وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ لَا تَسۡفِکُوۡنَ دِمَآءَکُمۡ وَ لَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۸۴﴾
اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا کہ تم اپنے خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نکالو گے، پھر تم نے اقرار کیا اور تم خود شہادت دیتے ہو۔
En
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کر لیا، اور تم (اس بات کے) گواہ ہو
En
اورجب ہم نے تم سے وعده لیا کہ آپس میں خون نہ بہانا (قتل نہ کرنا) اور آپس والوں کو جلا وطن نہ کرنا، تم نے اقرار کیا اور تم اس کے شاہد بنے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 85،84) ➊ ”ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نہیں نکالو گے “ کے بجائے فرمایا کہ ”تم اپنے خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نکالو گے“کیونکہ امت مسلمہ کے افراد ایک جسم کی طرح ہیں، کسی بھی مسلم کا خون بہانا اپنا خون بہانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِيْ تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَ تَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَي مِنْهٗ عُضْوٌ تَدَاعٰي لَهٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰی] ”تمام مومن اپنی باہمی دوستی، ایک دوسرے پر رحم اور ایک دوسرے پر شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کی خاطر سارا جسم بیدار رہتا ہے اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ [مسلم، البروالصلۃ، باب تراحم المؤمنین …: ۲۶۲۶، عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما۔ بخاری: ۶۰۱۱] «وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ» میں { ”هُوَ“ } ضمیر شان ہے جس کا ترجمہ ” اصل یہ ہے“ کیا گیا ہے۔
➋ دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ان سے چار عہد لیے گئے تھے: (1) ایک دوسرے کا خون نہ بہانا۔ (2) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالنا۔ (3) ایک دوسرے کے خلاف مدد نہ کرنا۔ (4) قیدی کو فدیہ دے کر چھڑا لینا، مگر وہ صرف فدیہ پر عمل کرتے اور باقی تین کی مخالفت کرتے اور بلا جھجک ان کا ارتکاب کرتے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہود کے تین قبیلے تھے: بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ، یہ اہل کتاب تھے۔ مدینہ کے عرب قبائل اوس اور خزرج بت پرست مشرک تھے، انھیں کسی آسمانی دین سے سروکار نہ تھا، یہود کے ان قبائل سے حلیفانہ تعلقات تھے۔ بنو قینقاع اور بنونضیر خزرج کے حلیف تھے اور بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے۔ اوس اور خزرج کی آپس میں جنگ رہا کرتی تھی اور یہودی قبائل اس میں اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور مقابلے میں آنے والے مشرک قبیلے کے آدمیوں کے علاوہ ان کا ساتھ دینے والے اپنے یہودی بھائیوں کو بھی قتل کرتے، ان کے گھر بھی لوٹ لیتے، پھر جب لڑائی ختم ہوتی اور کچھ یہودی قید ہو کر غالب قبیلے کے پاس آتے تو غالب قبیلے کے حلیف یہودی خود ہی ان کا فدیہ دے کر انھیں چھڑوا دیتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ کی کتاب کا حکم ہے کہ اپنے قیدی بھائیوں کو چھڑواؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمھیں فدیہ دے کر چھڑوانے کا حکم تو یاد رہا، مگر اپنے بھائیوں کے خلاف دوسرے کی مدد نہ کرنے، ان کا خون نہ بہانے اور انھیں گھروں سے نہ نکالنے کا حکم یاد نہ رہا، جس پر تم عمل کرتے تو فدیے کی نوبت ہی نہ آتی۔ گویا تم اللہ کی کتاب کے جس حکم کو اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہو مان لیتے ہو اور جو اپنی مرضی کے مطابق نہ ہو اس کی پروا نہیں کرتے، اگر تم واقعی اللہ کی کتاب پر چلتے ہو تو چاروں حکم مانو۔
➌ { اِلَّا خِزْيٌ:} یہودیوں کو دنیا کی زندگی میں جلد ہی رسوائی دیکھنا پڑی کہ بنو نضیر اور بنو قینقاع جلا وطن ہوئے اور بنو قریظہ کے بالغ مرد قتل ہوئے، بچے اور عورتیں لونڈی و غلام بنے، پھر آخرت کے عذاب کا تو دنیاوی عذاب سے کچھ موازنہ ہی نہیں۔
➍ افسوس! اس وقت اکثر مسلمانوں کا حال بعینہ وہی ہو گیا ہے جو اہل کتاب کا تھا کہ انھوں نے اسلام کے اپنی مرضی کے چند احکام پر عمل کیا اور باقی کو بھلا دیا، مثلاً مسلمان خنزیر کا گوشت کھانا تو درکنار اس کا نام لینے سے بھی اجتناب کرتے ہیں، جب کہ سود اور جوئے (انشورنس وغیرہ) سے انھیں کچھ پرہیز نہیں، بلکہ ان کے کاروبار کی بنیاد ہی ان کاموں پر ہے۔ وہ قبلے کی طرف منہ کرکے پیشاب نہیں کرتے، مگر انھیں نماز سے کچھ سروکار نہیں۔ وہ جھٹکے والی مرغی (جسے شرعی طریقے سے حلال نہ کیا گیا ہو) کھانے سے یورپ اور امریکہ میں جا کر بھی اجتناب کرتے ہیں، مگر شراب اور حرام شباب سے انھیں پرہیز نہیں۔ وہ اپنے آپ کو امت مسلمہ کا فرد کہتے ہیں، پھر کفار کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائیوں کو قتل اور ان کے گھروں اور شہروں کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں ذلت کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے، رہا آخرت کا معاملہ تو کتاب کے بعض پر ایمان (یعنی اس پر عمل) اور بعض کے ساتھ کفر (یعنی اس کی مخالفت کرنا) اہلِ کتاب کو{ ”اَشَدِّ الْعَذَابِ“} سے نہیں بچا سکا تو موجودہ مسلمانوں کو اس سے کیسے بچائے گا؟
➋ دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ان سے چار عہد لیے گئے تھے: (1) ایک دوسرے کا خون نہ بہانا۔ (2) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالنا۔ (3) ایک دوسرے کے خلاف مدد نہ کرنا۔ (4) قیدی کو فدیہ دے کر چھڑا لینا، مگر وہ صرف فدیہ پر عمل کرتے اور باقی تین کی مخالفت کرتے اور بلا جھجک ان کا ارتکاب کرتے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہود کے تین قبیلے تھے: بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ، یہ اہل کتاب تھے۔ مدینہ کے عرب قبائل اوس اور خزرج بت پرست مشرک تھے، انھیں کسی آسمانی دین سے سروکار نہ تھا، یہود کے ان قبائل سے حلیفانہ تعلقات تھے۔ بنو قینقاع اور بنونضیر خزرج کے حلیف تھے اور بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے۔ اوس اور خزرج کی آپس میں جنگ رہا کرتی تھی اور یہودی قبائل اس میں اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور مقابلے میں آنے والے مشرک قبیلے کے آدمیوں کے علاوہ ان کا ساتھ دینے والے اپنے یہودی بھائیوں کو بھی قتل کرتے، ان کے گھر بھی لوٹ لیتے، پھر جب لڑائی ختم ہوتی اور کچھ یہودی قید ہو کر غالب قبیلے کے پاس آتے تو غالب قبیلے کے حلیف یہودی خود ہی ان کا فدیہ دے کر انھیں چھڑوا دیتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ کی کتاب کا حکم ہے کہ اپنے قیدی بھائیوں کو چھڑواؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمھیں فدیہ دے کر چھڑوانے کا حکم تو یاد رہا، مگر اپنے بھائیوں کے خلاف دوسرے کی مدد نہ کرنے، ان کا خون نہ بہانے اور انھیں گھروں سے نہ نکالنے کا حکم یاد نہ رہا، جس پر تم عمل کرتے تو فدیے کی نوبت ہی نہ آتی۔ گویا تم اللہ کی کتاب کے جس حکم کو اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہو مان لیتے ہو اور جو اپنی مرضی کے مطابق نہ ہو اس کی پروا نہیں کرتے، اگر تم واقعی اللہ کی کتاب پر چلتے ہو تو چاروں حکم مانو۔
➌ { اِلَّا خِزْيٌ:} یہودیوں کو دنیا کی زندگی میں جلد ہی رسوائی دیکھنا پڑی کہ بنو نضیر اور بنو قینقاع جلا وطن ہوئے اور بنو قریظہ کے بالغ مرد قتل ہوئے، بچے اور عورتیں لونڈی و غلام بنے، پھر آخرت کے عذاب کا تو دنیاوی عذاب سے کچھ موازنہ ہی نہیں۔
➍ افسوس! اس وقت اکثر مسلمانوں کا حال بعینہ وہی ہو گیا ہے جو اہل کتاب کا تھا کہ انھوں نے اسلام کے اپنی مرضی کے چند احکام پر عمل کیا اور باقی کو بھلا دیا، مثلاً مسلمان خنزیر کا گوشت کھانا تو درکنار اس کا نام لینے سے بھی اجتناب کرتے ہیں، جب کہ سود اور جوئے (انشورنس وغیرہ) سے انھیں کچھ پرہیز نہیں، بلکہ ان کے کاروبار کی بنیاد ہی ان کاموں پر ہے۔ وہ قبلے کی طرف منہ کرکے پیشاب نہیں کرتے، مگر انھیں نماز سے کچھ سروکار نہیں۔ وہ جھٹکے والی مرغی (جسے شرعی طریقے سے حلال نہ کیا گیا ہو) کھانے سے یورپ اور امریکہ میں جا کر بھی اجتناب کرتے ہیں، مگر شراب اور حرام شباب سے انھیں پرہیز نہیں۔ وہ اپنے آپ کو امت مسلمہ کا فرد کہتے ہیں، پھر کفار کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائیوں کو قتل اور ان کے گھروں اور شہروں کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں ذلت کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے، رہا آخرت کا معاملہ تو کتاب کے بعض پر ایمان (یعنی اس پر عمل) اور بعض کے ساتھ کفر (یعنی اس کی مخالفت کرنا) اہلِ کتاب کو{ ”اَشَدِّ الْعَذَابِ“} سے نہیں بچا سکا تو موجودہ مسلمانوں کو اس سے کیسے بچائے گا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2۔ ان آیات میں پھر وہ عہد بیان کیا جارہا ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا، لیکن اس سے بھی انہوں نے اعراض ہی کیا۔ اس عہد میں اولا صرف ایک اللہ کی عبادت کی تاکید ہے جو ہر نبی کی بنیادی اور اولین دعوت رہی ہے (جیسا کہ سورة الانبیاء آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21:25 اور دیگر آیات سے واضح ہے) اس کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے اللہ کی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کی اطاعت و فرمانبرداری اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید سے واضح کردیا گیا کہ جس طرح اللہ کی عبادت بہت ضروری ہے اسی طرح اس کے بعد والدین کی اطاعت بھی بہت ضروری ہے اور اس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کی اطاعت کا ذکر کرکے اس کی اہمیت کو واضح کردیا ہے اس کے بعد رشتے دارون، یتیموں اور مساکین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور حسن گفتار کا حکم ہے۔ اسلام میں بھی ان باتوں کی بڑی تاکید ہے، جیسا کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح ہے۔ اس عہد میں اقامت صلوۃ اور ایتائے زکوٰۃ کا بھی حکم ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں عبادتیں پچھلی شریعتوں میں بھی موجود رہی ہیں۔ جن سے ان کی اہمیت واضح ہے۔ اسلام میں بھی یہ دونوں عبادتیں نہایت اہم ہیں حتی کہ ان میں سے کسی ایک کے انکار یا اس سے اعراض کو کفر کے مترادف سمجھا گیا ہے۔ جیسا کہ ابوبکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کرنے سے واضح ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
84۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ تم آپس میں خونریزی نہ کرو گے اور نہ اپنے بھائی بندوں کو ان کے گھروں سے جلا وطن کرو گے۔ پھر تم نے ان باتوں کا اقرار کیا تھا اور اس چیز کی تم خود گواہی بھی دیتے ہو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اوس و خزرج اور دیگر قبائل کو دعوت اتحاد ٭٭
اوس اور خزرج انصار مدینہ کے دو قبیلے تھے اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کی آپس میں کبھی بنتی نہ تھی ہمیشہ آپس میں جنگ و جدال رہتا تھا۔ مدینے کے یہودیوں کے بھی تین قبیلے تھے بنی قینقاع بنو نضیر اور بنو قریظہ، بنو قینقاع اور بنی نضیر تو خزرج کے طرف دار اور ان کے بھائی بند بنے ہوئے تھے، بنی قریظہ کا بھائی چارہ اوس کے ساتھ تھا۔ جب اوس و خزرج میں جنگ ٹھن جاتی تو یہودیوں کے یہ تینوں گروہ بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ان سے مل کر ان کے دشمن سے لڑتے، دونوں طرف کے یہودی یہودیوں کے ہاتھ مارے بھی جاتے اور موقعہ پا کر ایک دوسرے کے گھروں کو بھی اجاڑ ڈالتے، دیس نکالا بھی دے دیا کرتے تھے اور مال و دولت پر بھی قبضہ کر لیا کرتے تھے۔ جب لڑائی موقوف ہوتی تو مغلوب فریق کے قیدیوں کا فدیہ دے کر چھڑا لیتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہم میں سے جب کوئی قید ہو جائے تو ہم فدیہ دے کر چھڑا لیں اس پر جناب باری تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ اس کی کیا وجہ کہ میرے اس ایک حکم کو تو تم نے مان لیا لیکن میں نے کہا تھا کہ آپس میں کسی کو قتل نہ کرو گھروں سے نہ نکالو اسے کیوں نہیں مانتے؟ کسی حکم پر ایمان لانا اور کسی کے ساتھ کفر کرنا یہ کہاں کی ایمانداری ہے؟
آیت میں فرمایا کہ اپنے خون نہ بہاؤ اور اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نہ نکالو یہ اس لیے کہ ہم مذہب سارے کے سارے ایک جان کے مانند ہیں حدیث میں بھی ہے کہ تمام ایماندار دوستی، اخوت، صلہ رحمی اور رحم و کرم میں ایک جسم کے مثل ہیں کسی ایک عضو کے درد سے تمام جسم بیتاب ہو جاتا ہے بخار چڑھ جاتا ہے راتوں کی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:6011
] اسی طرح ایک ادنیٰ مسلمان کے لیے سارے جہان کے مسلمانوں کو تڑپ اٹھنا چاہیئے۔
آیت میں فرمایا کہ اپنے خون نہ بہاؤ اور اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نہ نکالو یہ اس لیے کہ ہم مذہب سارے کے سارے ایک جان کے مانند ہیں حدیث میں بھی ہے کہ تمام ایماندار دوستی، اخوت، صلہ رحمی اور رحم و کرم میں ایک جسم کے مثل ہیں کسی ایک عضو کے درد سے تمام جسم بیتاب ہو جاتا ہے بخار چڑھ جاتا ہے راتوں کی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:6011
] اسی طرح ایک ادنیٰ مسلمان کے لیے سارے جہان کے مسلمانوں کو تڑپ اٹھنا چاہیئے۔
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم سلمان بن ربیعہ رحمہ اللہ کی ماتحتی میں“ بلنجر“ میں جہاد کر رہے تھے محاصرہ کے بعد ہم نے اس شہر کو فتح کیا جس میں بہت سے قیدی بھی ملے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما نے ان میں سے ایک یہودیہ لونڈی کو سات سو میں خریدا۔ راس الجالوت کے پاس جب ہم پہنچے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اس کے پاس گئے اور فرمایا یہ لونڈی تیری ہم مذہب ہے میں نے اسے سات سو میں خریدا ہے اب تم اسے مجھ سے خرید لو اور آزاد کر دو اس نے کہا بہت اچھا میں چودہ سو دیتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو چار ہزار سے کم نہیں بیچوں گا اس نے کہا پھر میں نہیں خریدتا آپ رضی اللہ عنہ نے کہا سن یا تو تو اسے خرید ورنہ تیرا دین جاتا رہے گا توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ بنو اسرائیل کا کوئی بھی شخص گرفتار ہو جائے تو اسے خرید کر آزاد کیا کرو۔ اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو فدیہ دے کر چھڑا لیا کرو اور انہیں ان کے گھر سے بےگھر بھی نہ کیا کرو اب یا تو توراۃ کو مان کر اسے خرید یا توراۃ کا منکر ہونے کا اقرار کر! وہ سمجھ گیا اور کہنے لگا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم شاید عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں چنانچہ وہ چار ہزار لے آیا آپ رضی اللہ عنہ نے دو ہزار لے لیے اور دو ہزار لوٹا دیئے۔
بعض روایتوں میں ہے کہ راس الجالوت کوفہ میں تھا یہ ان لونڈیوں کا فدیہ نہیں دیتا تھا جو عرب سے نہ بچی ہوں اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے توراۃ کی یہ آیت سنائی غرض آیت میں یہودیوں کی مذمت ہے کہ وہ احکام الٰہیہ کو جانتے ہوئے پھر بھی پس پشت ڈال دیا کرتے تھے امانت داری اور ایمانداری ان سے اٹھ چکی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش جائے ہجرت وغیرہ وغیرہ سب چیزیں ان کی کتاب میں موجود تھیں لیکن یہ ان سب کو چھپائے ہوئے تھے اور اتنا ہی نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے تھے اسی باعث ان پر دنیوی رسوائی آئی اور کم نہ ہونے والے اور دائمی آخرت کا عذاب بھی۔