(آیت 98) {اِنَّمَاۤاِلٰهُكُمُاللّٰهُالَّذِيْ …:} یہ موسیٰ علیہ السلام کا کلام ہے جنھوں نے سامری سے خطاب کے بعد اپنی امت کے لوگوں کو مخاطب فرمایا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی دو دلیلیں بیان ہوئی ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ اس صفت میں ساری صفات آ جاتی ہیں، تفصیل اس کی علم کلام کی کتابوں میں ”لا الٰہ الا اللہ“ کی تشریح میں مذکور ہے۔ دوسری دلیل خاص صفت علم ہے جس کے گھیرے سے کوئی چیز باہر نہیں۔ {”وَسِعَ“} کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ گھیرا ڈالنے والی چیز میں اس کے اندر والی چیز سے زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔ (ابن عاشور) جو {”كُلَّشَيْءٍ“} سے بھی وسیع ہے اس کی وسعت کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
98۔ تمہارا الٰہ تو صرف وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں جس جس کا علم ہر چیز کو محیط ہے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔