ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ﴿۵۰﴾
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔ En
کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی
En
جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) ➊ {قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، بلکہ اس نے ہر چیز کو پیدا کرتے ہوئے اسے اس کی حسب ضرورت اور حسب حال شکل و صورت عطا فرمائی۔ چلنے والے، اڑنے والے اور تیرنے والے ہر جاندار کو، ہر درخت، پہاڑ اور دریا کو اور زمین و آسمان غرض ہر مخلوق کو ایسی شکل و صورت عطا فرمائی کہ کوئی دوسرا نہ اسے بنا سکتا ہے، نہ کوئی نقص یا عیب نکال سکتا ہے اور نہ اس سے بہتر شکل پیش کر سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۷) اور سورۂ ملک (۳)۔
➋ { ثُمَّ هَدٰى:} یعنی اس کے حسب حال شکل و صورت عطا فرما کر اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے، چنانچہ پرندے کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی دانہ چگنے لگتا ہے، بطخ کا بچہ تیرنے لگتا ہے، جبکہ جانور اور انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینے لگتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ نہ سکھاتا تو کون سکھا سکتا تھا؟ الغرض اس کائنات میں ہر چیز جو بھی کام کر رہی ہے اس کی دی ہوئی ہدایت اور تعلیم ہی سے کر رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رب تو نہیں بلکہ وہ بزرگ و برتر اللہ ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عموماً وہی دلائل پیش کیے جو ان کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیے تھے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۲۳ تا ۲۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

50۔ 1 مثلاً جو شکل صورت انسان کے مناسب حال تھی، وہ اسے، جو جانوروں کے مطابق تھی وہ جانوروں کو عطا فرمائی ' راہ سجھائی ' کا مطلب ہر مخلوق کو اس کی طبعی ضروریات کے مطابق رہن سہن، کھانے پینے اور بود و باش کا طریقہ سمجھا دیا، اس کے مطابق ہر مخلوق کا سامان زندگی فراہم کرتی اور حیات مستعار کے دن گزارتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ موسیٰ نے کہا: ”ہمارا پروردگار ہے جس نے ہر چیز کو اس کی [32] صورت خاص عطا کی پر اس کی رہنمائی کی۔
[32] فرعون کا سیدنا موسیٰ سے پہلا سوال کہ تمہارا پروردگار کون ہے:۔
جب فرعون کے پاس پہنچ کر ان دونوں بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقہ پر اس کی دعوت پیش کی تو فرعون نے جو پہلا سوال یا اعتراض کیا وہ اس کی اپنی دکھتی رگ تھی۔ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا اور لوگوں کو اس نے یہی یقین دلایا ہوا تھا کہ وہی ان کا پروردگار ہے۔ فرعون بلا شبہ اس بات کا قائل تھا کہ زمین و آسمان اور موجودات کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی سیاسی و قانونی حاکمیت کا وہ منکر تھا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ میرے اوپر کوئی ایسی بالاتر ہستی نہیں جس کا حکم مجھ پر چلتا ہو اور مجھے اس کا حکم ماننا ضروری ہو۔ لہٰذا اس نے فوراً یہ سوال کر دیا کہ ”ایسا تمہارا پروردگار ہے کون؟“ چونکہ فرعون اللہ تعالیٰ کی توحید و ربوبیت کا قائل تھا، اس لئے سیدنا موسیٰؑ نے اس کا جواب ہی ایسا دیا جو ربوبیت سے تعلق رکھتا تھا۔ اور وہ جواب یہ تھا کہ میرا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو احسن ایک خاص ساخت عطا کی۔ پھر اس کا وظیفہ بھی اسے سمجھا دیا اور اس کی جبلت میں رکھ دیا۔ اس نے مچھلی پیدا کی تو اسے پانی میں تیرنا بھی سکھلا دیا، پرندے پیدا کئے تو انھیں اڑنا بھی سکھلا دیا۔ بچہ پیدا کیا تو اسے فوراً ماں کے پستان سے چمٹنا اور دودھ پینے کا طریقہ بھی سکھلا دیا۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کی ایسی رہنمائی نہ کرتا تو اس کے علاوہ کوئی بھی انھیں سکھلا نہیں سکتا تھا۔ واضح رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے خلق کل شئی نہیں بلکہ اعطی کل شئی خلقہ فرمایا ہے۔ جو یہ معنی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی پیدائش کے وقت اسے ایک خاص شکل و صورت عطا فرمائی اور وہی اس کے لیے مناسب تھی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے جس جس مقام پر انسان کی آنکھیں ناک اور کان یا دوسرے اعضاء بنائے تو وہی مقامات ان اعضاء کے لیے مناسب تھے، اگر ان کو ادھر اُدھر کر دیا جاتا تو ہر چیز بدصورت ہوتی اور اس کا حلیہ بھی بگڑا ہوا ہوتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔
انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔
لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔