تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ:} عبادت کی چار قسمیں ہیں: (1) بدنی عبادت، جیسے طواف، رکوع، سجدہ وغیرہ۔ (2) مالی عبادت، جیسے صدقہ و خیرات کرنا اور نذر و نیاز ماننا۔ (3) لسانی عبادت (یعنی زبان سے)، جیسے کسی کے نام کا وظیفہ جپنا، یا اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے کسی کا نام لینا۔ (4) قلبی عبادت (یعنی دل سے)، جیسے کسی پر بھروسا رکھنا، کسی سے خوف کھانا یا امید رکھنا۔ یہ سب عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، ان میں جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بنایا وہ شرک کا مرتکب ہو گیا۔
➌ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا …:} ماں باپ کے ساتھ نیکی سے پیش آنے کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ متعدد دوسری آیات میں عبادت الٰہی کے ساتھ بیان فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقوق العباد میں سب سے افضل عمل یہی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:”سب سے افضل عمل کون سا ہے۔“ فرمایا: [اَلصَّلاَةُ عَلٰی وَقْتِهَا] ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ “ پوچھا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: [بِرُّ الْوَالِدَيْنِ] ”ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔“ پوچھا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: ”جہاد فی سبیل اللہ“ [بخاری، مواقیت الصلاۃ، باب فضل الصلوۃ لوقتھا: ۵۲۷] اس کی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اسے جنم دیا، پھر اس کی پرورش کی «{ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا }» [بنی إسرائیل: ۲۴] ”اے میرے رب! دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔“
➍ {وَ الْيَتٰمٰى:} یتیم وہ ہے جس کا والد بچپن میں فوت ہو جائے۔ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغ ہونے کے بعد یتیمی نہیں۔“ [أبو داوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم: ۲۵۷۳ و صححہ الألبانی]
➎ { وَ الْمَسٰكِيْنِ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۶۰) کا حاشیہ۔
➏ {وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قولِ حسن یہ ہے کہ نیکی کا حکم دے، برائی سے منع کرے، بردباری اور عفو و درگزر سے کام لے اور جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ لوگوں سے اچھی بات کرے اور ہر وہ اچھی عادت ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔“ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھو، اگر تم کچھ اور نہ کر سکو تو کم از کم اپنے بھائی سے کھلے چہرے کے ساتھ مل لو۔“ [مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب طلاقۃ …: ۲۶۲۶]
بنی اسرائیل کو قول حسن (اچھی بات) کا حکم تھا، ہماری امت کو اس سے بڑھ کر ”احسن “ (سب سے اچھی بات) کا حکم ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ قُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ }» [بنی إسرائیل: ۵۳] ”اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو۔“
➐ {وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ:} اس سے مراد وہ نماز اور زکوٰۃ ہے جو بنی اسرائیل ادا کرتے تھے۔
➑ { اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ: } اس سے مراد بنی اسرائیل کے وہ تھوڑے سے لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اس عہد پر قائم رہے، یا آپ کے تشریف لانے کے بعد آپ پر ایمان لے آئے۔ باقی سب نے اس عہد و پیمان کو پسِ پشت پھینک دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حد درجے کا انصاف ہے کہ ان کی عہد شکنی کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی سب کو مجرم قرار نہیں دیا، بلکہ عہد پر قائم رہنے والوں کو، خواہ وہ تھوڑے تھے، عہد توڑنے والوں سے الگ ذکر فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور اس کے تمام حقوق میں بڑا حق یہی ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور دوسرے کسی کی عبادت نہ کی جائے اب حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا بیان ہو رہا ہے۔
بندوں کے حقوق میں ماں باپ کا حق سب سے بڑا ہے اسی لیے پہلے ان کا حق بیان کیا گیا ہے ارشاد ہے «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ» ۱؎ [31۔ لقمان: 14] یعنی ’ میرا شکر کرو اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مانو ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء: 23] یعنی ’ تیرے رب کا فیصلہ ہے کہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان اور سلوک کرتے رہو ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا پوچھا اس کے بعد فرمایا ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرنا پوچھا پھر کون سا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:527] { ایک اور صحیح حدیث میں ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کس کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ فرمایا! اپنے باپ کے ساتھ اور قریب والے کے ساتھ پھر اور قریب والے کے ساتھ۔} ۱؎ [صحیح بخاری:5971]
آیت میں «لا تعبدون» فرمایا اس لیے کہ اس میں بہ نسبت «لاتعبدوا» کے مبالغہ زیادہ ہے۔
پس قرآن کریم نے پہلے اللہ کی عبادت کا حکم دیا پھر لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا۔ پھر اچھی باتیں کہنے کا۔ پھر بعض اہم چیزوں کا ذکر بھی کر دیا نماز پڑھو زکوٰۃ دو۔ پھر خبر دی کہ ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور عموماً نافرمان بن گئے مگر تھوڑے سے پابند عہد رہے۔ اس امت کو بھی یہی حکم دیا گیا فرمایا «وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [4۔ النسآء: 36] یعنی ’ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ماں باپ کے ساتھ رشتہ داروں کے ساتھ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، قرابت دار پڑوسیوں کے ساتھ، اجنبی پڑوسیوں کے ساتھ، ہم مشرب مسلک کے ساتھ مسافروں کے ساتھ لونڈی غلاموں کے ساتھ، حسن سلوک احسان اور بھلائی کیا کرو۔
یاد رکھو تکبر اور فخر کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہ یہ امت بہ نسبت اور امتوں کے ان فرمانوں کے ماننے میں اور ان پر عمل پیرا ہونے میں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔ اسد بن وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کو سلام کیا کرتے تھے اور یہ دلیل دیتے تھے کہ فرمان باری ہے «وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ» [2۔ البقرہ: 83] لیکن یہ اثر غریب ہے اور حدیث کے خلاف ہے حدیث میں صاف موجود ہے کہ یہود نصاریٰ کو ابتداً سلام علیک نہ کیا کرو۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2167] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فهذه الشرائع من أصول الدين التي أمر الله بها في كل شريعة لاشتمالها على المصالح العامة في كل زمان ومكان؛ فلا يدخلها نسخ، كأصل الدين، ولهذا أمرنا الله بها في قوله: {واعبدوا الله ولا تشركوا به شيئاً}؛ إلى آخر الآية.
فقوله: {وإذ أخذنا ميثاق بني إسرائيل}؛ هذا من قسوتهم أن كل أمر أمروا به استعصوا، فلا يقبلونه إلا بالأيمان الغليظة والعهود الموَثَّقة {لا تعبدون إلا الله}؛ هذا أمر بعبادة الله وحده ونهي عن الشرك به، وهذا أصل الدين فلا تقبل الأعمال كلها إن لم يكن هذا أساسها، فهذا حق الله تعالى على عباده، ثم قال: {وبالوالدين إحساناً}؛ أي أحسنوا بالوالدين إحساناً، وهذا يعم كل إحسان قولي وفعلي مما هو إحسان إليهم، وفيه النهي عن الإساءة إلى الوالدين أو عدم الإحسان والإساءة؛ لأن الواجب الإحسان، والأمر بالشيء نهي عن ضده، وللإحسان ضدان: الإساءة وهي أعظم جرماً، وترك الإحسان بدون إساءة وهذا محرم لكن لا يجب أن يلحق بالأول.
وكذا يقال في صلة الأقارب واليتامى والمساكين، وتفاصيل الإحسان لا تنحصر بالعد بل تكون بالحد كما تقدم. ثم أمر بالإحسان إلى الناس عموماً فقال: {وقولوا للناس حسناً}؛ ومن القول الحسن أمرهم بالمعروف ونهيهم عن المنكر وتعليمهم العلم وبذل السلام والبشاشة وغير ذلك من كل كلام طيب، ولما كان الإنسان لا يسع الناس بماله أُمر بأمر يقدر به على الإحسان إلى كل مخلوق وهو الإحسان بالقول، فيكون في ضمن ذلك النهي عن الكلام القبيح للناس حتى للكفار، ولهذا قال تعالى: {ولا تجادلوا أهل الكتاب إلا بالتي هي أحسن}؛ ومن أدب الإنسان الذي أدب الله به عباده أن يكون الإنسان نزيهاً في أقواله وأفعاله، غير فاحش ولا بذيء ولا شاتم ولا مخاصم، بل يكون حسن الخلق واسع الحلم، مجاملاً لكلِّ أحد، صبوراً على ما يناله من أذى الخلق امتثالاً لأمر الله ورجاءً لثوابه.
ثم أمرهم بإقامة الصلاة وإيتاء الزكاة لما تقدم أن الصلاة متضمنة للإخلاص للمعبود، والزكاة متضمنة للإحسان إلى العبيد، ثم بعد هذا الأمر لكم بهذه الأوامر الحسنة التي إذا نظر إليها البصير العاقل، عرف أن من إحسان الله على عباده أن أمرهم بها وتفضل بها، عليهم وأخذ المواثيق عليكم {توليتم}؛ على وجه الإعراض؛ لأن المتولي قد يتولى وله نية رجوع إلى ما تولى عنه، وهؤلاء ليس لهم رغبة ولا رجوع في هذه الأوامر، فنعوذ بالله من الخذلان. وقوله: {إلا قليلاً منكم}؛ هذا استثناء؛ لئلا يوهم أنهم تولوا كلهم، فأخبر أن قليلاً منهم عصمهم الله وثبتهم.