تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ان سے چار عہد لیے گئے تھے: (1) ایک دوسرے کا خون نہ بہانا۔ (2) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالنا۔ (3) ایک دوسرے کے خلاف مدد نہ کرنا۔ (4) قیدی کو فدیہ دے کر چھڑا لینا، مگر وہ صرف فدیہ پر عمل کرتے اور باقی تین کی مخالفت کرتے اور بلا جھجک ان کا ارتکاب کرتے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہود کے تین قبیلے تھے: بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ، یہ اہل کتاب تھے۔ مدینہ کے عرب قبائل اوس اور خزرج بت پرست مشرک تھے، انھیں کسی آسمانی دین سے سروکار نہ تھا، یہود کے ان قبائل سے حلیفانہ تعلقات تھے۔ بنو قینقاع اور بنونضیر خزرج کے حلیف تھے اور بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے۔ اوس اور خزرج کی آپس میں جنگ رہا کرتی تھی اور یہودی قبائل اس میں اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور مقابلے میں آنے والے مشرک قبیلے کے آدمیوں کے علاوہ ان کا ساتھ دینے والے اپنے یہودی بھائیوں کو بھی قتل کرتے، ان کے گھر بھی لوٹ لیتے، پھر جب لڑائی ختم ہوتی اور کچھ یہودی قید ہو کر غالب قبیلے کے پاس آتے تو غالب قبیلے کے حلیف یہودی خود ہی ان کا فدیہ دے کر انھیں چھڑوا دیتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ کی کتاب کا حکم ہے کہ اپنے قیدی بھائیوں کو چھڑواؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمھیں فدیہ دے کر چھڑوانے کا حکم تو یاد رہا، مگر اپنے بھائیوں کے خلاف دوسرے کی مدد نہ کرنے، ان کا خون نہ بہانے اور انھیں گھروں سے نہ نکالنے کا حکم یاد نہ رہا، جس پر تم عمل کرتے تو فدیے کی نوبت ہی نہ آتی۔ گویا تم اللہ کی کتاب کے جس حکم کو اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہو مان لیتے ہو اور جو اپنی مرضی کے مطابق نہ ہو اس کی پروا نہیں کرتے، اگر تم واقعی اللہ کی کتاب پر چلتے ہو تو چاروں حکم مانو۔
➌ { اِلَّا خِزْيٌ:} یہودیوں کو دنیا کی زندگی میں جلد ہی رسوائی دیکھنا پڑی کہ بنو نضیر اور بنو قینقاع جلا وطن ہوئے اور بنو قریظہ کے بالغ مرد قتل ہوئے، بچے اور عورتیں لونڈی و غلام بنے، پھر آخرت کے عذاب کا تو دنیاوی عذاب سے کچھ موازنہ ہی نہیں۔
➍ افسوس! اس وقت اکثر مسلمانوں کا حال بعینہ وہی ہو گیا ہے جو اہل کتاب کا تھا کہ انھوں نے اسلام کے اپنی مرضی کے چند احکام پر عمل کیا اور باقی کو بھلا دیا، مثلاً مسلمان خنزیر کا گوشت کھانا تو درکنار اس کا نام لینے سے بھی اجتناب کرتے ہیں، جب کہ سود اور جوئے (انشورنس وغیرہ) سے انھیں کچھ پرہیز نہیں، بلکہ ان کے کاروبار کی بنیاد ہی ان کاموں پر ہے۔ وہ قبلے کی طرف منہ کرکے پیشاب نہیں کرتے، مگر انھیں نماز سے کچھ سروکار نہیں۔ وہ جھٹکے والی مرغی (جسے شرعی طریقے سے حلال نہ کیا گیا ہو) کھانے سے یورپ اور امریکہ میں جا کر بھی اجتناب کرتے ہیں، مگر شراب اور حرام شباب سے انھیں پرہیز نہیں۔ وہ اپنے آپ کو امت مسلمہ کا فرد کہتے ہیں، پھر کفار کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائیوں کو قتل اور ان کے گھروں اور شہروں کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں ذلت کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے، رہا آخرت کا معاملہ تو کتاب کے بعض پر ایمان (یعنی اس پر عمل) اور بعض کے ساتھ کفر (یعنی اس کی مخالفت کرنا) اہلِ کتاب کو{ ”اَشَدِّ الْعَذَابِ“} سے نہیں بچا سکا تو موجودہ مسلمانوں کو اس سے کیسے بچائے گا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آیت میں فرمایا کہ اپنے خون نہ بہاؤ اور اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نہ نکالو یہ اس لیے کہ ہم مذہب سارے کے سارے ایک جان کے مانند ہیں حدیث میں بھی ہے کہ تمام ایماندار دوستی، اخوت، صلہ رحمی اور رحم و کرم میں ایک جسم کے مثل ہیں کسی ایک عضو کے درد سے تمام جسم بیتاب ہو جاتا ہے بخار چڑھ جاتا ہے راتوں کی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:6011
] اسی طرح ایک ادنیٰ مسلمان کے لیے سارے جہان کے مسلمانوں کو تڑپ اٹھنا چاہیئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الفعل المذكور في هذه الآية فعل للذين كانوا في زمن الوحي بالمدينة، وذلك أن الأوس والخزرج - وهم الأنصار - كانوا قبل مبعث النبي - صلى الله عليه وسلم - مشركين، وكانوا يقتتلون على عادة الجاهلية، فنزلت عليهم الفرق الثلاث من فرق اليهود: بنو قريظة، وبنو النضير، وبنو قينقاع، فكل فرقة منهم حالفت فرقة من أهل المدينة، فكانوا إذا اقتتلوا أعان اليهودي حليفه على مقاتليه الذين يُعِينونهم الفرقة الأخرى من اليهود، فيقتل اليهوديُ اليهوديَ، ويخرجه من دياره إذا حصل جلاء ونهب، ثم إذا وضعت الحرب أوزارها، وكان قد حصل أسارى بين الطائفتين فدى بعضهم بعضاً، والأمور الثلاثة كلها قد فرضت عليهم: ففرض عليهم أن لا يسفك بعضهم دم بعض، ولا يخرج بعضهم بعضاً، وإذا وجدوا أسيراً منهم وجب عليهم فداؤه، فعملوا بالأخير وتركوا الأولين، فأنكر الله عليهم ذلك فقال: {أفتؤمنون ببعض الكتاب}؛ وهو فداء الأسير {وتكفرون ببعض}؛ وهو القتل والإخراج، وفيها دليل على أن الإيمان يقتضي فعل الأوامر واجتناب النواهي، وأن المأمورات من الإيمان. قال تعالى: {فما جزاء من يفعل ذلك منكم إلا خزي في الحياة الدنيا}؛ وقد وقع ذلك فأخزاهم الله، وسلط رسوله عليهم فقتل من قتل، وسبى من سبى منهم، وأجلى من أجلى، {ويوم القيامة يردون إلى أشد العذاب}؛ أي: أعظمه، {وما الله بغافل عما تعملون}؛ ثم أخبر تعالى عن السبب الذي أوجب لهم الكفر ببعض الكتاب والإيمان ببعضه، فقال: