ بھی، اسی طرح جان کے ساتھ بھی ہے اور مال کے ساتھ بھی، پھر ہاتھوں کے ساتھ بھی ہے اور زبان کے ساتھ بھی، غرض ہر طرح سے اللہ کے دین کی مدد لازم ہے اور جو بھی یہ فریضہ سرانجام دے گا اللہ تعالیٰ اس کی یقینا ضرور مدد فرمائے گا، خواہ اس کے لیے نصرت کے دنیوی اسباب مہیا فرما دے یا غیب سے اپنے لشکروں میں سے کسی لشکر کے ساتھ مدد کر دے، فرمایا: «وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اَلَّا ھُوَ» [المدثر: ۳۱] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ جیسے بدر میں فرشتوں کے ذریعے سے مدد فرمائی (انفال: ۹) اور خندق میں آندھی اور ان لشکروں کے ذریعے سے مدد فرمائی جو تم نے نہیں دیکھے۔ (احزاب: ۹)
➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ جس کی وہ مدد کرے یقینا وہی غالب ہو گا اور اس کا مدمقابل مغلوب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اپنے دین کی مدد کرنے والے انصار و مہاجرین اور ان کے پیروکاروں کے ہاتھوں زمین کے جابر و قاہر بادشاہوں کو مغلوب و مقہور کرکے مشرق سے مغرب تک اسلام کا بول بالا کر دیا۔ «{ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا }» [النساء: ۸۷] ”اور اللہ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟“
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دو ظلم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جب کہ یہ تمام دنیا کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو شخص جہاں رہتا ہے وہاں رہنے میں اور اس کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں وہاں کے تمام لوگوں کے ساتھ برابر حق رکھتا ہے اور کسی کو حق نہیں کہ اسے اس کے گھر سے نکال باہر کرے۔ دوسرا ظلم یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو صرف اس جرم کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکالا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جرم ہے ہی نہیں بلکہ عین عدل ہے اور یہ گھروں سے نکالنے کا باعث نہیں بلکہ امن و سکون سے اپنے گھروں میں سکونت کا ضامن ہے۔ دراصل اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایسے طریقے سے تعریف فرمائی ہے کہ ان سے ہر جرم کی نفی کرکے اس چیز کو ان کا جرم بیان کیا ہے جو حقیقت میں جرم نہیں خوبی ہے، جیسا کہ عرب کے ایک شاعر نے کچھ لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
{وَلَا عَيْبَ فِيْهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوْفَهُمْ
بِهِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ}
”ان میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواروں میں دشمن کے لشکروں سے کھٹکھٹانے کی وجہ سے دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“
ظاہر ہے کہ جسے وہ عیب کہہ رہا ہے وہ دراصل بہت بڑی خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقامات پر بھی کفار کا یہ ظلم یاد دلا کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا ہے، فرمایا: «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ» [الممتحنۃ: ۱] ”وہ رسول کو اور خود تمھیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔“
➌ {وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ …: ” صَوَامِعُ “ ”صَوْمَعَةٌ“} کی جمع ہے، وہ عبادت خانہ جو عیسائی راہب آبادیوں سے دور اونچے مینار کی شکل میں بناتے تھے، جس کی اوپر کی منزل میں وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے اور مینار کی چوٹی پر عموماً رات کو چراغ جلاتے، تاکہ مسافر راستہ معلوم کر سکیں اور نچلی منزل میں قیام کر سکیں۔ امرؤ القیس نے کہا ہے:
{تُضِيْءُ الظَّلَامَ بِالْعَشِيِّ كَأَنَّهَا
مَنَارَةُ مُمْسَي رَاهِبٍ مُتَبَتِّلٖ}
{” بِيَعٌ “ ”بِيْعَةٌ“} کی جمع ہے، آبادیوں میں نصرانیوں کے گرجے۔ {” صَلَوٰتٌ “} یہودیوں کے عبادت خانے، یہ {” صَلَاةٌ “} کی جمع ہے۔ شاید ان کا نام {” صَلَوٰتٌ “} اس لیے رکھا گیا ہو کہ یہودیوں کو صرف اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھنا لازم تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ {”صلوتا“} کی جمع ہے جو غیر عربی لفظ ہے اور یہودیوں کے عبادت خانے پر بولا جاتا ہے۔ {” لَهُدِّمَتْ “} باب تفعیل کی وجہ سے ترجمہ ہو گا ”بری طرح ڈھا دیے جاتے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز، ہر شخص اور ہر جماعت، دوسری چیز، یا شخص یا جماعت کے مقابلے میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلے میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان تک زمین پر باقی نہ رہتا۔ بے دین اور شریر لوگ، جن کی ہر زمانے میں کثرت رہی ہے، تمام مقدس مقامات اور شعائر اللہ کو ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ بدی کی طاقتیں کتنی ہی جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت آئے جب نیکی کے ہاتھوں بدی کے حملوں کا دفاع کرایا جائے اور حق تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد فرما کر ان کو دشمنانِ حق پر غالب کرے۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کو ظالم کافروں کے مقابلے میں جہاد و قتال کی اجازت دینا اسی قانون قدرت کے ماتحت تھا اور یہ وہ عام قانون ہے جس کا انکار کوئی عقل مند نہیں کر سکتا۔ اگر دفاع و حفاظت کا یہ قانون نہ ہوتا تو اپنے اپنے زمانے میں نہ نصرانی راہبوں کے صوامع قائم رہتے اور نہ نصاریٰ کے گرجے، نہ یہود کے عبادت خانے اور نہ مسلمانوں کی وہ مسجدیں جن میں اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے، یہ سب عبادت گاہیں گرا کر اور بری طرح ڈھا کر ملیامیٹ کر دی جاتیں۔ تواس عام قانون کے تحت کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کو ایک مناسب وقت پر اپنے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس مضمون کی ایک اور آیت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۱)۔
➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے، ان کو مسمار نہ کیا جائے، کیونکہ ان میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، البتہ بت خانے اور آتش کدے صرف اس صورت میں باقی رکھے جائیں گے جب کسی قوم سے معاہدے میں انھیں باقی رکھنا شامل ہو۔
➎ {وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ:} اللہ کی مدد سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ» [فاطر: ۱۵] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کے دین کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔ دین کی مدد دلیل و برہان کے ساتھ بھی ہے اور سیف و سنان کے ساتھ بھی، اسی طرح جان کے ساتھ بھی ہے اور مال کے ساتھ بھی، پھر ہاتھوں کے ساتھ بھی ہے اور زبان کے ساتھ بھی، غرض ہر طرح سے اللہ کے دین کی مدد لازم ہے اور جو بھی یہ فریضہ سرانجام دے گا اللہ تعالیٰ اس کی یقینا ضرور مدد فرمائے گا، خواہ اس کے لیے نصرت کے دنیوی اسباب مہیا فرما دے یا غیب سے اپنے لشکروں میں سے کسی لشکر کے ساتھ مدد کر دے، فرمایا: «وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اَلَّا ھُوَ» [المدثر: ۳۱] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ جیسے بدر میں فرشتوں کے ذریعے سے مدد فرمائی (انفال: ۹) اور خندق میں آندھی اور ان لشکروں کے ذریعے سے مدد فرمائی جو تم نے نہیں دیکھے۔ (احزاب: ۹)
➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ جس کی وہ مدد کرے یقینا وہی غالب ہو گا اور اس کا مدمقابل مغلوب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اپنے دین کی مدد کرنے والے انصار و مہاجرین اور ان کے پیروکاروں کے ہاتھوں زمین کے جابر و قاہر بادشاہوں کو مغلوب و مقہور کرکے مشرق سے مغرب تک اسلام کا بول بالا کر دیا۔ «{ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا }» [النساء: ۸۷] ”اور اللہ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
صوامع صومعۃ کی جمع) سے چھوٹے گرجے اور بیع (بیعۃ کی جمع) سے بڑے گرجے صلوات سے یہودیوں کے عبادت خانے اور مساجد سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا [67] پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعہ [68] لوگوں کی مدافعت نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مساجد جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے، مسمار کر دی جاتی ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کی ضرور مدد کرتا ہے جو اس (کے دین) کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ یقیناً بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے۔
[67] مسلمانوں کو یہ سب مصائب اس لئے جھیلنا پڑے اور انھیں صرف اس جرم بے گناہی کی سزا دی جاتی رہی کہ وہ صرف ایک اللہ کے پرستار تھے۔ مکہ میں جس قدر مظالم ڈھائے گئے یہ داستان اتنی طویل اور خونچکاں ہے جس کا بیان یہاں ممکن نہیں اور اس کے لئے ایک الگ کتاب درکار ہے اس بات کا کچھ تھوڑا بہت اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مکی دور میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے اور سازشیں تیار کی گئیں ان کا مختصر ذکر سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 67 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے۔ [68] معرکہ حق و باطل میں اللہ اہل حق کی مدد کیوں کرتے ہیں؟
اس آیت میں ﴿الناس﴾ سے مراد مشرکین اور اللہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے لوگ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب بدی زور پکڑنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ اہل حق کا ساتھ دے کر، خواہ وہ اہل حق کتنے ہی تھوڑے اور کمزور ہوں، بدی کا زور توڑ دیتا ہے۔ وہ قوت جسے اپنے سرنگوں ہونے کا تصور تک بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اللہ انھیں حق و باطل کے معرکہ میں لا کر اور اہل حق کی امداد کر کے انھیں صفحہ ہستی سے ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ اللہ کا یہ قانون اگر جاری و ساری نہ ہوتا تو مشرکین اور باطل قوتیں اہل حق کو کبھی جینے نہ دیتیں نہ ہی ان کے عبادت خانے برقرار رہنے دیتیں جن میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کے بجائے بس بت خانے۔ اور آستانے ہی دنیا میں نظر آتے۔ اس آیت میں صومعۃ کا لفظ راہب قسم کے لوگوں کے عبادت خانوں کے لئے بِیَع (واحد بیعة) عیسائیوں کی عبادت گاہ یا گرجا کے لئے صلوٰت یہودیوں کی عبادت گاہوں کے لئے اور مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے لئے استعمال ہوا ہے اور اب مسلمانوں کو جو جہاد و قتال کی اجازت دی جا رہی ہے۔ تو وہ اللہ کے اسی قانون کے مطابق ہے کہ اللہ اہل حق کی امداد کر کے باطل کا سر کچل دے۔ اس آیت میں در اصل مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑی بشارت دی گئی ہے اسی قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں مشرکوں کے غلبہ کو روکا اور اہل حق کو ان سے بچایا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ہی اسرائیل کو مشرکوں کے شر سے محفوظ رکھا اور حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ میں نصاریٰ کو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ یقیناً مسلمانوں کو بھی مشرکین کے شر سے محفوظ رکھے گا اور انھیں غلبہ عطا کرے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دینے اور اہل ایمان کے حق میں انھیں ساز گار بنانے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں رہے مسلمان بہت ہی کمزور تھے تعداد میں بھی دس کے مقابلے میں ایک بمشکل بیٹھتا۔
چنانچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شب خون ماریں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا }۔
چنانچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شب خون ماریں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا }۔
یہ یاد رہے کہ یہ بزرگ صرف اسی (٨٠) سے کچھ اوپر تھے۔ جب مشرکوں کی بغاوت بڑھ گئی، جب وہ سرکشی میں حد سے گزر گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذائیں دیتے دیتے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے درپے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے کے منصوبے گانٹھنے لگے۔
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ بیک بینی و دوگوش وطن مال اسباب، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کر چل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کا طلوع بھی مدینے شریف میں ہوا۔
اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہو گئی۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی۔ اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری۔
اس میں بیان فرمایا گیا کہ ’ یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لیے گئے ہیں، بے وجہ گھر سے بے گھر کر دئیے گئے ہیں، مکے سے نکال دئیے گئے، مدینے میں بے سرو سامانی میں پہنچے۔ ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے۔ یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں ‘۔
فرمان ہے آیت «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِيْ» ۱؎ [60-الممتحنة:1] ’ تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے ‘۔
خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا آیت «مَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [85-البروج:8] یعنی ’ دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب، مہربان، ذی احسان پر ایمان لائے تھے ‘۔
{ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے، شعر «لَا هُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اِهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» «فَأَنْزِلَن سَكِينَة عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَام إِنْ لَاقَيْنَا» «إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَة أَبَيْنَا» خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور «أَبَيْنَا» کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4106]
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ بیک بینی و دوگوش وطن مال اسباب، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کر چل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کا طلوع بھی مدینے شریف میں ہوا۔
اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہو گئی۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی۔ اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری۔
اس میں بیان فرمایا گیا کہ ’ یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لیے گئے ہیں، بے وجہ گھر سے بے گھر کر دئیے گئے ہیں، مکے سے نکال دئیے گئے، مدینے میں بے سرو سامانی میں پہنچے۔ ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے۔ یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں ‘۔
فرمان ہے آیت «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِيْ» ۱؎ [60-الممتحنة:1] ’ تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے ‘۔
خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا آیت «مَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [85-البروج:8] یعنی ’ دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب، مہربان، ذی احسان پر ایمان لائے تھے ‘۔
{ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے، شعر «لَا هُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اِهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» «فَأَنْزِلَن سَكِينَة عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَام إِنْ لَاقَيْنَا» «إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَة أَبَيْنَا» خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور «أَبَيْنَا» کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4106]
پھر فرماتا ہے ’ اگر اللہ تعالیٰ ایک کا علاج دوسرے سے نہ کرتا اگر ہر سیر پر سوا سیر نہ ہوتا تو زمین میں شر فساد مچ جاتا، ہر قوی ہر کمزور کو نگل جاتا ‘۔
عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔
«بِيَعٌ» ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں۔
صلوات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ۔ راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صلوات کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مساجد۔
«فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع مساجد ہے اس لیے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صوامع، نصرانیوں کے بیع، یہودیوں کے صلوات اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے۔
عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔
«بِيَعٌ» ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں۔
صلوات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ۔ راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صلوات کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مساجد۔
«فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع مساجد ہے اس لیے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صوامع، نصرانیوں کے بیع، یہودیوں کے صلوات اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے۔
بعض علماء کا بیان ہے کہ اس آیت میں اقل سے اکثر کی طرف کی ترقی کی صنعت رکھی گئی ہے پس سب سے زیادہ آباد سب سے بڑا عبادت گھر جہاں کے عابدوں کا قصد صحیح نیت نیک عمل صالح ہے وہ مسجدیں ہیں۔
پھر فرمایا ’ اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے ‘، جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:8،7] یعنی ’ اگر اے مسلمانو! تم اللہ کے دین کی امداد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں ‘۔
پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کر دیا، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بے نیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب۔
فرماتا ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» ۱؎ [37-الصافات:173-171] یعنی ’ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کر لیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ اللہ کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے ‘۔
پھر فرمایا ’ اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے ‘، جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:8،7] یعنی ’ اگر اے مسلمانو! تم اللہ کے دین کی امداد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں ‘۔
پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کر دیا، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بے نیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب۔
فرماتا ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» ۱؎ [37-الصافات:173-171] یعنی ’ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کر لیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ اللہ کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے ‘۔