اس آیت کی تفسیر آیت 67 میں تا آیت 69 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
68۔ 1 اس دہشت ناک منظر کو دیکھ کر اگر حضرت موسیٰ ؑ نے خوف محسوس کیا، تو یہ ایک طبعی چیز تھی، جو کمال نبوت کے منافی ہے نہ عصمت کے۔ کیونکہ نبی بھی بشر ہی ہوتا ہے اور بشریت کے طبعی تقاضوں سے نہ وہ بالا ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے، بہرحال موسیٰ ؑ کے اندیشے اور خوف کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ (علیہ السلا م) کسی بھی لحاظ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، تو ہی غالب رہے گا، اس جملے سے طبعی خوف اور دیگر اندیشوں، سب کا ہی ازالہ فرما دیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
68۔ ہم نے (وحی کے ذریعہ) اسے کہا: ڈرو مت، غالب تم ہی رہو گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُلْنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَاتَخَفْاِنَّكَاَنْتَالْاَعْلٰى ﴾”ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا“ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔