وَ نَضَعُ الۡمَوَازِیۡنَ الۡقِسۡطَ لِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَیۡئًا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثۡقَالَ حَبَّۃٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ اَتَیۡنَا بِہَا ؕ وَ کَفٰی بِنَا حٰسِبِیۡنَ ﴿۴۷﴾
اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔
اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں
قیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 47) ➊ {وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ …:} پچھلی آیات میں ذکر ہوا ہے کہ کفار کے پاس جب تک قدرت رہتی ہے وہ عدل و انصاف سے کنارہ کش اور ظلم و جور پر تلے رہتے ہیں اور اختیار ختم ہوتے ہی حق کا اعتراف کرنے لگتے ہیں، اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس طرح نہیں، وہ ہمیشہ {”قَائِمًا بِالْقِسْطِ“} انصاف پر قائم ہے، حتیٰ کہ قیامت کے دن بھی وہ انصاف کے ترازو قائم فرمائے گا، پھر کسی جان پر کچھ ظلم نہیں ہو گا۔ (بقاعی)
➋ {” الْمَوَازِيْنَ “ ”مِيْزَانٌ“} کی جمع ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مصدر ہے جو اسم فاعل{ ”مُقْسِطٌ“ } کے معنی میں ہے اور {” الْمَوَازِيْنَ “} کی صفت ہے، جیسے مبالغے کے لیے عادل آدمی کو {”رَجُلٌ عَدْلٌ“} کہہ لیتے ہیں، یعنی اتنا عادل آدمی کہ سراپا عدل ہے۔ یعنی ہم ایسے ترازو رکھیں گے جو اتنے انصاف والے ہیں گویا عین انصاف ہیں۔ موصوف واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، مذکر ہو یا مؤنث، اگر اس کی صفت مصدر ہو تو وہ سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی ہم انصاف کے لیے بہت سے ترازو رکھیں گے۔
➌ {” الْمَوَازِيْنَ “} سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن متعدد ترازو ہوں گے، جن کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا، پھر یا تو ہر آدمی کے لیے الگ ترازو ہو گا یا ہر عمل کے لیے۔ نیز دیکھیے سورۂ اعراف (۷)۔
➍ { فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا:} ”پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا“ یعنی نہ نیکیوں میں کچھ کمی آئے گی اور نہ برائیوں میں کوئی اضافہ ہو گا۔
➎ { وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زلزال (۷، ۸) اور لقمان (۱۶)۔
➏ {وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ:} ہم حساب لینے والے کافی ہیں، ہمیں کسی مدد گار کی ضرورت نہیں، پھر نہ ہمارے حساب کے بعد کسی پڑتال کی گنجائش ہے اور نہ کہیں اپیل ہو سکتی ہے۔
➋ {” الْمَوَازِيْنَ “ ”مِيْزَانٌ“} کی جمع ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مصدر ہے جو اسم فاعل{ ”مُقْسِطٌ“ } کے معنی میں ہے اور {” الْمَوَازِيْنَ “} کی صفت ہے، جیسے مبالغے کے لیے عادل آدمی کو {”رَجُلٌ عَدْلٌ“} کہہ لیتے ہیں، یعنی اتنا عادل آدمی کہ سراپا عدل ہے۔ یعنی ہم ایسے ترازو رکھیں گے جو اتنے انصاف والے ہیں گویا عین انصاف ہیں۔ موصوف واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، مذکر ہو یا مؤنث، اگر اس کی صفت مصدر ہو تو وہ سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی ہم انصاف کے لیے بہت سے ترازو رکھیں گے۔
➌ {” الْمَوَازِيْنَ “} سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن متعدد ترازو ہوں گے، جن کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا، پھر یا تو ہر آدمی کے لیے الگ ترازو ہو گا یا ہر عمل کے لیے۔ نیز دیکھیے سورۂ اعراف (۷)۔
➍ { فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا:} ”پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا“ یعنی نہ نیکیوں میں کچھ کمی آئے گی اور نہ برائیوں میں کوئی اضافہ ہو گا۔
➎ { وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زلزال (۷، ۸) اور لقمان (۱۶)۔
➏ {وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ:} ہم حساب لینے والے کافی ہیں، ہمیں کسی مدد گار کی ضرورت نہیں، پھر نہ ہمارے حساب کے بعد کسی پڑتال کی گنجائش ہے اور نہ کہیں اپیل ہو سکتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
47۔ 1 موازین، میزان (ترازو) کی جمع ہے وزن اعمال کے لئے قیامت والے دن یا تو کئی ترازو ہونگے یا ترازو تو ایک ہی ہوگی انسان کے اعمال تو بےوزن ہیں یعنی ان کا کوئی ظاہری وجود یا جسم تو ہے نہیں پھر وزن کس طرح ہوگا؟ یہ سوال آج سے قبل تک شاید کوئی اہمیت رکھتا ہو۔ لیکن آج سائنسی ایجادات نے اسے ممکن بنادیا ہے۔ اب ان ایجادات کے ذریعے سے بےوزن چیزوں کا وزن بھی تولا جانے لگا ہے۔ جب انسان اس بات پر قادر ہوگیا ہے، تو اللہ کے لئے ان اعمال کا، جو بےوزن کو دکھلانے کے لئے ان بےوزن اعمال کو وہ اجسام میں بدل دے گا اور پھر وزن کرے، جیسا کہ حدیث میں بعض اعمالوں کے مجسم ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلا! صاحب قرآن کے لئے ایک خوش شکل نوجوان کی شکل میں آئے گا۔ اور پوچھے گا، تو کون ہے؟ وہ کہے گا میں قرآن ہوں جسے تو راتوں کو (قیام اللیل) بیدار رہ کر اور دن کو پیاسا رہ کر پڑھا کرتا تھا، اسی طرح مومن کی قبر میں عمل صالح ایک خوش رنگ اور معطر نوجوان کی شکل میں آئے گا اور کافر اور منافق کے پاس اس کی برعکس شکل میں (مسند احمد 5۔ 287)۔ اس کی مذید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة الاعراف 7 کا حاشیہ القسط مصدر اور الموازین کی صفت ہے معنی ہیں ذوات قسط انصاف کرنے والی ترازو یا ترازوئیں
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
47۔ اور ہم روز قیامت انصاف [42] کے ترازو رکھیں گے اور کسی کی کچھ بھی حق تلفی نہ ہو گی اور اگر کسی کا رائی کے دانہ برابر بھی عمل ہو گا تو وہ بھی سامنے لائیں گے اور حساب کرنے کو ہم کافی ہیں۔
[42] اعمال کا وزن کیسے ہو گا، میزان الاعمال کی حقیقت:۔
اس آیت میں ﴿مَوَازِيْنُ﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو میزان بمعنی ترازو کی جمع ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ ہر شخص کے لئے الگ الگ ترازو رکھا جائے اور دوسرا یہ کہ مختلف اعمال کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ترازو ہوں۔ یہ حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اعمال کی حقیقت کا صحیح صحیح اندازہ کرنے کے لئے کس قسم کا ترازو استعمال ہو گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص پورے خشوع و خضوع کے ساتھ وقت پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے۔ دوسرا بھی جماعت میں شامل ہوتا ہے مگر گرانبار طبیعت کے ساتھ اور اللہ کی یاد کی بجائے دوسرے ہی خیالات میں مستغرق رہتا ہے اور اس کی نماز ایسے ہوتی ہے جیسے کوئی خود کار آلہ ہو جس کا سوئچ دبا گیا ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اجر کے لحاظ سے ان دونوں کی نمازوں میں نمایاں فرق ہے اگرچہ ظاہری شکل و صورت ایک ہی جیسی ہے۔ پھر یہ باطنی معاملات ایسے ہیں جن کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتا کہ فلاں شخص کے فلاں عمل میں حقیقت کتنی ہے اور وزن تو اعمال کے حقائق کا ہو گا جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَالْوَزْنُ يَوْمَيِٕذِ الْحَقُّ﴾ [8: 7]
حدیث بطاقۃ:۔
اور اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہو جاتی ہے جو حدیث بطاقہ کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی قیامت کے دن ایک شخص کو پکارا جائے گا جس کے ننانوے گناہوں کے دفتر ہوں گے اور اس سے پوچھا جائے گا کہ دیکھو کہ ان دفتروں کے مندرجات درست ہیں اور میرے «كراماً كاتبين» نے تجھ پر کچھ زیادتی تو نہیں کی؟ وہ کہے گا اے پروردگار! یہ سب کچھ درست ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تمہاری کچھ نیکیاں بھی ہیں؟ وہ کہے گا، کوئی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہاری نیکیاں بھی نہیں اور آج کے دن کسی پر ظلم نہیں ہو گا۔ پھر اس کے لئے ایک پرچی نکالی جائے گا جس پر اشہد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ درج ہو گا۔ وہ کہے گا اے پروردگار ان ننانوے گناہ کے دفتر کے مقابلہ میں اس پرچی کی کیا حقیقت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تجھ پر کچھ زیادتی نہیں ہو گی۔ چنانچہ میزان الاعمال کے ایک پلڑے میں گناہوں کے ننانوے دفتر رکھیں جائیں گے اور دوسرے میں یہ پرچی تو گناہوں کا پلڑا اوپر اٹھ جائے گا اور پرچی والا نیکیوں کا پلڑا بھاری نکلے گا۔ [ابن ماجه، ابواب الزهد، باب مايرحي من رحمه الله يوم القيامه]
اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اعمال کے حقائق کو تولنے میں ہر ایک کے ساتھ پورا پورا عدل و انصاف ہو گا۔ پھر اس کے مطابق ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہئے لفظ عدل یا قسط کی ضد ظلم ہے اور ظلم اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہے۔ لہٰذا نہ تو یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی بدلہ نہ دے اور نہ یہ ممکن ہے کہ عمل کے لحاظ سے اجر کم عطا فرمائے۔ اور یہ دونوں ظلم کی صورتیں ہیں۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کا اجر عدل سے بڑھ کر عطا فرمائے اور اس صفت کا نام احسان ہے۔ جو عدل سے بھی برتر صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ کسی کو عمل سے زیادہ اجر دے۔ کسی کی خطائیں معاف ہی کر دے۔ اور اگر حقوق العباد کا معاملہ ہو تو بندوں کو اپنی طرف سے ان کے حق عطا کر کے مجرم کو معاف کر دے۔ یہ تو سب کچھ ممکن ہے لیکن اللہ سے ظلم ممکن نہیں۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں حساب لینا آتا ہے۔ ہم اعمال کے حقائق کی تعیین کو بھی خوب جانتے ہیں اور کسی کے رائی بھر عمل کو بھی اور اس سلسلہ میں ہمیں کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں اور کَفیٰ بِنَا حَاسِیِنْ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارا لیا ہوا حساب آخری اور فیصلہ کن ہوگا۔ جس کی نہ کوئی پڑتال کرنے کا حق رکھتا ہے اور نہ ہی کہیں اپیل ہو سکے گی۔ کوئی دوسرا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کی کچھ بھی مدد نہ کر سکے گا۔
اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اعمال کے حقائق کو تولنے میں ہر ایک کے ساتھ پورا پورا عدل و انصاف ہو گا۔ پھر اس کے مطابق ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہئے لفظ عدل یا قسط کی ضد ظلم ہے اور ظلم اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہے۔ لہٰذا نہ تو یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی بدلہ نہ دے اور نہ یہ ممکن ہے کہ عمل کے لحاظ سے اجر کم عطا فرمائے۔ اور یہ دونوں ظلم کی صورتیں ہیں۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کا اجر عدل سے بڑھ کر عطا فرمائے اور اس صفت کا نام احسان ہے۔ جو عدل سے بھی برتر صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ کسی کو عمل سے زیادہ اجر دے۔ کسی کی خطائیں معاف ہی کر دے۔ اور اگر حقوق العباد کا معاملہ ہو تو بندوں کو اپنی طرف سے ان کے حق عطا کر کے مجرم کو معاف کر دے۔ یہ تو سب کچھ ممکن ہے لیکن اللہ سے ظلم ممکن نہیں۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں حساب لینا آتا ہے۔ ہم اعمال کے حقائق کی تعیین کو بھی خوب جانتے ہیں اور کسی کے رائی بھر عمل کو بھی اور اس سلسلہ میں ہمیں کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں اور کَفیٰ بِنَا حَاسِیِنْ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارا لیا ہوا حساب آخری اور فیصلہ کن ہوگا۔ جس کی نہ کوئی پڑتال کرنے کا حق رکھتا ہے اور نہ ہی کہیں اپیل ہو سکے گی۔ کوئی دوسرا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کی کچھ بھی مدد نہ کر سکے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔