ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 11

وَ کَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍ کَانَتۡ ظَالِمَۃً وَّ اَنۡشَاۡنَا بَعۡدَہَا قَوۡمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۱۱﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے توڑ کر رکھ دیں جو ظالم تھیں اور ان کے بعد اور لوگ نئے پیدا کر دیے۔ En
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے
En
اور بہت سی بستیاں ہم نے تباه کر دیں جو ﻇالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کر دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ {وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً: قَصْمٌ} کا معنی کسی سخت چیز کو توڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے: {فُلاَنٌ قَصَمَ ظَهْرَ فُلاَنٍ } کہ فلاں نے فلاں کی کمر توڑ دی۔ {اِنْقَصَمَتْ سِنُّهُ} فلاں کا دانت ٹوٹ گیا۔ { كَمْ } یہاں تکثیر کے لیے ہے، کتنی ہی بستیاں سے مراد بہت سی بستیاں ہیں، اس سے کوئی خاص بستی مراد نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی طرف منسوب وہ روایت موضوع ہے جس میں ان سے نقل کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یمن کے شہروں کے لوگ ہیں۔ [الاستیعاب في بیان الأسباب] آیت کے الفاظ کے مطابق بھی وہ بستیاں عام ہیں اور کوئی خاص علاقہ مراد نہیں۔
➋ {وَ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ: اَلإْنْشَاءُ} کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ { بَعْدَهَا } بعض مقامات پر { مِنْ بَعْدِهَا } ہوتا ہے، اس میں کچھ دیر بعد مراد ہوتا ہے، یہاں { بَعْدَهَا } کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان بستیوں کی ہلاکت کے بعد ساتھ ہی نئے سرے سے اور قومیں وہاں لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور بعد والی آیات میں اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے۔ مراد اس سے اپنی عظمت کا اظہار ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 قَصَمَ کے معنی ہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دینا۔ یعنی کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا، توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' قوم نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کردیں (سورة بنی اسرائیل)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جن کے رہنے والا ظالم تھے تو انھیں ہم نے پیس کے رکھ دیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ [11] پیدا کر دیئے۔
[11] یعنی یہ نہیں ہوا تھا کہ ظالم قوموں کو بلاک کرنے کے بعد یہ زمین بے آباد اور ویران رہ گئی تھی۔ جبکہ اس زمین کو ہم نے فوراً دوسرے لوگو لا کر آباد کر دیا تھا اور اس کا اگر کچھ نقصان پہنچتا تھا تو صرف ظالموں ہی کو پہنچا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قدر ناشناس لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:]‏‏‏‏
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:44]‏‏‏‏ ’ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17]‏‏‏‏ ’ ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں ‘۔
اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:45]‏‏‏‏ ’ کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ‘۔
ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔
’ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ ‘ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔