لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمۡ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۷﴾
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا۔ اسی طرح اس نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔
En
خدا تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون۔ بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو۔ اور (اے پیغمبر) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دو
En
اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ اس کے خون بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی رہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے!
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37) ➊ {لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس نہ قربانیوں کے گوشت پہنچیں گے، جو کھا لیے گئے اور نہ ان کے خون، جو بہا دیے گئے۔ یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے غنی ہے، اس کے پاس تو تقویٰ یعنی تمھارے دل کا وہ خوف پہنچے گا جو اللہ کی ناراضگی سے بچاتا ہے، جو دل پر غالب ہو جاتا ہے تو آدمی اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتا اور ہر منع کردہ کام سے باز آ جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ…: 2564/34] ”اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ اس آیت اور حدیث سے دل کے تقویٰ اور نیت کے اخلاص کی اہمیت ظاہر ہے، اس لیے قربانی خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ دکھاوا مقصود ہو اور نہ شہرت، نہ فخر اور نہ یہ خیال کہ لوگ قربانی کرتے ہیں تو ہم بھی کریں۔ نیت کے بغیر عمل کا کچھ فائدہ نہیں۔ نیت خالص ہو تو بعض اوقات عمل کے بغیر ہی بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: [إِنَّ بِالْمَدِيْنَةِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ؟ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ] [بخاري، المغازی، باب: ۴۴۲۳]”مدینہ میں کئی لوگ ہیں کہ تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مدینہ میں رہتے ہوئے؟“ فرمایا: ”ہاں! مدینہ میں رہتے ہوئے، انھیں عذر نے روکے رکھا۔“ نیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آدمی کی زندگی جتنی بھی ہو محدود ہے، یعنی صرف چند سال، اگر اس میں نیک عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں اور برے عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ محدود عمل پر غیر محدود جزا نیت کی وجہ سے ہے کہ نیک کی نیت ہمیشہ نیکی کرتے رہنے کی اور بد کی نیت ہمیشہ بدی کرتے رہنے کی تھی۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۷، ۲۸)۔
➋ {كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ:} یہاں تاکید کے لیے قربانی کے جانوروں کو مسخر کرنے کا احسان دوبارہ یاد دلایا اور تکبیر یعنی ”اللہ اکبر“ کہہ کر اللہ کی بزرگی بیان کرنے کا ذکر فرمایا، اس سے پہلے قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ “} کہنا اللہ کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اونٹ کو اِشعار (کوہان کی ایک طرف زخم) کرتے ہوئے {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“} پڑھتے تھے۔ [الموطأ لإمام مالک: ۸۴۵] انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھا اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔ [بخاري، الأضاحي، باب التکبیر عند الذبح: ۵۵۶۵] {” لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ “} کے لفظ عام ہونے کی وجہ سے چوپاؤں کو مسخر کرنے کی نعمت پر دوسرے اوقات میں بھی اللہ کی کبریائی بیان کرنی چاہیے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے روانہ ہوتے وقت اونٹ پر سوار ہوتے تو تین دفعہ ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر {”سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ“} پڑھتے (آگے سفر کی مکمل دعا مذکور ہے)۔ [مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ…: ۱۳۴۲]
➌ {وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ:” الْمُخْبِتِيْنَ “} کو بشارت دینے کے حکم کے بعد {” الْمُحْسِنِيْنَ “} کو بشارت دینے کا حکم دیا۔ احسان کا تعلق {” وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ “} سے ہے۔ تقویٰ ہر وقت اللہ کے خوف سے اس کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔ احسان بھی یہی ہے کہ ہر وقت یہ بات دل و دماغ میں حاضر رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تفسیر فرمائی: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل…: ۵۰] ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقینا تمھیں دیکھ رہا ہے۔“ تواضع اور احسان کی صفات رکھنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں ہر خیر کی بشارت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۱۲)، نساء (۱۲۵) اور لقمان (۲۲) اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
➍ مفسر بقاعی نے {” وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} کی واؤ کا ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ دین کا مدار نذارت و بشارت دونوں پر ہے، اس مقام پر چونکہ حج اور اس کے اعمال قربانی وغیرہ کا ذکر ہے، جو بشارت سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں، اس لیے نذارت کو حذف کرکے واؤ عطف کے بعد بشارت کا واضح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ گویا اصل عبارت یوں تھی:{” فَأَنْذِرْ أَيُّهَا الدَّاعِي! الْمُسِيْئِيْنَ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} ”سوائے دعوت دینے والے! برائی کرنے والوں کو ڈرا اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دے۔“
➋ {كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ:} یہاں تاکید کے لیے قربانی کے جانوروں کو مسخر کرنے کا احسان دوبارہ یاد دلایا اور تکبیر یعنی ”اللہ اکبر“ کہہ کر اللہ کی بزرگی بیان کرنے کا ذکر فرمایا، اس سے پہلے قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ “} کہنا اللہ کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اونٹ کو اِشعار (کوہان کی ایک طرف زخم) کرتے ہوئے {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“} پڑھتے تھے۔ [الموطأ لإمام مالک: ۸۴۵] انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھا اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔ [بخاري، الأضاحي، باب التکبیر عند الذبح: ۵۵۶۵] {” لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ “} کے لفظ عام ہونے کی وجہ سے چوپاؤں کو مسخر کرنے کی نعمت پر دوسرے اوقات میں بھی اللہ کی کبریائی بیان کرنی چاہیے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے روانہ ہوتے وقت اونٹ پر سوار ہوتے تو تین دفعہ ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر {”سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ“} پڑھتے (آگے سفر کی مکمل دعا مذکور ہے)۔ [مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ…: ۱۳۴۲]
➌ {وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ:” الْمُخْبِتِيْنَ “} کو بشارت دینے کے حکم کے بعد {” الْمُحْسِنِيْنَ “} کو بشارت دینے کا حکم دیا۔ احسان کا تعلق {” وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ “} سے ہے۔ تقویٰ ہر وقت اللہ کے خوف سے اس کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔ احسان بھی یہی ہے کہ ہر وقت یہ بات دل و دماغ میں حاضر رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تفسیر فرمائی: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل…: ۵۰] ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقینا تمھیں دیکھ رہا ہے۔“ تواضع اور احسان کی صفات رکھنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں ہر خیر کی بشارت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۱۲)، نساء (۱۲۵) اور لقمان (۲۲) اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
➍ مفسر بقاعی نے {” وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} کی واؤ کا ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ دین کا مدار نذارت و بشارت دونوں پر ہے، اس مقام پر چونکہ حج اور اس کے اعمال قربانی وغیرہ کا ذکر ہے، جو بشارت سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں، اس لیے نذارت کو حذف کرکے واؤ عطف کے بعد بشارت کا واضح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ گویا اصل عبارت یوں تھی:{” فَأَنْذِرْ أَيُّهَا الدَّاعِي! الْمُسِيْئِيْنَ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} ”سوائے دعوت دینے والے! برائی کرنے والوں کو ڈرا اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ اللہ کو قربانی کے جانوروں کا نہ تو گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے [61] تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے انھیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ اللہ نے جو تمہیں راہ دکھلائی ہے اس (کا شکر کے طور پر) اس کی بڑائی بیان کرو [62]۔ اور (اے نبی)! آپ نیکو کار لوگوں کو بشارت [63] دے دیجئے۔
[61] مشرکین کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کسی بت کے نام پر کوئی قربانی کا جانور ذبح کرتے تو اس کا گوشت اس کے سامنے رکھ دیتے اور اس کا خون بت کے جسم پر مل دیتے تھے۔ بتوں کے سامنے رکھا ہوا گوشت تو بتوں کے مجاوروں کے کام آتا تھا اور وہی ان بتوں کو بعد میں صاف بھی کر ڈالتے تھے۔ اور جب وہ اللہ کے نام کی قربانی کرتے تو بھی گوشت کعبہ کے سامنے لا رکھتے اور خون کعبہ کی دیواروں سے لتھیڑ دیتے یا اس پر اس خون کے چھینٹے ڈالتے۔ گویا ان کے خیال کے مطابق قربانی کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس کا گوشت اور خون پیش کر دیا جائے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس جاہلی نظریہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کو نہ تمہارے قربانی کے جانوروں کے گوشت کی ضرورت ہے اور نہ خون کی۔ خون تو ویسے ہی حرام اور ناپاک چیز ہے اور گوشت تم خود ہی کھا سکتے ہو اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ اللہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ تم نے کس نیت، خلوص اور محبت کے ساتھ اللہ کے حضور یہ قربانی پیش کی ہے۔ تمہاری نیت میں جس قدر خلوص اور تقویٰ ہو گا وہی اللہ کے حضور اس قربانی کی قدر و قیمت ہو گی۔ قربانی کی قبولیت کی شرائط اور نیت کے فتور کی صورتیں:۔
بعض لوگ قربانی محض رسم کے طور پر بجا لاتے ہیں۔ بعض اس لئے کہ ہمارے بچے آخر دوسرے کی طرف سے گوشت آنے کا کیوں انتظار کرتے رہیں۔ اور بعض دولتمند اس لئے کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ انھیں طعنہ نہ دیں۔ اور بعض اس لئے کوئی موٹا، عمدہ اور قیمتی جانور قربانی کرتے ہیں کہ لوگوں میں ان کی شہرت ہو۔ اور بعض بخل سے کام لے کر کوئی کمزور اور عیب دار قسم کا جانور قربان کر دیتے ہیں۔ ایسے سب لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے۔ کہ اللہ تعالیٰ صرف یہ دیکھتا ہے آیا اس بندہ نے جو قربانی کی ہے وہ اللہ کی احسان مندی اور شکر بجا لاتے ہوئے شوق و محبت سے کی ہے یا نہیں۔ اگر کسی کی نیت ہی لنگڑی لولی ہو تو اگر وہ کوئی موٹا تازہ جانور بھی قربان کرے گا تو اس کا اسے کتنا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟
[62] بڑائی بیان کرنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ذبح کے وقت ﴿بسم الله الله اكبر﴾ یا ﴿بسم الله والله اكبر﴾ اور شکر کی ادائیگی کے لئے: ﴿اللهم منك ولك﴾ (یعنی اے اللہ! یہ قربانی کا جانور تو نے ہی عطا کیا تھا اور تیری رضا کے لئے میں اسے قربان کر رہا ہوں) پڑھنا چاہئے۔
[62] بڑائی بیان کرنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ذبح کے وقت ﴿بسم الله الله اكبر﴾ یا ﴿بسم الله والله اكبر﴾ اور شکر کی ادائیگی کے لئے: ﴿اللهم منك ولك﴾ (یعنی اے اللہ! یہ قربانی کا جانور تو نے ہی عطا کیا تھا اور تیری رضا کے لئے میں اسے قربان کر رہا ہوں) پڑھنا چاہئے۔
[63] حج نہ کرنے والوں کو حاجیوں سے مماثلت کے احکام:۔
جب ستم رسیدہ مسلمان ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آئے تو انھیں کئی قسم کے غم اور تفکرات لاحق تھے۔ گھر بار اور اپنا وطن مالوف چھوڑنے کا غم یا مدینہ میں آب و ہوا کی ناسازگاری، ذریعہ معاش کی فکر، کفار مکہ کی ایذا رسانیوں کی یاد جو انھیں بے چین کر دیتی تھی۔ مزید ستم یہ کہ مدینہ میں آنے کے بعد بھی کفار مکہ نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ علاوہ ازیں ایک بڑا غم مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے دور ہو جانے کا تھا۔ جسے اب وہ دیکھ بھی نہ سکتے تھے۔ مناسک حج و عمرہ بجا لانا تو دور کی بات تھی۔ انھیں حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خود ان کی طرف سے کافروں کی مدافعت کر رہا ہے اور وہ بتدریج ایسے حالات پیدا کر دے گا کہ مسلمانوں کے لئے سب راہیں کھل جائیں گی۔ اور ان کے دشمن ہی بالآخر خائب و خاسر ہوں گے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کو کئی ایسے احکام دیئے گئے ہیں جن سے ان کی مناسک حج و عمرہ کی بجا لانے کی حسرت کی کسی حد تک تلافی ہو سکتی تھی۔ اور ان احکام پر حج کرنے والوں سے مماثلت بھی پائی جاتی تھی۔ مثلاً مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ان میں ہر صاحب استطاعت 10 ذی الحجہ کو قربانی کیا کرے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال قربانی دیتے رہے نیز مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ یکم ذی الحجہ کا یعنی چاند دیکھنے سے لے کر قربانی کرنے تک نہ حجامت بنو ائے اور نہ ناخن کٹوائے۔ نیز یہ کہ مسلمان کسی دوسرے کے ہاتھ میں اپنا قربانی کا جانور بیت اللہ شریف بھیج سکتے ہیں۔ نیز ایام تشریق میں وہ بھی اسی طرح تکبیرات پڑھا کریں جس طرح حاجی حضرات ان دنوں میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قربانی پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے ‘۔ اسی لیے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت و خون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بے نیاز ہے۔
جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ ’ اللہ تو تقویٰ کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے ‘۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
اور حدیث میں ہے کہ { خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ ’ اللہ تو تقویٰ کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے ‘۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
اور حدیث میں ہے کہ { خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عامر شعبی رحمہ اللہ سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا ”اللہ کو گوشت و خون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نا مرضی کے کاموں سے رک جاؤ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔ جو لوگ نیک کار ہیں، حدود اللہ کے پابند ہیں، شریعت کے عامل ہیں، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں۔“
مسئلہ ٭٭
امام ابوحنیفہ، مالک ثوری رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”جس کے پاس نصاب زکوٰۃ جتنا مال ہو اس پر قربانی واجب ہے۔“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مقیم ہو۔
چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ { جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3123،قال الشيخ الألباني:حسن] اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اسے منکر بتاتے ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دس سال قربانی کرتے رہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1507،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام شافعی رحمہ اللہ اور حضرت مام احمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ قربانی واجب و فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ { مال و زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1789،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ { جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3123،قال الشيخ الألباني:حسن] اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اسے منکر بتاتے ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دس سال قربانی کرتے رہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1507،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام شافعی رحمہ اللہ اور حضرت مام احمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ قربانی واجب و فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ { مال و زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1789،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ بھی روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام امت کی طرف سے قربانی کی } پس وجوب ساقط ہو گیا۔ ابو شریحہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے پڑوس میں رہتا تھا۔ یہ دونوں بزرگ قربانی نہیں کرتے تھے اس ڈر سے کہ لوگ ان کی اقتداء کریں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی سنت کفایہ ہے، جب کہ محلے میں سے یا گلی میں سے یا گھر میں سے کسی ایک نے کر لی باقی سب نے ایسا نہ کیا۔ اس لیے کہ مقصود صرف شعار کا ظاہر کرنا ہے۔
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں فرمایا: { ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور «عَتِيرَة» ہے جانتے ہو «عَتِيرَة» کیا ہے؟ وہی جسے تم «رَّجَبِيَّة» کہتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کر دیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کر لیا جو تم دیکھ رہے ہو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1505،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7210]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں فرمایا: { ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور «عَتِيرَة» ہے جانتے ہو «عَتِيرَة» کیا ہے؟ وہی جسے تم «رَّجَبِيَّة» کہتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کر دیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کر لیا جو تم دیکھ رہے ہو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1505،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7210]
اب قربانی کے جانور کی عمر کا بیان ملاحظہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نہ ذبح کرو مگر «مُسِنَّة» بجز اس صورت کے کہ وہ تم پر بھاری پڑ جائے تو پھر بھیڑ کا بچہ بھی چھ ماہ کا ذبح کر سکتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن]
زہری رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ «الْجَذَع» یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہو گیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔
ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اس کی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
زہری رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ «الْجَذَع» یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہو گیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔
ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اس کی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔