ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 83

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۸۳﴾
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور ماں باپ اور قرابت والے اور یتیموں اور مسکینوں سے احسان کرو گے اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، پھر تم پھر گئے مگر تم میں سے تھوڑے اور تم منہ پھیرنے والے تھے۔ En
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے
En
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعده لیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اسی طرح قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا، نمازیں قائم رکھنا اور زکوٰة دیتے رہا کرنا، لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوه تم سب پھر گئے اور منھ موڑ لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) ➊ گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کو وہ تاریخی احسانات یاد دلائے گئے ہیں جو ان کے بزرگوں پر کیے گئے اور انھوں نے شکر گزاری کے بجائے کفر کیا، جس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی بار عتاب نازل ہوا۔ اب یہاں ان کو وہ عہد یاد دلایا جا رہا ہے جو بنیادی احکام (عبادات و معاملات) دیتے وقت ان سے لیا گیا تھا اور بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کی پابندی نہ کی اور اس سے سراسر بے پروائی اختیار کی۔ اسی قسم کا حکم سورۂ نساء(۳۶) میں امتِ مسلمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ (ابن کثیر)
➋ {لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ:} عبادت کی چار قسمیں ہیں: (1) بدنی عبادت، جیسے طواف، رکوع، سجدہ وغیرہ۔ (2) مالی عبادت، جیسے صدقہ و خیرات کرنا اور نذر و نیاز ماننا۔ (3) لسانی عبادت (یعنی زبان سے)، جیسے کسی کے نام کا وظیفہ جپنا، یا اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے کسی کا نام لینا۔ (4) قلبی عبادت (یعنی دل سے)، جیسے کسی پر بھروسا رکھنا، کسی سے خوف کھانا یا امید رکھنا۔ یہ سب عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، ان میں جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بنایا وہ شرک کا مرتکب ہو گیا۔
➌ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا …:} ماں باپ کے ساتھ نیکی سے پیش آنے کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ متعدد دوسری آیات میں عبادت الٰہی کے ساتھ بیان فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقوق العباد میں سب سے افضل عمل یہی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:سب سے افضل عمل کون سا ہے۔ فرمایا: [اَلصَّلاَةُ عَلٰی وَقْتِهَا] نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: [بِرُّ الْوَالِدَيْنِ] ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ [بخاری، مواقیت الصلاۃ، باب فضل الصلوۃ لوقتھا: ۵۲۷] اس کی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اسے جنم دیا، پھر اس کی پرورش کی «{ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا [بنی إسرائیل: ۲۴] اے میرے رب! دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔
➍ {وَ الْيَتٰمٰى:} یتیم وہ ہے جس کا والد بچپن میں فوت ہو جائے۔ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغ ہونے کے بعد یتیمی نہیں۔ [أبو داوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم: ۲۵۷۳ و صححہ الألبانی]
➎ { وَ الْمَسٰكِيْنِ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۶۰) کا حاشیہ۔
➏ {وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: قولِ حسن یہ ہے کہ نیکی کا حکم دے، برائی سے منع کرے، بردباری اور عفو و درگزر سے کام لے اور جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ لوگوں سے اچھی بات کرے اور ہر وہ اچھی عادت ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھو، اگر تم کچھ اور نہ کر سکو تو کم از کم اپنے بھائی سے کھلے چہرے کے ساتھ مل لو۔ [مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب طلاقۃ …: ۲۶۲۶]
بنی اسرائیل کو قول حسن (اچھی بات) کا حکم تھا، ہماری امت کو اس سے بڑھ کر احسن (سب سے اچھی بات) کا حکم ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ قُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ [بنی إسرائیل: ۵۳] اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو۔
➐ {وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ:} اس سے مراد وہ نماز اور زکوٰۃ ہے جو بنی اسرائیل ادا کرتے تھے۔
➑ { اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ: } اس سے مراد بنی اسرائیل کے وہ تھوڑے سے لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اس عہد پر قائم رہے، یا آپ کے تشریف لانے کے بعد آپ پر ایمان لے آئے۔ باقی سب نے اس عہد و پیمان کو پسِ پشت پھینک دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حد درجے کا انصاف ہے کہ ان کی عہد شکنی کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی سب کو مجرم قرار نہیں دیا، بلکہ عہد پر قائم رہنے والوں کو، خواہ وہ تھوڑے تھے، عہد توڑنے والوں سے الگ ذکر فرمایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین سے، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا برتاؤ کرو گے، لوگوں سے بھلی باتیں کہو گے، نماز کو قائم کرو گے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے۔ پھر تم میں سے ماسوائے چند آدمیوں کے باقی سب اس عہد [96] سے پھر گئے۔ اور (اب تک تم اس عہد سے) اعراض کر رہے ہو۔
[96] گو بظاہر یہ خطاب یہود مدینہ سے ہے۔ تاہم یہ ایسے احکام ہیں جو ہر شریعت میں غیر متبدل رہے ہیں اور ہماری شریعت میں بھی بعینہ موجود ہیں۔ رہا عہد کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی عہد شکنی کا قصہ تو یہ ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی اور ان کی تاریخ ایسی عہد شکنیوں سے بھری پڑی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

معبودان باطل سے بچو ٭٭
بنی اسرائیل کو جو حکم احکام دیئے گئے اور ان سے جن چیزوں پر عہد لیا گیا ان کا ذکر ہو رہا ہے ان کی عہد شکنی کا ذکر ہو رہا ہے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ توحید کو تسلیم کریں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں، یہ حکم نہ صرف بنو اسرائیل کو ہی دیا گیا بلکہ تمام مخلوق کو دیا گیا ہے فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21۔ الانبیآء: 25]‏‏‏‏ یعنی ’ تمام رسولوں کو ہم نے یہی حکم دیا کہ وہ اعلان کر دیں کہ عبادت کے لائق میرے سوا اور کوئی، نہیں سب لوگ میری ہی عبادت کریں ‘۔ اور فرمایا «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ۱؎ [16۔ النحل: 36]‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے معبودان باطل سے بچو ‘۔
سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور اس کے تمام حقوق میں بڑا حق یہی ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور دوسرے کسی کی عبادت نہ کی جائے اب حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا بیان ہو رہا ہے۔
بندوں کے حقوق میں ماں باپ کا حق سب سے بڑا ہے اسی لیے پہلے ان کا حق بیان کیا گیا ہے ارشاد ہے «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ» ۱؎ [31۔ لقمان: 14]‏‏‏‏ یعنی ’ میرا شکر کرو اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مانو ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء: 23]‏‏‏‏ یعنی ’ تیرے رب کا فیصلہ ہے کہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان اور سلوک کرتے رہو ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا پوچھا اس کے بعد فرمایا ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرنا پوچھا پھر کون سا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:527]‏‏‏‏ { ایک اور صحیح حدیث میں ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کس کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ فرمایا! اپنے باپ کے ساتھ اور قریب والے کے ساتھ پھر اور قریب والے کے ساتھ۔} ۱؎ [صحیح بخاری:5971]‏‏‏‏
آیت میں «لا تعبدون» فرمایا اس لیے کہ اس میں بہ نسبت «لاتعبدوا» کے مبالغہ زیادہ ہے۔
«طلب» یہ خبر معنی میں ہے بعض لوگوں نے «ان لا تعبدوا» بھی پڑھا ہے ابی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ «لا تعبدوا» پڑھتے تھے یتیم ان چھوٹے بچوں کو کہتے ہیں جن کا سر پرست باپ نہ ہو۔ مسکین ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنی اور اپنے بال بچوں کی پرورش اور دیگر ضروریات پوری طرح مہیا نہ کر سکتے ہوں اس کی مزید تشریح ان شاءاللہ العظیم سورۃ نساء کی اس معنی کی آیات میں آئے گی پھر فرمایا لوگوں کو اچھی باتیں کہا کرو۔ یعنی ان کے ساتھ نرم کلامی اور کشادہ پیشانی کے ساتھ پیش آیا کرو بھلی باتوں کا حکم اور برائی سے روکا کرو۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھلائی کا حکم دو۔ برائی سے روکو۔ بردباری، درگزر اور خطاؤں کی معافی کو اپنا شعار بنا لو یہی اچھا خلق ہے جسے اختیار کرنا چاہیئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/1]‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اچھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگر اور کچھ نہ ہو سکے تو اپنے بھائیوں سے ہنستے ہوئے چہرے سے ملاقات تو کر لیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2626]‏‏‏‏
پس قرآن کریم نے پہلے اللہ کی عبادت کا حکم دیا پھر لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا۔ پھر اچھی باتیں کہنے کا۔ پھر بعض اہم چیزوں کا ذکر بھی کر دیا نماز پڑھو زکوٰۃ دو۔ پھر خبر دی کہ ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور عموماً نافرمان بن گئے مگر تھوڑے سے پابند عہد رہے۔ اس امت کو بھی یہی حکم دیا گیا فرمایا «وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [4۔ النسآء: 36]‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ماں باپ کے ساتھ رشتہ داروں کے ساتھ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، قرابت دار پڑوسیوں کے ساتھ، اجنبی پڑوسیوں کے ساتھ، ہم مشرب مسلک کے ساتھ مسافروں کے ساتھ لونڈی غلاموں کے ساتھ، حسن سلوک احسان اور بھلائی کیا کرو۔
یاد رکھو تکبر اور فخر کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہ یہ امت بہ نسبت اور امتوں کے ان فرمانوں کے ماننے میں اور ان پر عمل پیرا ہونے میں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔ اسد بن وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کو سلام کیا کرتے تھے اور یہ دلیل دیتے تھے کہ فرمان باری ہے «وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ» [2۔ البقرہ: 83]‏‏‏‏ لیکن یہ اثر غریب ہے اور حدیث کے خلاف ہے حدیث میں صاف موجود ہے کہ یہود نصاریٰ کو ابتداً سلام علیک نہ کیا کرو۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2167]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس یہ احکام ان اصول دین میں سے ہیں، جن پر عمل کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہر شریعت میں دیا، کیونکہ یہ احکام ہر زمان و مکان میں مصالح عامہ پر مشتمل ہیں۔ دین میں ان کی حیثیت بنیاد کی سی ہے جو منسوخ نہیں ہو سکتی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان اصولوں پر عمل کرنے کا حکم اپنے اس فرمان میں دیا ہے: ﴿وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُ٘شْ٘رِكُوْا بِهٖ شَیْـًٔـا (النساء: 4؍36) اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔
﴿ وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اس وقت کو یاد کرو، جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ یہ ان کی سنگدلی ہی تھی کہ جب بھی انھیں کسی بات کا حکم دیا جاتا تو وہ نافرمانی کرتے، اس لیے وہ پختہ قسموں اور مضبوط عہدوں کے بغیر کسی حکم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔
﴿ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ یہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کی ممانعت ہے۔ یہ دین کی بنیاد ہے اگر یہ بنیاد نہ ہو تو کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق ہے۔ پھر فرمایا: ﴿ وَبِالْوَالِدَیْنِ۠ اِحْسَانًا یعنی اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ۔ اس میں ہر قسم کا حسن سلوک شامل ہے۔ اس زمرے میں قولی و فعلی اور ہر وہ رویہ شامل ہے جس پر حسن سلوک کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس میں والدین کے ساتھ برے سلوک یا عدم حسن سلوک کی ممانعت ہے۔ کیونکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے اور کسی چیز کی فرضیت کے حکم سے لازم آتا ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہو۔ اور دو چیزیں حسن سلوک کے مخالف ہیں۔
(۱)برا سلوک کرنا، یہ سب سے بڑا جرم ہے۔ (۲) بغیر برائی کیے، حسن سلوک نہ کرنا۔ اگرچہ والدین کے ساتھ اس قسم کا رویہ بھی حرام ہے مگر اس رویئے کو اول الذکر رویئے سے ملحق کرنا ضروری نہیں۔
رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ سلوک میں بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے حسن سلوک (احسان) کی تفصیلات دائرہ شمار سے باہر ہیں البتہ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اس کی کچھ حدود ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تمام لوگوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آیا جائے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقُ٘وْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا یعنی لوگوں سے اچھی بات کہنا۔ مندرجہ ذیل چیزیں قول حسن (یعنی اچھی بات) کے زمرے میں آتی ہیں۔
(۱)لوگوں کو نیکی کا حکم دینا۔ (۲) ان کو بری باتوں سے روکنا۔ (۳) ان کو علم سکھانا۔ (۴) ان میں سلام پھیلانا۔ (۵) خندہ پیشانی اور بشاشت کا اظہار کرنا۔ (۶) ان کے علاوہ دیگر اچھی باتیں۔
چونکہ ہر انسان اپنے مال کے ذریعے سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لیے اسے ایک ایسی چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ ہے قول حسن اسی کے ضمن میں لوگوں کے ساتھ بری گفتگو کرنے کی ممانعت آ جاتی ہے، حتی کہ کفار کے ساتھ بھی کلام قبیح کرنا ممنوع ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ (العنکبوت: 29؍46) اہل کتاب کے ساتھ بحث نہ کرو مگر ایسے طریقے سے جو سب سے اچھا ہو۔
انسانی آداب میں سے، جن کی تعلیم اللہ نے اپنے بندوں کو دی ہے، یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اقوال اور افعال میں پاکیزہ رہے، فحش گوئی اور بے ہودہ باتوں سے اجتناب کرے، گالی گلوچ اور سب و شتم کرنے اور لڑائی جھگڑے سے باز رہے۔ بلکہ اس کے برعکس حسن خلق، بے پایاں حلم، ہر ایک کے ساتھ اچھے سلوک اور مخلوق کی ایذا رسانی پرصبر کا مظاہرہ کرے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور ثواب کی امید میں کرے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نماز معبود کے لیے اخلاص کو اور زکاۃ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو متضمن ہے۔
﴿ ثُمَّ پھر اللہ تعالیٰ کا تمھیں ان اچھے کاموں کا حکم دینے کے بعد، جن کو ایک دانش مند دیکھتا ہے تو جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کا بندوں پر ایک احسان ہے کہ اس نے ان باتوں کا انھیں حکم دیا اور اس طرح انھیں اپنے فضل و کرم سے نوازا، اور ان سے عہدومیثاق لیا۔ ﴿ تَوَلَّیْتُمْ یعنی تم نے ان احکام سے روگردانی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لی، اس لیے کہ پیٹھ پھیر کر جانے والا کبھی کبھی واپس لوٹنے کی نیت سے بھی پیٹھ پھیر کر جاتا ہے، مگر یہ لوگ تو احکام الٰہی میں سرے سے کوئی رغبت ہی نہیں رکھتے اور نہ ان کی طرف لوٹنے کا کوئی ارادہ ہی رکھتے ہیں۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخَذْلَانِ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا قَلِیْلًا مِّؔنْكُمْ مگر تھوڑے لوگ تم میں سے ایک استثناء ہے تاکہ اس وہم کا ازالہ ہو جائے کہ تمام لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ چند لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا اور ان کو استقامت اور ثابت قدمی عطا کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فهذه الشرائع من أصول الدين التي أمر الله بها في كل شريعة لاشتمالها على المصالح العامة في كل زمان ومكان؛ فلا يدخلها نسخ، كأصل الدين، ولهذا أمرنا الله بها في قوله: {واعبدوا الله ولا تشركوا به شيئاً}؛ إلى آخر الآية.

فقوله: {وإذ أخذنا ميثاق بني إسرائيل}؛ هذا من قسوتهم أن كل أمر أمروا به استعصوا، فلا يقبلونه إلا بالأيمان الغليظة والعهود الموَثَّقة {لا تعبدون إلا الله}؛ هذا أمر بعبادة الله وحده ونهي عن الشرك به، وهذا أصل الدين فلا تقبل الأعمال كلها إن لم يكن هذا أساسها، فهذا حق الله تعالى على عباده، ثم قال: {وبالوالدين إحساناً}؛ أي أحسنوا بالوالدين إحساناً، وهذا يعم كل إحسان قولي وفعلي مما هو إحسان إليهم، وفيه النهي عن الإساءة إلى الوالدين أو عدم الإحسان والإساءة؛ لأن الواجب الإحسان، والأمر بالشيء نهي عن ضده، وللإحسان ضدان: الإساءة وهي أعظم جرماً، وترك الإحسان بدون إساءة وهذا محرم لكن لا يجب أن يلحق بالأول.

وكذا يقال في صلة الأقارب واليتامى والمساكين، وتفاصيل الإحسان لا تنحصر بالعد بل تكون بالحد كما تقدم. ثم أمر بالإحسان إلى الناس عموماً فقال: {وقولوا للناس حسناً}؛ ومن القول الحسن أمرهم بالمعروف ونهيهم عن المنكر وتعليمهم العلم وبذل السلام والبشاشة وغير ذلك من كل كلام طيب، ولما كان الإنسان لا يسع الناس بماله أُمر بأمر يقدر به على الإحسان إلى كل مخلوق وهو الإحسان بالقول، فيكون في ضمن ذلك النهي عن الكلام القبيح للناس حتى للكفار، ولهذا قال تعالى: {ولا تجادلوا أهل الكتاب إلا بالتي هي أحسن}؛ ومن أدب الإنسان الذي أدب الله به عباده أن يكون الإنسان نزيهاً في أقواله وأفعاله، غير فاحش ولا بذيء ولا شاتم ولا مخاصم، بل يكون حسن الخلق واسع الحلم، مجاملاً لكلِّ أحد، صبوراً على ما يناله من أذى الخلق امتثالاً لأمر الله ورجاءً لثوابه.

ثم أمرهم بإقامة الصلاة وإيتاء الزكاة لما تقدم أن الصلاة متضمنة للإخلاص للمعبود، والزكاة متضمنة للإحسان إلى العبيد، ثم بعد هذا الأمر لكم بهذه الأوامر الحسنة التي إذا نظر إليها البصير العاقل، عرف أن من إحسان الله على عباده أن أمرهم بها وتفضل بها، عليهم وأخذ المواثيق عليكم {توليتم}؛ على وجه الإعراض؛ لأن المتولي قد يتولى وله نية رجوع إلى ما تولى عنه، وهؤلاء ليس لهم رغبة ولا رجوع في هذه الأوامر، فنعوذ بالله من الخذلان. وقوله: {إلا قليلاً منكم}؛ هذا استثناء؛ لئلا يوهم أنهم تولوا كلهم، فأخبر أن قليلاً منهم عصمهم الله وثبتهم.