ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 53

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ سَلَکَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰی ﴿۵۳﴾
وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لیے اس میں راستے جاری کیے اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی قسمیں مختلف نباتات سے نکالیں۔ En
وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں
En
اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر اس برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت54,53) ➊ {الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا …:} یہ دونوں آیات موسیٰ علیہ السلام کا کلام بھی ہو سکتی ہیں، جسے نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے زمین سے مختلف نباتات نکالنے کا ذکر آنے پر اپنے لیے غائب کے صیغوں کے بعد جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرما دیا، یعنی { فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا } اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا کلام { وَ لَا يَنْسَى } پر ختم ہو گیا ہو اور ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مقام کی مناسبت سے اپنی مزید نعمتیں بیان فرمائی ہوں۔ اس صورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا ذکر غائب کے صیغے سے فرمایا اور { فَاَخْرَجْنَا } میں اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا۔
➋ ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار نعمتیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی نعمت زمین کو انسان کے لیے بچھونا بنانا۔ اس کا ذکر کئی آیات میں فرمایا۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۹، ۱۰)، سورۂ نبا (۶)، ذاریات (۴۸) اور رعد (۳) وغیرہ۔ دوسری نعمت زمین میں راستے بنانا سکھایا۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۹)، انبیاء (۳۱)، نوح (۱۹) اور نحل(۱۵) تیسری نعمت آسمان سے پانی اتارنا، اس کا ذکر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہے۔ چوتھی نعمت بنی آدم اور ان کے مویشیوں کے لیے بے شمار قسم کی کھانے اور استعمال کی چیزیں اگانا۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۲۷)، نازعات (۳۱ تا ۳۳)، عبس (۲۵ تا ۳۲) اور سورۂ نحل (۱۰)۔ (شنقیطی)
➌ { شَتّٰى شَتِيْتٌ} کی جمع ہے، مختلف، جیسا کہ {مَرِيْضٌ} کی جمع { مَرْضٰي} ہے۔{ النُّهٰى نُهْيَةٌ } کی جمع ہے، جس کا معنی عقل ہے، کیونکہ عقل انسان کو نامناسب کاموں سے منع کرتی ہے۔ {نَهٰي يَنْهٰي} کا معنی ہے منع کرنا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا اور اس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے اور اوپر سے پانی برسایا۔ پھر اس بارش سے مختلف قسم کی پیداوار نکالی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ رب العزت کا تعارف ٭٭
موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش بنایا ہے۔ «مَهْدًا» کی دوسری قرأت «مھَادًا» ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنا دیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ «وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:31]‏‏‏‏ ’ اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لیے راہیں بنا دی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو۔ ‘
اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔
جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [17-الإسراء:52]‏‏‏‏ ’ ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ ‘
جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [7-الأعراف:25]‏‏‏‏ ’ اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔‘
سنن کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «‏‏‏‏مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» ‏‏‏‏ دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «‏‏‏‏وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «‏‏‏‏وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔ }
الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14]‏‏‏‏ ’ یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ ‘