ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 59

قَالُوۡا مَنۡ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَاۤ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۹﴾
انھوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ بلاشبہ وہ یقینا ظالموں سے ہے۔
کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے
کہنے لگے کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ ایسا شخص تو یقیناً ﻇالموں میں سے ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) ➊ { قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ:} مشرکوں کے عقل سے عاری ہونے کی کیسی زبردست تصویر ہے۔ کہنے لگے، ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے؟ سوچا ہی نہیں کہ وہ معبود ہی کیا جو اپنا دفاع بھی نہ کر سکے؟ لطف یہ کہ سب نے یہی کہا کہ کوئی اور ان کے خداؤں کا یہ حال کر گیا ہے۔ قبر پرستوں کا بھی یہی حال ہے:
جو کروٹ بدلنا نہیں جانتے ہیں
انھیں آپ مشکل کشا مانتے ہیں
➋ { اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيْنَ: إِنَّ } اور لام کی تاکید کے ساتھ، بے شک وہ یقینا ظالموں سے ہے کہ اس نے مشکل کشاؤں کی تعظیم کے بجائے ان کا یہ حال کر دیا ہے۔ یا اس لیے کہ مارنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اس ظالم نے تو انھیں اتنا مارا ہے کہ ان کا کچھ باقی ہی نہیں چھوڑا اور نہ انھیں ذلیل کرنے میں کوئی کسر رہنے دی ہے۔ (رازی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

59۔ 1 یعنی جب وہ جشن سے فارغ ہو کر آئے تو دیکھا کہ معبود تو ٹوٹے پڑے ہیں، تو کہنے لگے، یہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے جس نے یہ حرکت کی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ وہ کہنے لگے: ”ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بلا شبہ وہ بڑا ظالم ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔