(آیت 12){ فَلَمَّاۤاَحَسُّوْابَاْسَنَاۤ …:} احساس کا معنی حواس سے معلوم کرنا، مثلاً دیکھنا یا سننا وغیرہ۔ {”يَرْكُضُوْنَ“”رَكَضَيَرْكُضُ“ } (ن) کا معنی سواری کو تیز دوڑانے کے لیے ایڑ لگانا ہے، مراد تیزی سے بھاگنا ہے، یعنی جب انھوں نے ہمارے عذاب کو اپنے حواس یعنی آنکھوں یا کانوں وغیرہ سے محسوس کیا تو بہت تیزی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 احساس کے معنی ہیں، حواس کے ذریعے سے ادراک کرلینا۔ یعنی جب انہوں نے عذاب یا اس کے آثار کو آتے دیکھا یا کڑک گرج کی آواز سن کر معلوم کرلیا، تو اس سے بچنے کے لئے راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ رکض کے معنی ہوتے ہیں آدمی گھوڑے وغیرہ پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے کے لیے ایڑ لگائے یہیں سے یہ بھاگنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ پھر جب ان کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا: ﴿ لَاتَرْؔكُ٘ضُوْاوَارْجِعُوْۤااِلٰىمَاۤاُ٘تْرِفْتُمْفِیْهِوَمَسٰكِنِكُمْلَعَلَّكُمْتُ٘سْـَٔلُوْنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإنَّ هؤلاء المهلَكين لما أحسُّوا بعذاب الله وعقابه وباشرهم نزولُه؛ لم يمكنْ لهم الرجوعُ، ولا طريق لهم إلى النزوع، وإنَّما ضربوا الأرض بأرجلهم ندماً وقلقاً وتحسُّراً على ما فعلوا، فقيل لهم على وجه التهكُّم بهم: {لا تركُضوا وارجِعوا إلى ما أتْرِفْتُم فيه ومساكِنِكم لعلَّكم تُسألونَ}؛ أي: لا يفيدكم الركض والندم، ولكن؛ إنْ كان لكم اقتدارٌ؛ فارجعوا إلى ما أُتْرِفْتُم فيه من اللذَّات والمشتَهَيات ومساكِنِكم المزخرفات ودُنياكم التي غرَّتكم وألهتكم حتى جاءكم أمر الله؛ فكونوا فيها متمكِّنين، وللذَّاتها جانين، وفي منازلكم مطمئنِّين معظَّمين؛ لعلَّكم أن تكونوا مقصودين في أموركم كما كنتُم سابقاً مسؤولين من مطالب الدُّنيا كحالتكم الأولى، وهيهات!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔