تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ:} یعنی بار بار اور مختلف طریقوں کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اپنی گرفت اور عذاب سے ڈرایا ہے۔
➌ { لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ …: } تاکہ وہ ڈر جائیں، یا کم از کم یہ ان کے دل میں کسی طرح کی عبرت و نصیحت پیدا کر دے اور وہ سوچیں کہ پچھلی امتوں کا کیا انجام ہوا اگر ہم بھی گناہ کریں گے تو انھی کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ (ابن کثیر) {” ذِكْرًا “} کی تنوین تنکیر کی وجہ سے ”کسی طرح کی نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے، دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے، وہ خود حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اس کے رسول علیہم السلام حق ہیں، جنت دوزخ حق ہے، اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسر عدل و حق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگاہ کئے بغیر کسی کوسزا دے، وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا، حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو، اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو، پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔
جیسے سورۃ القیامہ میں فرمایا «لَا تُحَرِّكْ بِهِ * لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ * ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:16-19] ’ یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہو جائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ‘
اور اطمینان ہو گیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہو گی، مجھے یاد ہو جایا کرے گی۔ ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہو چکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو۔ جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ { وحی برابر پے در پے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے، اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔} ۱؎ [صحیح بخاری:4982]
ابن ماجہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے «اللَّهُمَّ اِنْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْد لِلَّهِ عَلَى كُلّ حَال» ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں «وَأَعُوذ بِاَللَّهِ مِنْ حَال أَهْل النَّار» ۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وكذلك أنزلنا هذا الكتاب باللِّسان الفاضل العربيِّ الذي تفهمونه وتفقهونه ولا يخفى عليكم لفظُهُ ولا معناه. {وصرَّفنا فيه من الوعيدِ}؛ أي: نوعناها أنواعاً كثيرةً؛ تارةً بذكر أسمائِهِ الدالَّة على العدل والانتقام، وتارةً بذكر المَثُلاتِ التي أحلَّها بالأمم السابقة، وأمر أن تَعْتَبِرَ بها الأممُ اللاحقةُ، وتارةً بذكرِ آثار الذُّنوب وما تُكْسِبُه من العيوب، وتارةً بذِكْر أهوال القيامة وما فيها من المزعجاتِ والمقلقاتِ، وتارةً بذكر جهنَّم وما فيها من أنواع العقابِ وأصناف العذابِ؛ كل هذا رحمةً بالعباد؛ {لعلَّهم يتَّقون}: الله، فيترُكون من الشرِّ والمعاصي ما يضرُّهم، {أو يحدِثُ لهم ذِكْراً}: فيعملون من الطاعات والخير ما ينفعهم، فكونه عربيًّا وكونه مصرفاً فيه من الوعيد أكبرُ سبب وأعظمُ داعٍ للتقوى والعمل الصالح؛ فلو كان غير عربيِّ أو غير مصرَّفٍ فيه؛ لم يكن له هذا الأثر.