ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 15

مَنۡ کَانَ یَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ لۡیَقۡطَعۡ فَلۡیَنۡظُرۡ ہَلۡ یُذۡہِبَنَّ کَیۡدُہٗ مَا یَغِیۡظُ ﴿۱۵﴾
جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں کبھی اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ ایک رسی آسمان کی طرف لٹکائے، پھر کاٹ دے، پھر دیکھے کیا واقعی اس کی تدبیر اس چیز کو دور کر دے گی جو اسے غصہ دلاتی ہے۔ En
جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے
En
جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وه اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھنده ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چاﻻکیوں سے وه بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا رہی ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ {مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا …: سَبَبٌ } رسی۔ { السَّمَآءِ سَمَا يَسْمُوْ} (ن) سے ہے جس کا معنی ہے بلند ہونا۔ آسمان کو اس کی بلندی کی وجہ سے سماء کہتے ہیں، اس لیے بادل کو بھی سماء کہہ لیتے ہیں اور چھت کو بھی۔
➋ { مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ } کی ایک تفسیر وہ ہے جو طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کی ہے کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا، وہ چھت سے ایک رسی باندھے، پھر اس کے ساتھ پھانسی لے کر اپنا گلا گھونٹ لے اور مر جائے اور دیکھے، کیا اس کے ایسا کرنے سے اس کے غصے اور حسد کی آگ بجھتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت پر اس کے سینے میں بھڑک رہی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ بے شک پھانسی لے کر مر جائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے رسول کی نصرت یقینا فرمائے گا۔ چونکہ ہر چیز کا اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہے، اس لیے نصرت میں دیر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد کبھی کرے گا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یقینا اپنے تمام رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا اور آخرت میں مدد فرماتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ [المؤمن: ۵۱] بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ اس تفسیر پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت سے پہلے یا بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں آیا تو اس کی مدد نہیں کرے گا میں اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے مراد ہو سکتے ہیں؟ جواب اس کا یہ دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضمیر لوٹانے کے لیے پہلے آپ کا ذکر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ آپ کا ذکر ہر مومن کے ذہن میں موجود ہے۔ اس لیے الفاظ میں پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ بھی ہو تو حرج نہیں۔
دوسری تفسیر وہ ہے جو طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کی ہے کہ جو شخص (اپنے متعلق) یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں (اس کی کبھی مدد نہیں کرے گا) اسے کبھی رزق نہیں دے گا، وہ اوپر کی طرف رسی لٹکا کر اپنا گلا گھونٹ لے، پھر دیکھے…۔ یعنی جو شخص اللہ کی نصرت پر یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ایسے ناامید شخص کو چاہیے کہ وہ پھانسی لے کر مر جائے، پھر دیکھے کہ کیا اس سے اس کی امید برآتی ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ اگر تم فلاں بات پر یقین نہیں کرتے تو جاؤ دیوار سے ٹکر ما رکر مر جاؤ۔
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس آیت کی ایک بہت عمدہ تفسیر فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں: دنیا کی تکلیف میں جو اللہ تعالیٰ سے ناامید ہو کر اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزوں کی پوجا کرے، جن کے ہاتھ نہ برا ہے نہ بھلا، وہ اپنے دل کو سمجھانے اور تسلی دینے کے لیے یہ صورت قیاس کرلے کہ جیسے ایک شخص اونچی لٹکتی رسی سے لٹک رہا ہے، اگر چڑھ نہیں سکتا تو توقع تو ہے کہ رسی اوپر کھینچے تو چڑھ جاوے۔ جب رسی توڑ دی پھر کیا توقع؟ رسی کہا اللہ کی امید کو اور اس رسی کو آسمان کی طرف تانے یعنی اونچان کی طرف۔ (موضح) اس تفسیر اور اس سے پہلی تفسیر دونوں میں اس آیت کا تعلق گزشتہ آیت: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ سے بھی واضح ہو رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ایسا شخص، جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کرے، کیونکہ اس کے غلبہ و فتح سے اسے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ اپنے گھر کی چھت پر رسی لٹکا کر اور اپنے گلے میں اس کا پھندا لے کر اپنا گلا گھونٹ لے، شاید یہ خود کشی اسے غیظ و غضب سے بچا لے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھ کر اپنے دل میں پاتا ہے۔ اس صورت میں سماء سے مراد گھر کی چھت ہوگی۔ دوسرے معنی ہیں کہ ایک رسہ لے کر آسمان پر چڑھ جائے اور آسمان سے جو وحی یا مدد آتی ہے، اس کا سلسلہ ختم کرا دے (اگر وہ کرسکتا ہے) اور دیکھے کہ کیا اس کے بعد اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا ہے؟ امام ابن کثیر نے پہلے مفہوم کو اور امام شوکانی نے دوسرے مفہوم کو زیادہ پسند کیا ہے اور سیاق سے یہی دوسرا مفہوم زیادہ قریب لگتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا [14] (اور دوسروں کی طرف رجوع کرے) اسے چاہئے کہ آسمان تک ایک رسی لٹکائے پھر اسے کاٹ ڈالے اور دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دفع کر سکتی ہے جو اسے غصہ دلاتی ہے؟ (خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے تقدیر کے فیصلے کو بدل نہیں سکتا)
[14] اس آیت میں ایسا خیال کرنے والے سے مراد وہی منافق ہے جو کفر اور اسلام کی سرحد پر کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتا ہے مگر اللہ کی رضا پر راضی اور شاکر نہیں رہتا۔ اور جب اسے کفر و شرک کی صف میں شامل ہونے میں کوئی مفاد نظر آتا ہے تو فوراً ادھر لڑھک آتا ہے اور انھیں حقیر دنیوی مفادات کی خاطر اللہ کو چھوڑ کر دوسرے آستانوں پر جانا اور در در کی خاک چھانتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے وہ مفادات حاصل نہیں ہوتے تو الٹا اللہ اور اس کی تقدیر کو کوسنے لگتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی تقدیر کو بدلنے کی خاطر اپنی مقدور بھر کوشش کر کے دیکھے اور جو کچھ وہ کر سکتا ہے کر دیکھے اور بتلائے کہ کیا ایسے کرنے سے وہ اللہ کی تقدیر کو بدلنے میں کامیاب ہو سکا ہے؟ اس آیت میں جو آسمان کی طرف رسی تانے اور پھر اسے قطع کرنے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ بطور محاورہ ہیں ان سے لفظی معنی مراد نہیں ہیں۔ اور ایسے الفاظ تقریباً ہر زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً اردو میں اس محاورہ کے قریب المعنی الفاظ یہ ہیں ”بے شک وہ الٹا سیدھا ہو کر دیکھ لے“ اور پنجابی میں ایسا محاورہ بالکل صحیح مفہوم ادا کرتا ہے اور وہ محاورہ ہے ”تتے توے تے گھیسنی پیا کرے“ یعنی خواہ وہ گرم گرم توے پر اپنی مقعد رگڑے۔ ان سب محاوروں کا مفہوم ایک ہی جیسا ہے کہ وہ اپنی مقدور بھر کوشش کر کے دیکھ لے۔
تقدیر کے مقابلہ میں تدبیر کسی کام نہیں آسکتی:۔
اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے ﴿لَنْ يَنْصُرَهُ اللّٰهُ سے ﴿ه﴾ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد لی ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے دنیوی اور اخروی فتح و نصرت کے جو وعدے کر چکا ہے وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے خواہ کفار و مشرکین کو یہ بات کتنی ہی ناگوار اور غصہ دلانے والی ہو۔ اور وہ اس نصرت ربانی کو روکنے کے لئے اپنی انتہائی کوششیں صرف کر کے دیکھ لیں حتیٰ کہ آسمان پر ایک رسی تان کر اوپر چڑھیں اور وہاں سے وحی الٰہی اور آسمانی امداد کو منقطع کر آئیں۔ پھر دیکھیں کہ ان کی ان تدبیروں سے وہ وحی الٰہی اور نصرت ربانی آنا بند ہو جاتی ہے جس پر وہ اس قدر پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ یہ تفسیر کسی حد تک دل لگتی ہے مگر اس مقام پر سیاق و سباق اس تفسیر کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس سے پہلے بھی منافقوں اور مشرکوں کا ذکر چل رہا ہے اور بعد میں بھی کافروں اور مشرکوں ہی کا ذکر ہے۔ اور درمیان میں جو مومنوں کی بشارت سے متعلق کوئی آیت آجاتی ہے تو وہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جہاں کافروں اور مشرکوں کو ڈرایا جا رہا ہو وہاں مومنوں کی بشارت بھی ذکر آجائے اور اس کے برعکس بھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مخالفین نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلاک ہوں ٭٭
یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے مکان کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنے آپ کو ہلاک کر دے۔ ناممکن ہے کہ وہ چیز یعنی اللہ کی مدد اس کے نبی کے لیے نہ آئے گو یہ جل جل کر مرجائیں مگر ان کی خیال آرائیاں غلط ثابت ہو کر رہیں گی ‘۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہو گی۔ ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ جائے اور اس اترتی ہوئی مدد آسمانی کو کاٹ دے۔
لیکن پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے اور اس میں ان کی پوری بے بسی اور نامرادی کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے دین کو اپنی کتاب کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقی دے گا ہی چونکہ یہ لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے اس لیے انہیں چاہیئے کہ یہ مرجائیں، اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52،51]‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندروں کی مدد کرتے ہی ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔
یہاں فرمایا کہ ’ یہ پھانسی پر لٹک کر دیکھ لے کہ شان محمدی کو کس طرح کم کر سکتا ہے؟ اپنے سینے کی آگ کو کسی طرح بجھا سکتا ہے اس قرآن کو ہم نے اتارا ہے جس کی آیتیں الفاظ اور معنی کے لحاظ سے بہت ہی واضع ہیں۔ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر یہ حجت ہے۔ ہدایت گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی حکمت وہی جانتا ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب کا حاکم ہے، وہ رحمتوں والا، عدل والا، غلبے والا، حکمت والا، عظمت والا، اور علم والا ہے ‘۔
«لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:23]‏‏‏‏ ’ کوئی اس پر مختار نہیں جو چاہے کرے سب سے حساب لینے والا وہی ہے اور وہ بھی بہت جلد ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا اور اس کا دین عنقریب ختم ہو جائے گا تو بلاشبہ مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ ﴿ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْ٘یَقْ٘طَ٘عْ پس وہ آسمان کی طرف رسی دراز کرے، پھر کاٹ دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مدد کو منقطع کر دکھائے۔ ﴿ فَلْیَنْظُ٘رْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ یعنی وہ کیا چیز ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چال چل سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ برپا کر سکتا ہے، جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے ابطال کی خواہش رکھتا ہے وہ کیا چیز ہے جو دین کے ظہور پر اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرتی ہے… یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے یعنی وہ ان اسباب کے ذریعے اپنے غیظ و غضب کو ٹھنڈا نہیں کر سکتا۔
اس آیت مقدسہ کا معنیٰ یہ ہے، اے وہ شخص! جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت رکھتا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مٹانے میں کوشاں ہے، جو اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش رنگ لائے گی، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو جو بھی اسباب اختیار کر لے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی بھی چال چل لے، اس سے تیرا غیظ و غضب اور تیرے دل کی بیماری کو شفا حاصل نہیں ہو گی۔ اس پر تجھے کوئی قدرت حاصل نہیں البتہ ہم تجھے ایک مشورہ دیتے ہیں جس سے تو اپنے دل کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے اور اگر یہ ممکن ہے کہ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو منقطع کر سکتا ہے تو معاملے میں صحیح راستے سے داخل ہو اور درست اسباب اختیار کر اور وہ یہ کہ کھجور وغیرہ کی چھال سے بٹی ہوئی رسی لے، پھر اسے آسمان پر لٹکا کر آسمان پر چڑھ جا اور ان دروازوں تک پہنچ جا جہاں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے اور ان دروازوں کو بند کر کے اللہ تعالیٰ کی مدد منقطع کر دے۔ اس طریقے سے تیرے غیظ و غضب کو شفا حاصل ہو گی… بس یہ تجویز اور چال ہے اس طریقے کے علاوہ تیرے دل میں بھی یہ بات نہیں آنی چاہیے کہ تو اپنے غیظ و عضب سے چھٹکارا پا سکتا ہے خواہ مخلوق تیری مدد کے لیے کمر کیوں نہ باندھ لے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے دین، اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت کا جو وعدہ اور خوشخبری ہے، وہ مخفی نہیں اور کفار کے لیے مایوسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور خواہ وہ اس نور کو بجھانے کی امکان بھر کوشش کیوں نہ کر لیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: من كان يظن أنَّ الله لا ينصر رسوله وأنَّ دينه سيضمحل فإنَّ النصر من الله ينزل من السماء، [{فَلْيَمدُد بِسَبَبٍ إلى السَّمَاءِ ثُمَّ ليَقطَع}: النصر عن الرسول] ، {فَليَنظُر هَل يُذْهِبَنَّ كَيدُهُ}؛ أي: ما يكيد به الرسول ويعمله من محاربته والحرص على إبطال دينه ما يُغيظُهُ من ظهورِ دينِهِ. وهذا استفهامٌ بمعنى النفي، وأنَّه لا يقدر على شفاء غيظه بما يعمله من الأسباب.

ومعنى هذه الآية الكريمة: يا أيُّها المعادي للرسول محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، الساعي في إطفاء دينه، الذي يظنُّ بجهله أنَّ سعيه سيفيدُهُ شيئاً! اعلم أنَّك مهما فعلت من الأسباب، وسعيتَ في كيد الرسول؛ فإنَّ ذلك لا يُذْهِبُ غيظَكَ ولا يشفي كَمَدَكَ؛ فليس لك قدرةٌ في ذلك، ولكن سنشير عليك برأي تتمكَّن به من شفاء غيظِكَ ومن قطع النصر عن الرسول إن كان ممكناً: ائتِ الأمر مع بابِهِ، وارتقِ إليه بأسبابه: اعمدْ إلى حبل من ليفٍ أو غيره، ثم علِّقْه في السماء، ثم اصعدْ به حتى تَصِلَ إلى الأبواب التي ينزل منها النصرُ، فسدَّها وأغلِقْها واقطعْها؛ فبهذه الحال تشفي غيظك؛ فهذا هو الرأي والمكيدةُ، وأما سوى هذه الحال؛ فلا يخطر ببالك أنَّك تشفي بها غيظك، ولو ساعدك مَن ساعدك مِن الخلق.

وهذه الآية الكريمة فيها من الوعد والبشارة بنصر الله لدينِهِ ولرسولِهِ وعباده المؤمنين ما لا يخفى، ومن تأييس الكافرين الذين يريدون أن يطفئوا نور الله بأفواههم، واللهُ متمُّ نورِهِ ولو كره الكافرون؛ أي: وسَعَوْا مهما أمكنهم.