ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 7

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس ذکر والوں سے پوچھ لو، اگر تم نہیں جانتے ہو۔ En
اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو
En
تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) ➊ {وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا …:} یہ { هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ } (یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا) کا جواب ہے، یعنی وہ تمام رسول جو آپ سے پہلے آئے، جن کے رسول ہونے کو یہ بھی مانتے ہیں، مثلاً ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام وغیرہم، وہ سب بشر تھے، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ تو یہ لوگ آپ کو بشر ہونے کی وجہ سے رسول کیوں نہیں مانتے؟ دیکھیے سورۂ انعام (۹۱) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [كَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ يَفْلِيْ ثَوْبَهُ وَ يَحْلِبُ شَاتَهُ وَيَخْدِمُ نَفْسَهُ] [مسند أحمد: 256/6، ح: ۲۶۲۴۸۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۶۷۱] آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں میں سے ایک انسان تھے، اپنا کپڑا خود ٹٹول لیا کرتے تھے اور اپنی بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے اور اپنا کام خود کر لیتے تھے۔ زمین میں اگر فرشتے رہا کرتے تو رسول بھی فرشتہ آتا، اب انسان بستے ہیں تو ان کے لیے نمونہ اور ان کی رہنمائی کرنے والا انسان ہی ہو سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۴، ۹۵)۔
➋ {فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ …:} اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۴۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یعنی تمام نبی مرد انسان تھے، نہ کوئی غیر انسان کبھی نبی آیا اور نہ غیر مرد، گویا نبوت انسانوں کے ساتھ اور انسانوں میں بھی مردوں کے ساتھ ہی خاص رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عورت نبی نہیں بنی۔ اس لئے نبوت بھی ان کے فرائض میں سے ہے جو عورت کو طبعی اور فطری دائرہ عمل سے خارج ہے۔ 7۔ 2 اَ ھْلَ الذِّکْرِ (اہل علم) سے مراد اہل کتاب ہیں، جو سابقہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے، ان سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء جو ہو گزرے ہیں، وہ انسان تھے یا غیر انسان؟ وہ تمہیں بتلائیں گے کہ تمام انبیاء انسان ہی تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور (اے نبی) آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے، وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ لہذا اگر تم لوگ یہ بات نہیں جانتے تو اہل الذکر (اہل کتاب) سے پوچھ لو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-یوسف:109]‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے ‘۔
اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9]‏‏‏‏ یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔
ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6]‏‏‏‏ ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (‏‏‏‏یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20]‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے ‘ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔
جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8]‏‏‏‏، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔
اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34]‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔