ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 69

وَ اَلۡقِ مَا فِیۡ یَمِیۡنِکَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا کَیۡدُ سٰحِرٍ ؕ وَ لَا یُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَیۡثُ اَتٰی ﴿۶۹﴾
اور پھینک جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، بے شک انھوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادوگر کی چال ہے اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں بھی آئے۔ En
اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا
En
اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالدے کہ ان کی تمام کاریگری کووه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 68 میں تا آیت 70 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ جو کچھ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اسے پھینک دو جو کچھ ان جادوگروں نے بنا رکھا ہے وہ سب کچھ ہڑپ کر جائے گا [48]۔ انہوں نے تو صرف جادو کی فریب کاری ہی بنائی ہے اور جادوگر جہاں بھی (حقیقت کے مقابلہ میں) آئے کامیاب نہ ہو سکتا۔
[48] شعبدہ بازی کا اطلاق:۔
بس تم اتنا کام کرو کہ اس میدان میں اپنا عصا پھینک دو۔ یہ عصا ایک بہت بڑا اژدھا بن کر ان سب نقلی اور مصنوعی سانپوں کو ہڑپ کر جائے گا اور اس میدان میں اس اژدھا کے سوا کوئی چیز نہ رہ جائے گی۔ جادوگروں کی شعبدہ بازیاں، ان کی لاٹھیاں اور رسیاں کسی چیز کا وجود تک باقی نہ رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ بعض علماء نے تلقف ما صنعوا کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ عصا سے بنا ہوا اژدھا جس طرف رخ کرتا اور جہاں جہاں پہنچتا وہاں سے شعبدہ کا اثر ختم ہوتا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ آخر میں جادوگروں کی وہ لاٹھیاں اور رسیاں ہی میدان میں رہ گئیں۔ جو جادوگر اپنے ساتھ لائے تھے۔ ہمارے خیال میں یہ دوسری توجیہ درست نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تلقف کا معنی نگل جانا یا نوالہ بنا لینا تو لغوی لحاظ سے درست ہے لیکن یہ لفظ باطل کرنے یا بنانے کے معنوں میں نہیں آتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔