بَلۡ قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍۭ بَلِ افۡتَرٰىہُ بَلۡ ہُوَ شَاعِرٌ ۚۖ فَلۡیَاۡتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۵﴾
بلکہ انھوں نے کہا یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، بلکہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے، پس یہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جیسے پہلے (رسول) بھیجے گئے تھے۔
En
بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے
En
اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگنده خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی ﻻتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 5) ➊ {بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ …: ” اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۴۴)۔
➋ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جھٹلانے والے کفار کے مختلف اقوال ذکر کرکے ثابت کیا کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے سخت بدحواس اور مذبذب ہیں کہ قرآن کو کیا کہہ کر جھٹلائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، پھر کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود تصنیف کرکے اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ پھر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ نہیں، اصل یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن آپ کے شاعرانہ تخیل کا نتیجہ ہے۔ سورۂ مدثر (۱۸ تا ۲۵) میں کفار کے ایک کھڑپینچ کی اسی طرح کی پریشان خیالی کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام باتوں کا جواب دے رکھا تھا کہ اگر تمھیں اس قرآن کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو اس جیسی کتاب بنا کر لے آؤ، یا دس سورتیں بنا کر لے آؤ، چلو! یہ بھی نہیں تو اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ۔ اگر یہ بھی نہ کرو اور کر بھی نہیں سکو گے، تو جہنم کی آگ سے ڈر کر اس پر ایمان لے آؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کفار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ اس وقت تھا اور نہ قیامت تک اس کا جواب لا سکتے ہیں۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے، اس لیے کہنے لگے کہ اس معجزے کو دیکھ کر ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہمارے پاس تو یہ رسول وہ معجزے لے کر آئے جو پہلے رسولوں کو دیے گئے تھے، مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی، موسیٰ علیہ السلام کا عصا، عیسیٰ علیہ السلام کا مردہ کو زندہ کرنا، نابینا کو بینا کرنا وغیرہ۔
➋ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جھٹلانے والے کفار کے مختلف اقوال ذکر کرکے ثابت کیا کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے سخت بدحواس اور مذبذب ہیں کہ قرآن کو کیا کہہ کر جھٹلائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، پھر کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود تصنیف کرکے اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ پھر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ نہیں، اصل یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن آپ کے شاعرانہ تخیل کا نتیجہ ہے۔ سورۂ مدثر (۱۸ تا ۲۵) میں کفار کے ایک کھڑپینچ کی اسی طرح کی پریشان خیالی کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام باتوں کا جواب دے رکھا تھا کہ اگر تمھیں اس قرآن کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو اس جیسی کتاب بنا کر لے آؤ، یا دس سورتیں بنا کر لے آؤ، چلو! یہ بھی نہیں تو اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ۔ اگر یہ بھی نہ کرو اور کر بھی نہیں سکو گے، تو جہنم کی آگ سے ڈر کر اس پر ایمان لے آؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کفار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ اس وقت تھا اور نہ قیامت تک اس کا جواب لا سکتے ہیں۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے، اس لیے کہنے لگے کہ اس معجزے کو دیکھ کر ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہمارے پاس تو یہ رسول وہ معجزے لے کر آئے جو پہلے رسولوں کو دیے گئے تھے، مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی، موسیٰ علیہ السلام کا عصا، عیسیٰ علیہ السلام کا مردہ کو زندہ کرنا، نابینا کو بینا کرنا وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 ان سرگوشی کرنے والے ظالموں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ قرآن تو پریشان خواب کی طرح حیران کن افکار کا مجموعہ، بلکہ اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے اور یہ قرآن کتاب ہدایت نہیں، شاعری ہے۔ یعنی کسی ایک بات پر ان کو قرار نہیں ہے۔ ہر روز ایک نیا پینترا بدلتے اور نئی سے نئی الزام تراشی کرتے ہیں۔ 5۔ 2 یعنی جس طرح ثمود کے لئے اونٹنی، موسیٰ ؑ کے لئے عصا اور ید بیضا وغیرہ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن کی آیات) پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اس کی اپنی خود ساختہ چیز ہے، بلکہ یہ شاعر [6] ہے، ورنہ اسے ہمارے پاس کوئی ایسا معجزہ [7] لانا چاہئے جیسا کہ پہلے رسول معجزات دے کر بھیجے گئے تھے۔
[6] ولید بن مغیرہ کے ہاں مجلس مشاورت:۔
اصل بات یہ ہے کہ آپ کی مخالفت کی حد تک سارے قریشی سردار متفق تھے لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ کو کہیں تو کیا کہیں۔ جادوگر کہیں، آسیب شدہ کہیں، کاہن کہیں یا شاعر کہیں۔ لوگوں کو کیا کہہ کر اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے باز رکھیں۔ چنانچہ اسی غرض کے لئے قریشی سردار ولید بن مغیرہ کے پاس گئے جو ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ میں آئی تھی۔ سوال یہ سامنے آیا کہ اس نبی کی دعوت کو کیونکر غیر موثر بنایا جا سکتا ہے تاکہ باہر سے آنے والے حجاج اس شخص کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ ولید بن مغیرہ سمجھدار آدمی تھی۔ بولا ”اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو“ ایک شخص نے کہا: ہم کہیں گے کہ ”یہ شخص کاہن ہے“ ولید کہنے لگا: واللہ! یہ شخص کاہن نہیں۔ اس کے کلام میں نہ کاہنوں جیسی گنگناہٹ ہے، نہ قافیہ نہ کوئی اور تک بندی، وہ کاہن کیسے ہو سکتا ہے؟ دوسرے نے کہا: ہم کہیں گے ”وہ دیوانہ ہے“ ولید کہنے لگا، بخدا وہ پاگل بھی نہیں۔ ہم نے پاگلوں کو بھی دیکھا ہے۔ اس کے اندر نہ پاگلوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ان جیسی بہکی بہلی باتیں ہیں“ تیسرے نے کہا: ہم کیں گے ”وہ شاعر ہے“ ولید کہنے لگا، ”وہ شاعر بھی نہیں۔ ہمیں رجز، حجز، قریض، مقبوض، مبسوط سارے ہی اصناف سخن معلوم ہیں۔ اس کی بات بہرحال شعر نہیں ہے“ چوتھے نے کہا: ہم کہیں گے کہ وہ جادوگر ہے۔ ولید نے کہا، ”وہ جادوگر بھی نہیں۔ یہ شخص نہ تو کی طرح جھاڑ پھونک کرتا ہے اور نہ گرہ لگاتا ہے“
دعوت قرآن کو روکنے کے لیے قریش مکہ کی معاندانہ سرگرمیاں:۔
تب لوگوں نے جھنجھلا کر کہا: ”پھر تم ہی اپنی بے داغ رائے پیش کرو“ وہ کہنے لگا۔ مجھے ذرا سوچ لینے دو۔ بڑی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنی رائے پیش کی کہ تم لوگ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص ایسا کلام پیش کرتا ہے جو ایسا جادو ہے جس سے بھائی بھائی سے، باپ بیٹے سے، شوہر بیوی سے جدا ہو جاتا ہے۔ اور کنبے، قبیلے میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ اس تجویز پر متفق ہو کر سب لوگ رخصت ہو گئے۔ چنانچہ اس تجویز پر عمل درآمد کے لئے قریش نے ایک گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کا سربراہ ابو لہب تھا۔ جہاں کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کے لئے پہنچتے، وہاں ابو لہب بھی پیچھے پیچھے پہنچ جاتا اور کہتا: لوگو! اس شخص کی بات پر کان نہ دھرنا، یہ بے دین ہے اور ایسا کلام پیش کرتا ہے جس سے کنبے قبیلے میں دشمنی پڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا نتیجہ ان کے خواہش کے بالکل برعکس نکلا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کا نام ان کے ذریعہ عرب کے گوشے گوشے میں پہنچ گیا اور لوگوں میں جستجو پیدا ہو گئی کہ آخر ایسے شخص کی بات تو ضرور سننا چاہئے۔ اس طرح دشمنوں نے وہ کام تھوڑے ہی عرصہ میں کر کے دکھلا دیا جو مسلمان شاید مدت تک نہ کر سکتے۔ کافروں کی ایسی معاندانہ سرگرمیوں سے ہی اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے خیر کا پہلو پیدا کر دیا۔
نضر بن حارث کے کارنامے:۔
ابو لہب کے علاوہ ایک دوسرا شخص نضر بن حارث تھا جس کا طریق کار ابو لہب سے بالکل جداگانہ تھا۔ ایک دفعہ وہ سرداران قریش سے کہنے لگا: اے قریشیو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سب سے زیادہ پسندیدہ، سچے اور امانت دار آدمی تھے، اب اگر وہ اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں تو تم کبھی انھیں شاعر کہتے ہو، کبھی کاہن، کبھی پاگل اور کبھی جادوگر کہتے ہو۔ حالانکہ وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن ہے، نہ پاگل ہے اور نہ جادوگر ہے۔ کیونکہ ہم ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔ اے اہل قریش! سوچو، تم پر یہ کیسی افتاد آپڑی ہے“ پھر اس افتاد کا حل جو نضر بن حارث نے سوچا وہ یہ تھا کہ خود حیرہ گیا۔ وہاں سے بادشاہوں کے حالات اور ستم و اسفندیار کے قصے سیکھے۔ پھر یہ بھی ابو لہب کی طرح ہر اس مقام پر جا پہنچتا۔ جہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کے لئے جاتے۔ وہاں پہنچ کر یہ اپنے قصے سنا کر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام مجھ سے بہتر ہے؟“ اس کی سرگرمیوں کا بھی وہی اثر ہوا جو ابو لہب کی سرگرمیوں کا ہوا تھا۔
[7] یعنی وہ معجزہ کا مطالبہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے وہ ایمان لانے کو بالکل تیار بیٹھے ہیں بس صرف ایک معجزہ دیکھنے کی ہی کسر باقی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اقوام سابقہ کی ہلاکت کا سبب ہی یہ بنا تھا کہ انہوں نے معجزہ کا مطالبہ کیا۔ جو انھیں دیا گیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے؟ یہ بھی سابقہ اقوام کی طرح اپنی ہلاکت کے درپے ہو چکے ہیں؟
[7] یعنی وہ معجزہ کا مطالبہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے وہ ایمان لانے کو بالکل تیار بیٹھے ہیں بس صرف ایک معجزہ دیکھنے کی ہی کسر باقی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اقوام سابقہ کی ہلاکت کا سبب ہی یہ بنا تھا کہ انہوں نے معجزہ کا مطالبہ کیا۔ جو انھیں دیا گیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے؟ یہ بھی سابقہ اقوام کی طرح اپنی ہلاکت کے درپے ہو چکے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے ‘۔
پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ’ دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا ‘۔
خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ’ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:97-96] ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے ‘۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ’ دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا ‘۔
خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ’ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:97-96] ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے ‘۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ { صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم:ضعیف]