ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 99

کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَ ۚ وَ قَدۡ اٰتَیۡنٰکَ مِنۡ لَّدُنَّا ذِکۡرًا ﴿ۖۚ۹۹﴾
اسی طرح ہم تجھ سے کچھ وہ خبریں بیان کرتے ہیں جو گزر چکیں اور یقینا ہم نے تجھے اپنے پاس سے ایک نصیحت عطا کی ہے۔ En
اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گذر چکے ہیں۔ اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے
En
اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 99){كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ …:} یعنی جیسے ہم نے آپ کو موسیٰ علیہ السلام، بنی اسرائیل، فرعون اور اس کی قوم کے حالات بتائے ہیں ایسے ہی ہم آپ کو ان چیزوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں جو آپ سے پہلے گزر چکیں۔ جنھیں نہ آپ نے دیکھا تھا اور نہ آپ کو یا آپ کی قوم کو ان کا علم تھا۔ دیکھیے ہود (۴۹) ان سے مقصود محض وقت گزاری یا لطف اٹھانا نہیں بلکہ مقصود نصیحت ہے اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو یہ عظیم نصیحت عطا کی ہے۔ اس عظیم نصیحت سے مراد وحی الٰہی کے ذریعے سے نازل ہونے والی کتاب و حکمت (قرآن و سنت) ہے۔ اس کے سوا بڑے سے بڑے آدمی کی بات نہ اللہ کے پاس سے ہے اور نہ اس پر عمل کی اجازت ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳) { ذِكْرًا } کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ عظیم نصیحت کیا ہے اور{ مِنْ } تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کچھ خبریں کیا ہے، تمام خبریں سننے کی نہ ضرورت ہے اور نہ سنی جا سکتی ہیں۔ { مَا } اکثر غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس لیے ترجمہ ان لوگوں کے بجائے ان چیزوں کی کچھ خبریں کیا گیا ہے، ان احوال کی کچھ خبریں بھی ترجمہ ہو سکتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

99۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے فرعون و موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا، اسی طرح انبیاء کے حالات ہم آپ پر بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ ان سے باخبر ہوں، اور اس میں عبرت کے پہلو ہوں، انھیں لوگوں کے سامنے نمایاں کریں تاکہ لوگ اس کی روشنی میں صحیح رویہ اختیار کریں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

99۔ (اے نبی) اسی طرح ہم گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں آپ سے بیان کرتے ہیں۔ نیز ہم نے اپنے ہاں سے آپ کو ذکر [69] (قرآن) عطا کیا ہے۔
[69] اس سورۃ کا آغاز بھی ذکر سے کیا گیا تھا۔ یعنی ہم نے یہ ذکر اس لئے نہیں نازل کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں بلکہ یہ تو ڈرنے والوں کے لئے یاددہانی ہے۔ یہاں اسی اصل موضوع کی طرف عود کیا گیا ہے۔ جو کہ نوع انسان کی ہدایت ہے۔ درمیان میں جو سیدنا موسیٰؑ کا قصہ ذکر کیا گیا تو اس میں بھی یہی رنگ غالب نظر آتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب سے اعلی کتاب ٭٭
فرمان ہے کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا، ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت و حمد والے ہیں۔ کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ بابرکت نہیں ملی۔ ہرطرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔
اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف جانے والا ہے۔ قیامت کو وہ اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اور اس میں دب جائے گا۔ اس کے ساتھ جو بھی کفر کرے، وہ جہنمی ہے، کتابی ہو یا غیر کتابی، عجمی ہو یا عربی، اس کا منکر جہنمی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں تمہیں بھی ہوشیار کرنے والا ہوں اور جسے بھی یہ پہنچے۔ پس اس کا متبع ہدایت والا اور اس کا مخالف ضلالت و شقاوت والا۔ جو یہاں برباد ہوا، وہ وہاں دوزخی بنا۔ اس عذاب سے اسے نہ تو کبھی چھٹکارا حاصل ہو، نہ بچ سکے، برا بوجھ ہے جو اس پر اس دن ہو گا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا: ﴿ وَقَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكْرًا ایک ذکر اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔
یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يمتنُّ الله تعالى على نبيِّه - صلى الله عليه وسلم - بما قصَّه عليه من أنباء السابقين وأخبار السالفين؛ كهذه القصَّة العظيمة، وما فيها من الأحكام وغيرها، التي لا ينكرها أحدٌ من أهل الكتاب؛ فأنت لم تدرُسْ أخبار الأولين، ولم تتعلَّمْ ممَّن دراها؛ فإخبارُك بالحقِّ اليقين من أخبارهم دليلٌ على أنَّك رسولُ الله حقًّا، وما جئت به صدقٌ، ولهذا قال: {وقد آتَيْناك مِن لَدُنَّا}؛ أي: عطيَّة نفيسة ومِنْحة جزيلة من عندنا، {ذِكْراً}: وهو هذا القرآن الكريم؛ ذِكْرٌ للأخبار السابقة واللاحقة، وذِكْرٌ يُتَذَكَّرُ به ما لله تعالى من الأسماء والصفات الكاملة، ويُتَذَكَّرُ به أحكام الأمرِ والنهي وأحكام الجزاء، وهذا ممَّا يدلُّ على أنَّ القرآن مشتملٌ على أحسن ما يكونُ من الأحكام، التي تشهد العقولُ والفِطَرُ بحسنها وكمالها، ويذكُرُ هذا القرآن ما أودَعَ الله فيها، وإذا كان القرآنُ ذكراً للرسول ولأمَّته؛ فيجبُ تلقِّيه بالقَبول والتسليم والانقياد والتعظيم، وأنْ يُهْتَدَى بنوره إلى الصراط المستقيم، وأنْ يُقْبِلوا عليه بالتعلُّم والتعليم.