ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 14

اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱۴﴾
بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، بے شک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چل رہیں ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
En
ایمان اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ لہریں لیتی ہوئی نہروں والی جنتوں میں لے جائے گا۔ اللہ جو اراده کرے اسے کر کے رہتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} کافروں اور مطلب پرست بے یقین مسلمانوں کے بعد سختی اور نرمی یعنی ہر حال میں اسلام پر قائم رہنے والے مسلمانوں کا ذکر فرمایا، جو یقین و ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں اور ہر عمل خلوص نیت کے ساتھ سنت نبوی کے مطابق بجا لاتے ہیں، کیونکہ عمل صالح کے لیے یہ دونوں چیزیں لازم ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی جنتوں کا وعدہ فرمایا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔
➋ { اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ:} یعنی اللہ تعالیٰ غیر محدود اختیارات کا مالک ہے، دنیا یا آخرت میں جسے جو چاہے دے دے۔ تھوڑے سے عمل پر وہ جنت عطا کر دے کہ جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہے، فرمایا: «{ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ [آل عمران: ۱۳۳] جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ جبکہ کفار و مشرکین کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم میں چون و چرا کر سکے، وہ جو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو روک لے کوئی وہ دے نہیں سکتا اور نہ دلوا سکتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے یقیناً اللہ انھیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں۔ بلا شبہ اللہ جو چاہے [13] وہی کرتا ہے۔
[13] یعنی اللہ تعالیٰ کے اختیارات لامحدود ہیں۔ وہ چاہے تو ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں سینکڑوں گناہ زیادہ معاوضہ اور بدلہ دے۔ چاہے تو ان کی سب چھوٹی موٹی خطائیں معاف کر دے۔ البتہ ایک بات اس سے مستبعد ہے وہ یہ ہے کہ وہ بندوں پر کسی بھی طرح کا ظلم نہیں کرتا۔ اس سلسلہ میں وہ اپنے اختیارات کو استعمال نہیں کرتا بلکہ عدل کے تقاضوں کو محفوظ رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یقین کے مالک لوگ ٭٭
برے لوگوں کا بیان کر کے بھلے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جن کے دلوں میں یقین کا نور ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا ظہور ہے بھلائیوں کے خواہاں برائیوں سے گریزاں ہیں یہ بلند محلات میں عالی درجات میں ہونگے کیونکہ یہ راہ یافتہ ہیں ان کے علاوہ سب لوگ حواس باختہ ہیں۔ اب جو چاہے کرے جو چاہے رکھے دھرے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے باطل دلیلوں سے جھگڑنے والے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ایسے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں، ایک مقلدین اور دوسرے اپنی بدعات کی طرف دعوت دینے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی دو اقسام ذکر فرمائیں جو اپنے آپ کو ایمان سے منسوب کرتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا اور دوسری قسم ان لوگوں کی جو حقیقی مومن ہیں جنھوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
جنت کو جنت اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ خوبصورت منازل، محلوں، درختوں اور نباتات پر مشتمل ہے یہ درخت اور نباتات اپنی کثرت کے باعث ان لوگوں کو ڈھانپ لیں گے اور ان پر سایہ کناں ہوں گے جو اس میں داخل ہوں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ پس اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اسے بغیر کسی مانع اور معارض کے، کر گزرتا ہے۔ اس کا ایک ارادہ یہ ہے کہ وہ جنت کو اہل جنت میں داخل کرے گا… اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور احسان سے ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى المجادل بالباطل، وأنَّه على قسمين: مقلِّدٍ وداعٍ؛ ذكر أن المتسمِّي بالإيمان أيضاً على قسمين: قسم لم يدخُل الإيمان قلبَه كما تقدَّم. والقسم الثاني: المؤمنُ حقيقةً؛ صدَّق ما معه من الإيمان بالأعمال الصالحة، فأخبر تعالى أنَّه يدخِلُهم {جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: وسمِّيت الجنة جنةً لاشتمالها على المنازل والقصور والأشجار والنوابت التي تُجِنُّ مَنْ فيها ويستترُ بها من كثرتها. {إنَّ الله يفعلُ ما يريدُ}: فمهما أراده تعالى؛ فَعَلَه؛ من غير ممانع ولا معارض، ومن ذلك إيصال أهل الجنة إليها، جعلنا الله منهم بمنِّه وكرمِهِ.