تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ” مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ “} کی ایک تفسیر وہ ہے جو طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کی ہے کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا، وہ چھت سے ایک رسی باندھے، پھر اس کے ساتھ پھانسی لے کر اپنا گلا گھونٹ لے اور مر جائے اور دیکھے، کیا اس کے ایسا کرنے سے اس کے غصے اور حسد کی آگ بجھتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت پر اس کے سینے میں بھڑک رہی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ بے شک پھانسی لے کر مر جائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے رسول کی نصرت یقینا فرمائے گا۔ چونکہ ہر چیز کا اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہے، اس لیے نصرت میں دیر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد کبھی کرے گا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یقینا اپنے تمام رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا اور آخرت میں مدد فرماتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ }» [المؤمن: ۵۱] ”بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“ اس تفسیر پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت سے پہلے یا بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں آیا تو ”اس کی مدد نہیں کرے گا“ میں ”اس“ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے مراد ہو سکتے ہیں؟ جواب اس کا یہ دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضمیر لوٹانے کے لیے پہلے آپ کا ذکر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ آپ کا ذکر ہر مومن کے ذہن میں موجود ہے۔ اس لیے الفاظ میں پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ بھی ہو تو حرج نہیں۔
دوسری تفسیر وہ ہے جو طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کی ہے کہ جو شخص (اپنے متعلق) یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں (اس کی کبھی مدد نہیں کرے گا) اسے کبھی رزق نہیں دے گا، وہ اوپر کی طرف رسی لٹکا کر اپنا گلا گھونٹ لے، پھر دیکھے…۔ یعنی جو شخص اللہ کی نصرت پر یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ایسے ناامید شخص کو چاہیے کہ وہ پھانسی لے کر مر جائے، پھر دیکھے کہ کیا اس سے اس کی امید برآتی ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ اگر تم فلاں بات پر یقین نہیں کرتے تو جاؤ دیوار سے ٹکر ما رکر مر جاؤ۔
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس آیت کی ایک بہت عمدہ تفسیر فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں: ”دنیا کی تکلیف میں جو اللہ تعالیٰ سے ناامید ہو کر اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزوں کی پوجا کرے، جن کے ہاتھ نہ برا ہے نہ بھلا، وہ اپنے دل کو سمجھانے اور تسلی دینے کے لیے یہ صورت قیاس کرلے کہ جیسے ایک شخص اونچی لٹکتی رسی سے لٹک رہا ہے، اگر چڑھ نہیں سکتا تو توقع تو ہے کہ رسی اوپر کھینچے تو چڑھ جاوے۔ جب رسی توڑ دی پھر کیا توقع؟ رسی کہا اللہ کی امید کو اور اس رسی کو آسمان کی طرف تانے یعنی اونچان کی طرف۔“ (موضح) اس تفسیر اور اس سے پہلی تفسیر دونوں میں اس آیت کا تعلق گزشتہ آیت: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ }» سے بھی واضح ہو رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہو گی۔ ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ جائے اور اس اترتی ہوئی مدد آسمانی کو کاٹ دے۔
لیکن پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے اور اس میں ان کی پوری بے بسی اور نامرادی کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے دین کو اپنی کتاب کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقی دے گا ہی چونکہ یہ لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے اس لیے انہیں چاہیئے کہ یہ مرجائیں، اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52،51] ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندروں کی مدد کرتے ہی ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔
یہاں فرمایا کہ ’ یہ پھانسی پر لٹک کر دیکھ لے کہ شان محمدی کو کس طرح کم کر سکتا ہے؟ اپنے سینے کی آگ کو کسی طرح بجھا سکتا ہے اس قرآن کو ہم نے اتارا ہے جس کی آیتیں الفاظ اور معنی کے لحاظ سے بہت ہی واضع ہیں۔ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر یہ حجت ہے۔ ہدایت گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی حکمت وہی جانتا ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب کا حاکم ہے، وہ رحمتوں والا، عدل والا، غلبے والا، حکمت والا، عظمت والا، اور علم والا ہے ‘۔
«لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:23] ’ کوئی اس پر مختار نہیں جو چاہے کرے سب سے حساب لینے والا وہی ہے اور وہ بھی بہت جلد ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: من كان يظن أنَّ الله لا ينصر رسوله وأنَّ دينه سيضمحل فإنَّ النصر من الله ينزل من السماء، [{فَلْيَمدُد بِسَبَبٍ إلى السَّمَاءِ ثُمَّ ليَقطَع}: النصر عن الرسول] ، {فَليَنظُر هَل يُذْهِبَنَّ كَيدُهُ}؛ أي: ما يكيد به الرسول ويعمله من محاربته والحرص على إبطال دينه ما يُغيظُهُ من ظهورِ دينِهِ. وهذا استفهامٌ بمعنى النفي، وأنَّه لا يقدر على شفاء غيظه بما يعمله من الأسباب.
ومعنى هذه الآية الكريمة: يا أيُّها المعادي للرسول محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، الساعي في إطفاء دينه، الذي يظنُّ بجهله أنَّ سعيه سيفيدُهُ شيئاً! اعلم أنَّك مهما فعلت من الأسباب، وسعيتَ في كيد الرسول؛ فإنَّ ذلك لا يُذْهِبُ غيظَكَ ولا يشفي كَمَدَكَ؛ فليس لك قدرةٌ في ذلك، ولكن سنشير عليك برأي تتمكَّن به من شفاء غيظِكَ ومن قطع النصر عن الرسول إن كان ممكناً: ائتِ الأمر مع بابِهِ، وارتقِ إليه بأسبابه: اعمدْ إلى حبل من ليفٍ أو غيره، ثم علِّقْه في السماء، ثم اصعدْ به حتى تَصِلَ إلى الأبواب التي ينزل منها النصرُ، فسدَّها وأغلِقْها واقطعْها؛ فبهذه الحال تشفي غيظك؛ فهذا هو الرأي والمكيدةُ، وأما سوى هذه الحال؛ فلا يخطر ببالك أنَّك تشفي بها غيظك، ولو ساعدك مَن ساعدك مِن الخلق.
وهذه الآية الكريمة فيها من الوعد والبشارة بنصر الله لدينِهِ ولرسولِهِ وعباده المؤمنين ما لا يخفى، ومن تأييس الكافرين الذين يريدون أن يطفئوا نور الله بأفواههم، واللهُ متمُّ نورِهِ ولو كره الكافرون؛ أي: وسَعَوْا مهما أمكنهم.