تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔
جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ’ ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ ‘
جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:25] ’ اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔‘
سنن کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔ }
الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] ’ یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {كُلوا وارْعَوْا أنعامَكم}: وسياقها على وجه الامتنان؛ ليدلَّ ذلك على أنَّ الأصل في جميع النوابت الإباحة؛ فلا يَحْرُمُ منها إلاَّ ما كان مضرًّا كالسموم ونحوه. {إنَّ في ذلك لآياتٍ لأولي النُّهى}؛ أي: لذوي العقول الرزينة والأفكار المستقيمة، على فضل الله وإحسانه ورحمته وسعة جوده وتمام عنايته، وعلى أنَّه الربُّ المعبود المالك المحمود، الذي لا يستحقُّ العبادة سواه، ولا الحمد والمدح والثناء إلاَّ مَن امتنَّ بهذه النعم، وعلى أنَّه على كلِّ شيء قديرٌ؛ فكما أحيا الأرض بعد موتها؛ إنَّ ذلك لمحيي الموتى. وخصَّ الله أولي النُّهى بذلك لأنَّهم المنتفعون بها الناظرون إليها نظر اعتبار، وأمَّا مَنْ عداهم؛ فإنَّهم بمنزلة البهائم السارحة والأنعام السائمة، لا ينظرون إليها نظر اعتبار، ولا تنفذ بصائرهم إلى المقصود منها، بل حظُّهم حظُّ البهائم؛ يأكلون ويشربون وقلوبُهم لاهيةٌ وأجسادهم مُعْرِضةٌ، {وكأيِّن من آيةٍ في السمواتِ والأرض يمرُّون عليها وهم عنها معرضونَ}.