ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 128

اَفَلَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّہٰی ﴿۱۲۸﴾٪
پھر کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا کئی عظیم نشانیاں ہیں۔ En
کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 128) ➊ { اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ …:هَدٰي يَهْدِيْ} راہنمائی کرنا۔ { الْقُرُوْنِ قَرْنٌ} کی جمع ہے۔ قرن کا معنی متعین کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سب سے زیادہ معتبر ہے، جو آپ نے عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا، آپ نے فرمایا: [يَعِيْشُ هٰذَا الْغُلَامُ قَرْنًا، فَعَاشَ مِائَةَ سَنَةٍ] [سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 159/6، ح: ۲۶۶۰] یہ لڑکا ایک قرن زندہ رہے گا تو وہ سو سال زندہ رہے۔ سلسلہ صحیحہ کی اس روایت میں ابن عساکر کے حوالے سے مزید یہ ہے کہ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ قربان! قرن کتنا ہوتا ہے؟ فرمایا: سو سال۔ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں پچانوے برس جی چکا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری ہونے میں پانچ برس رہ گئے ہیں۔ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ ہم نے بعد میں پانچ سال گنے، پھر وہ فوت ہو گئے۔
➋ قرون سے مراد عاد و ثمود ہیں، کیونکہ عرب لوگ یمن، نجران اور اس کے گرد و نواح کی طرف جاتے ہوئے قوم عاد کے رہنے کی جگہوں سے گزرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تبوک کے سفر میں ثمود کے مکانات سے گزرے تھے۔ اسی طرح ان سفروں میں قوم لوط اور اہل مدین کی تباہ شدہ بستیاں سب سے بڑی شاہراہ پر واقع تھیں، جہاں سے وہ صبح و شام گزرتے تھے۔ دیکھیے سورۂ حجر (۷۶ تا ۷۹) اور صافات (۳۳ تا ۳۸)۔
➌ اس سورت میں پیغمبروں کو جھٹلانے والے لوگوں کا اور ان کے بدترین انجام کا ذکر گزر چکا ہے۔ حق یہ تھا کہ اہل عرب تاریخ سے سبق حاصل کرتے اور کفر و شرک سے باز آ جاتے، مگر وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ اس لیے بطور تعجب فرمایا کہ کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں اور جنھیں دیکھنے سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ لوگ قد و قامت، صنعت و زراعت اور قوت و مہارت میں ان سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ مدائن صالح، اہرام مصر اور دوسرے آثار قدیمہ شاہد ہیں کہ اس قوت کے لوگ پھر پیدا نہیں ہوئے۔ دیکھیے سورۂ فجر (۶ تا ۱۴) اور سورۂ روم (۹، ۱۰) ان لوگوں کے آثار آنکھوں سے دیکھ کر اور اپنے آبا و اجداد سے تواتر کے ساتھ ان کی قوت و ہیبت اور عذابِ الٰہی سے بربادی کے واقعات سن کر بھی کیا ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ لوگ بھی ان کی روش پر اڑے رہے تو ان کا انجام کیا ہو گا؟
➍ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى: النُّهٰى } کی تفسیر اسی سورت کی آیت (۵۴) میں دیکھیے۔ { النُّهٰى } جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ عقلوں والے کیا ہے اور { لَاٰيٰتٍ } پر تنوین تعظیم کی وجہ سے ترجمہ کئی عظیم نشانیاں کیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

128۔ کیا انھیں اس بات سے کوئی رہنمائی نہ ملی کہ ان سے بیشتر ہم کئی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کے (برباد شدہ) ٹھکانوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں اہل عقل کے لئے بہت سی [93] نشانیاں ہیں۔
[93] اس آیت کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ جن میں سابقہ اقوام کی ہلاکت کے چرچے زبان زد تھے اور وہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران ان کے تباہ شدہ کھنڈرات بچشم خود ملاحظہ بھی کر سکتے تھے۔ اگر وہ ان کے حالات میں کچھ بھی غور و فکر کرتے تو انھیں معلوم ہو سکتا تھا کہ بالآخر ان کا اپنا بھی ویسا ہی انجام ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ چاہتے تو انھیں واقعات سے کافی عبرت حاصل کر سکتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔
اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔
سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔
سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:554]‏‏‏‏
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:634]‏‏‏‏
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:5]‏‏‏‏ عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ { اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6549]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:181]‏‏‏‏